الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

شناخت سے متعلق دھوکہ دہی کی روک تھام کے لئے  وفات پا چکے 2.5 کروڑ سے زیادہ افراد کے  آدھار نمبر غیر فعال کردیئے گئے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 FEB 2026 2:38PM by PIB Delhi

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتین پرساد نے  آج ( 04 فروری ، 2026 ء )   کو لوک سبھا میں  بتایا کہ   تقریبا ً 134 کروڑ زندہ   افراد کے پاس آدھار کارڈ ہے  ۔ اس کے ساتھ  ہی یہ  دنیا کا سب سے بڑا بایو میٹرک شناختی نظام ہے ۔

وفات پا چکے افراد کے آدھار نمبر کو غیر فعال کرنا

ملک گیر سطح  پر آدھار ڈیٹا بیس کی مسلسل درستگی اور سالمیت کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر ، منفرد شناخت سے متعلق بھارتی اتھارٹی (یو آئی ڈی اے آئی) نے   ، اب تک  وفات پا چکے افراد کے  2.5 کروڑ سے زیادہ آدھار نمبروں کو غیر فعال کر دیا ہے ۔

کسی شخص کی موت کی صورت میں ، یہ ضروری ہے کہ اس کا آدھار نمبر  شناخت سے متعلق ممکنہ دھوکہ دہی ، یا فلاحی فوائد حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے آدھار نمبر کے غیر مجاز استعمال کو روکنے کے لیے غیر فعال کر دیا جائے ۔

آدھار ڈیٹا بیس میں آدھار نمبر  کے حامل شخص کے پتے میں مذکور ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے  ، اس ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے سے مختلف ہو سکتے ہیں  ، جہاں  موت درج کی گئی تھی ۔

شناخت  سے متعلق ممکنہ دھوکہ دہی کو روکنے   کے اقدامات

شناخت  سے متعلق دھوکہ دہی کے خطرے کو کم کرنے اور ملک  میں فوائد کی  بغیر کسی خامی کے فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔   یہ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. بایو میٹرک لاک/اَن لاک  کا فیچر آدھار نمبر  کے حامل شخص کو اپنے بایو میٹرک کو  ’’  لاک ‘‘  کرنے کے قابل بناتا ہے ، جس سے  آدھار کی تصدیق کی کسی بھی غیر مجاز کوشش کو روکا جا سکتا ہے ۔
  2. آدھار نمبر  کے حامل شخص کے لیے آدھار لاک/اَن لاک فیچر ۔
  3. دھوکہ دہی کو روکنے اور لین دین کے دوران  ، مستفید  شخص کی جسمانی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے  ’  زندہ رہنے کا پتہ لگانے کے فیچر ‘ کے ساتھ چہرے کی تصدیق کا عمل  ۔
  4. آف لائن تصدیق: آف لائن شناخت کی تصدیق کے لیے آدھار  پر مبنی محفوظ کیو آر کوڈ ،  کاغذ سے مبرا آدھار  کی آف لائن ای-کے وائی سی ، ای-آدھار اور آدھار قابل تصدیق اسناد کو فروغ دینا ۔
  5. منفرد شناخت سے متعلق بھارتی اتھارٹی ( یو آئی ڈی اے آئی  ) کے ذریعے کسی بھی طرح سے آدھار نمبر کے حامل شخص  کی بنیادی بایو میٹرک معلومات کا اشتراک نہیں کیا جائے گا ۔
  6. محفوظ ڈیٹا اسٹوریج: تمام درخواست کرنے والے اداروں کی طرف سے آدھار ڈیٹا والٹس کا لازمی استعمال تاکہ آدھار نمبروں کو خفیہ کردہ شکل میں محفوظ  رکھا  جا سکے ۔
  7. ڈیٹا بیس کی صفائی: متوفی افراد سے تعلق رکھنے والے آدھار نمبروں کی باقاعدگی سے   ڈی ڈپلیکیشن اور غیر فعال کرنا ۔
  8. آدھار نمبر  کے حامل شخص  سے متعلق پوری تفصیلات کو اپ ڈیٹ کرنے کی اجازت صرف یو آئی ڈی اے آئی کے ذریعہ درج کردہ دستاویزات کے مطابق ہے ۔
  9. یو آئی ڈی اے آئی نے ایک نیا آدھار ایپ لانچ کیا ہے  ، جو آدھار نمبر  کے حامل شخص کے ذریعے تصدیق شدہ اسناد کو آف لائن تصدیق طلب کرنے والے اداروں (او وی ایس ای) کے ساتھ محفوظ اور ہموار طریقے سے شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے ۔

 

..................................................... ...................................................

) ش ح –   م ع   -  ع ا )

U.No. 1588

 


(ریلیز آئی ڈی: 2223279) وزیٹر کاؤنٹر : 4