خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اسکیم نےمختلف متعلقہ فریقوں کو شامل کر کے ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 FEB 2026 1:24PM by PIB Delhi
بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) اسکیم 22 جنوری 2015 کو شروع کی گئی تھی تاکہ بچوں کےجنسی تناسب (سی ایس آر) اور لڑکیوں و خواتین کے بااختیار بنانے کے مسائل کو زندگی کے مختلف مراحل میں حل کیا جا سکے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اسکیم نےسرکاری ادارے، میڈیا، سول سوسائٹی اور عام لوگوں سمیت مختلف متعلقہ فریقوں کو متحرک کر کے ایک پالیسی اقدام سے قومی تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے۔
نیتی آیوگ نے مالی سال 2019 سے 2024 کے لیے خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت کی اسکیموں کا تیسرے فریق سے جائزہ کا کام انجام دیا۔ اس مطالعے میں پایا گیا کہ مشن شکتی کے ایس اے ایم بی اے ایل وِرٹیکل، جس میں بی بی بی پی شامل ہے، نہ صرف انتہائی متعلقہ ہے بلکہ مربوط اور ڈیٹا پر مبنی خدمات کے ذریعے اہم صنفی چیلنجز کو مؤثر طریقے سے حل کرتا ہے۔ جائزہ میں عملی اور مخلوط طریقہ کار اپنایا گیا، جس میں بنیادی اور ثانوی تحقیق دونوں کو شامل کر کے اسکیموں کا جائزہ لیا گیا۔
صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کے ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق قومی سطح پر پیدائش کا جنسی تناسب (ایس آر بی) 2014-15 میں918 سے بڑھ کر 25-2024 میں929 ہو گیا ہے۔ وزارت تعلیم کے یو ڈی آئی ایس ای ڈیٹا کے مطابق، سیکنڈری سطح پر لڑکیوں کا مجموعی داخلہ تناسب 15-2014 میں 75.51 فیصد سے بڑھ کر 25-2024 میں 80.2 فیصد ہو گیا ہے۔
یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں خواتین و اطفال کی ترقی کی مرکزی وزیر محترمہ ان پورنا دیوی نے ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔
****
ش ح۔ ع ح۔ ش ت
U NO:-1570
(ریلیز آئی ڈی: 2223002)
وزیٹر کاؤنٹر : 6