شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

شمال مشرقی علاقوں میں زرعی-جنگلاتی اور بانس پر مبنی اقتصادی کلسٹرز کو مضبوط بنانا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 FEB 2026 2:24PM by PIB Delhi

زرعی-جنگلاتی اور بانس کے شعبوں کی ترقی بنیادی طور پر ریاستی حکومتوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ تاہم،زراعت اورکسانوں کی فلاح و بہبود کی  وزارت، وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی حکومتِ ہند اور وزارتِ شمال مشرقی علاقوں کی ترقی (ڈی او این ای آر) کے ذریعے ریاستوں کی کوششوں کی تکمیل کرتی ہے اور ان شعبوں میں مخصوص منصوبوں کے لیے مدد فراہم کرتی ہے۔

زراعت اورکسانوں کی فلاح و بہبود کی  وزارت کےمطابق، زرعی-جنگلاتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے حکومت پردھان منتری راشتریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم آرکے وی وائی) کے تحت مرکزی امدادیافتہ اسکیم 24-2023  سے نافذ کر رہی ہے۔ یہ اسکیم نرسریوں کے قیام اور مضبوطی، اور معیاری پودے لگانے کا مواد فراہم کرنے پر مرکوز ہے، جس میں بیج، پودے، کلونز، ہائبرڈز اور بہتر اقسام شامل ہیں تاکہ کھیتوں میں درختوں کا احاطہ بڑھایا جا سکے۔یہ اسکیم ملک بھر کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کی جاتی ہے، جن میں شمال مشرقی علاقے بھی شامل ہیں۔ آسام میں نرسری قائم کرنے، تربیت فراہم کرنے، اور مفت پودے تقسیم کرنے کے لیے معاونت فراہم کی گئی ہے، جس میں کاربی انگلانگ اور ڈیما ہاساو اضلاع بھی شامل ہیں۔

یہ اسکیم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یوٹیز) کی جانب سے جمع کرائے گئے سالانہ ایکشن پلانز کے ذریعے چلائی جاتی ہے اور نرسریاں قائم کرنے اور زرعی-جنگلاتی کے نمونہ جات تیار کرنے جیسی سرگرمیوں کی معاونت کرتی ہے۔آسام کو مالی سال 24-2023  تا 25-2024  کے لیے 4.50 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 4.09  کروڑ روپے جاری کیے گئے، جس سے 35 نئی نرسریاں قائم ہوئیں۔ مالی سال26-2025  میں اب تک 5.20  کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں اور 51  نئی نرسریاں قائم کی گئی ہیں۔

سال 24-2023  میں آغاز کے بعد،پی ایم آرکے وی وائی-زرعی-جنگلاتی اسکیم آسام میں اب اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسکیم درختوں پر مبنی زرعی نظامات، بشمول بانس پر مبنی زرعی-جنگلاتی، کے ذریعے آمدنی میں تنوع اور روزگار میں مدد فراہم کرکے تعاون کررہی ہے۔ اسکیم میں درختوں کے پودوں کے ساتھ فصلوں کی شراکت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے، جس سے کسان درختوں کے پودوں کے بڑھنے کے دوران مختصر مدتی آمدنی حاصل کر سکتے ہیں، یوں اقتصادی استحکام بہتر ہوتا ہے اور خطرات کم ہوتے ہیں۔

مزید یہ کہ آسام اسٹیٹ بانس مشن (اے ایس بی ایم) نے وسیع پیمانے پر بانس کے پودے لگانے کی مہمات بھی نافذ کی ہیں، خاص طور پر کاربی انگلانگ اور ڈیما ہاساو اضلاع میں، جو 2019  تا 2026  کے دوران تقریباً 1,585  ہیکٹر رقبے پر محیط ہے۔ اس کے تحت نرسریاں قائم کی گئی ہیں، آگاہی پروگرامز منعقد کیے گئے ہیں اور تقریباً 300  کسانوں کو سائنسی بانس کی کاشت کی تربیت دی گئی ہے۔ایک مطالعے سے دونوں اضلاع میں بانس کے وسیع وسائل کی تصدیق ہوئی، جس سے کلسٹر ڈویلپمنٹ پلاننگ میں مدد ملی۔ مشن نے انٹرپرائز ڈیولپمنٹ میں بھی حصہ لیا، جیسے آسام بانس کانکلیو جیسے پروگرامز کے ذریعے اور بانس کی دیویوں کی چھڑی بنانے والے کلسٹر کی مالی معاونت کی۔اقتصادی اثرات میں6 لاکھ پودے لگانا اور بانس کی زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی تقسیم شامل ہیں، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے،ہنر کی تربیت سے 400 سے زائد شرکاء مستفید ہوئے،1,022 ٹول کٹس کی تقسیم،بانس کی تیار شدہ مصنوعات کو آسام پی ڈبلیو ڈی شیڈول آف ریٹس میں شامل کیا گیا، جس سے مارکیٹ تک رسائی اور بانس کاریگروں کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا۔

شمال مشرقی علاقوں میں بانس پر مبنی اقتصادی کلسٹرز کو مستحکم بنانے کے لیے، وزارت شمال مشرقی علاقوں کی ترقی (ڈی او این ای آر) نے حال ہی میں دو منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ یہ منصوبے روایتی بانس کاریگروں کے کلسٹرز کو مضبوط بنانے، مارکیٹ تک رسائی، مصنوعات کی جدید کاری، اور ڈیجیٹل/ریٹیل ایکو سسٹمز کے ساتھ انضمام کے لیے ہیں، نیز انجینئرڈ بانس مصنوعات کی فروغ، کلسٹر کی مضبوطی اور برآمد کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی ہیں۔ یہ منصوبے کاربی انگلانگ (آسام) اور موکوکچنگ (ناگالینڈ) کو شامل کرتے ہیں اور اس میں جدید پروسیسنگ یونٹس، تصدیق شدہ بانس کے باغات، اور نوجوانوں و کاریگروں کو جدید ٹیکنالوجیز میں تربیت فراہم کرنا شامل ہے۔

مزیدیہ کہ این ای سی بی ڈی سی نے معروف ای-کامرس پارٹنرز کے ساتھ مفاہمت نامے (ایم او یو ایس) پر دستخط کیے ہیں تاکہ شمال مشرق کے بانس مصنوعات قومی اور بین الاقوامی مارکیٹوں تک پہنچ سکیں اور شمال مشرقی بانس مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جا سکے۔

گذشتہ دس برسوں میں، این سی سی اسکیموں کے تحت زرعی-جنگلاتی اور بانس کے شعبے سے متعلق 42 منصوبوں کو 230.31 کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔

یہ معلومات آج ڈاکٹر سکانتا مجم دار، وزیر مملکت برائے وزارت شمال مشرقی علاقوں کی ترقی نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

******

( ش ح ۔ اع خ ۔ م ا )

Urdu.No-1575

 


(ریلیز آئی ڈی: 2223172) وزیٹر کاؤنٹر : 6