ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمنٹ کا سوال: ہماچل پردیش میں ڈوپلر ویدر ریڈار کی کوریج
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 FEB 2026 11:41AM by PIB Delhi
فی الوقت ملک بھر میں ، 47 ڈی ڈبلیو آر ایس کام کر رہے ہیں جن میں سے 3 ہماچل پردیش میں (کفری، جوٹ، اور مراری دیوی میں) ہیں جو ملک کے کل رقبے کا 87 فیصد ریڈار کوریج کے تحت آتا ہے۔ مزید برآں، زمینی سائنس کی وزارت ( ایم او ای ایس) نے ہندوستان کو ایک- ‘ویدر ریڈی اینڈ کلائمیٹ اسمارٹ’- موسم کے لیے تیار اور آب و ہوا کے لحاظ سے اسمارٹ ملک بنانے کے مقصد کے ساتھ مشن موسم کا آغاز کیا، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں اور انتہائی موسمی واقعات کے اثرات کو کم کرنا ہے۔
فی الحال، موبائل پر مبنی الرٹ سسٹم کام کر رہا ہے، جو ایس اے سی ایچ ای ٹی- سچیٹ پلیٹ فارم کے ذریعے کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) الرٹس جاری کر رہا ہے۔ موسم کی پیشین گوئیاں اور انتباہات کو ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز ( ایس ای او سی ایس) کے ساتھ بھی شیئر کیا جاتا ہے تاکہ سی اے پی کے ذریعے عوام تک مزید پھیلایا جا سکے۔ انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی) انتباہات کے پھیلاؤ اور مواصلات کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے) اور سنٹر آف ڈیولپمنٹ آف ٹیلی میٹکس(سی-ڈی او ٹی) کے ساتھ مل کر ضروری اقدامات اور اقدامات کی پیروی کرتا ہے۔ معیاری آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کے مطابق آئی ایم ڈی شدید موسمی واقعات جیسے کہ شدید بارش، آسمانی بجلی، گرج چمک اور دھول کے طوفانوں کے لیے ایس اے سی ایچ ای ٹی- سچیٹ پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) الرٹس تیار کر رہا ہے۔ یہ انتباہات اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے ذریعے جیو ٹارگٹڈ صارفین کو ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجےجاتے ہیں۔ یہ الرٹس ایس اے سی ایچ ای ٹی- سچیٹ ویب سائٹ اور ایس اے سی ایچ ای ٹی- سچیٹ موبائل ایپ کے ذریعے بھی بھیجے جاتے ہیں۔ آئی ایم ڈی کی سی اے پی فیڈز گلوبل ملٹی ہیزرڈ الرٹ سسٹم(جی ایم اے ایس )، گوگل،اکیو ویدر اور اپیل کو بھی بھیجے جاتے ہیں۔
یہ معلومات وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارتھ سائنسز ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 5 فروری 2026 کو ایوان بالا- راجیہ سبھا میں پیش کی تھی۔
*****
ش ح – ظ ا - ن م
UR No. 1694
(ریلیز آئی ڈی: 2223675)
وزیٹر کاؤنٹر : 2