وزارات ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

تاریخی عمارتوں کا تحفظ اور دیکھ بھال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 FEB 2026 3:18PM by PIB Delhi

ثقافت اور سیاحت کے مرکزی وزیرجناب  گجیندر سنگھ شیخاوت نے آج راجیہ سبھا میں تحریری جواب میں بتایا کہ  ملک بھر میں قدیم یادگاروں اور آثارِ قدیمہ کے مقامات و باقیات ایکٹ، 1958 (اے ایم اے ایس آر ایکٹ، 1958) کے تحت مجموعی طور پر 3686 محفوظ یادگاریں اور محفوظ علاقے (مقامات) قرار دیے گئے ہیں۔ ہر یادگار سے متعلق نوٹیفکیشن اور ان کی تاریخیں سرکاری گزٹ کے ذریعے جاری کی گئی ہیں، جو عوامی سطح پر مثلاً ای-گزٹ (https://egazette.gov.in)، ابھیلیکھ پٹّل (https://www.abhilekh-patal.in) ، نیز مرکزی اور ریاستی آرکائیوز وغیرہ پردستیاب ہیں۔

ان یادگاروں کے اطراف ممنوعہ اور منضبط علاقوں میں غیر مجاز تعمیرات کے واقعات مختلف مقامات پر سامنے آئے ہیں۔ ایسے معاملات میں قانون اور متعلقہ قواعد کے مطابق کارروائی کی گئی ہے، جس میں نوٹس جاری کرنا، تعمیرات کو روکنا، غیر قانونی ڈھانچوں کو مسمار کرنا اور مزید خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مقامی انتظامیہ کے ساتھ تال میل شامل ہے۔

اس وقت کوئی بھی محفوظ یادگاریا محفوظ علاقہ (مقام) ناقابلِ شناخت نہیں ہے۔

جہاں سیاحوں کی آمد زیادہ ہوتی ہے، وہاں منتخب یادگاروں پر ثقافتی معلوماتی بورڈز (سی این بی) نصب کیے گئے ہیں۔ یہ بورڈز بعض اوقات مختلف وجوہات کی بنا پر خراب ہو جاتے ہیں یا وقت کے ساتھ ان پر درج معلومات ماند پڑ جاتی ہیں۔ ضرورت کے مطابق ان بورڈز کی فراہمی ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔

3686 محفوظ یادگاروں اور محفوظ علاقوں (مقامات) میں سے صرف 143 پر داخلہ فیس لاگو ہے۔ محفوظ یادگاروں اور محفوظ علاقوں کی تحفظ اور مرمت کا عمل آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ذریعے ضرورت اور تقاضے کے مطابق، دستیاب فنڈز اور وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اور قومی پالیسی برائے تحفظ کے تحت مسلسل انجام دیا جاتا ہے۔ اس عمل میں ٹکٹ والی اور بغیر ٹکٹ والی دونوں قسم کی یادگاریں شامل ہیں۔ تحفظ یا مرمت کی ضرورت کی بنیاد پر یادگاروں کی کوئی علیحدہ درجہ بندی موجود نہیں ہے۔

تمام محفوظ یادگاریں اور محفوظ علاقے یکساں طور پر اے ایم اے ایس آر ایکٹ، 1958 کی دفعات کے تحت نافذ قوانین کے پابند ہیں۔

*****

ش ح۔ک ح۔ ن م

U-1800      


(ریلیز آئی ڈی: 2224378) وزیٹر کاؤنٹر : 4