زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
حکومت زرعی لاگت اور قیمتوں سے متعلق کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر سالانہ 22 فصلوں کے لیے ایم ایس پی طےکرتی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 FEB 2026 8:12PM by PIB Delhi
ہر سال، حکومت ریاستی حکومتوں اور مرکزی وزارتوں/متعلقہ محکموں کی آراء پر غور کرنے کے بعد زرعی لاگت اور قیمتوں کے کمیشن (سی اے سی پی) کی سفارشات کی بنیاد پر پورے ملک کے لیے 22 لازمی زرعی فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمتیں (ایم ایس پی) طے کرتی ہے۔ 22 لازمی فصلوں میں 14 خریف فصلیں یعنی دھان، جوار، باجرہ، مکئی، راگی، تور (ارہر) مونگ، اڑد، مونگ پھلی، سویابین، سورج مکھی، سیسمم، نگرسیڈ، کپاس اور 6 ربیع کی فصلیں یعنی گندم، جو، چنا، مسور (دال)، ریپسیڈ اور سرسوں، زعفران اور دو تجارتی فصلیں یعنی جوٹ اور کھوپراشامل ہیں۔
سال2018-19 کے مرکزی بجٹ میں ایم ایس پی کو پیداواری لاگت کے کم از کم ڈیڑھ گنا کی سطح پر رکھنے کے لیے پہلے سے طے شدہ اصول کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق حکومت نے تمام لازمی خریف، ربیع اور دیگر تجارتی فصلوں کے لیے ایم ایس پی میں سال 2018-19 کے بعد سے پورے ہندوستان میں پیداوار کی اوسط لاگت کے مقابلے میں کم از کم 50 فیصد کے منافع کے ساتھ اضافہ کیا تھا۔
ایم ایس پی میں اضافے سے ملک کے کسانوں کو فائدہ ہوا ہے جو کسانوں سے کی جانے والی خرید اور انہیں ادا کی جانے والی ایم ایس پی کی رقم کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ فصل سال 2022-23 سے 2024-25 تک کسانوں سے کی گئی خریداری اور انہیں ادا کی گئی ایم ایس پی کی رقم کی تفصیلات اس طرح ہیں:
ایم ایس پی فصلوں کی خرید اور ایم ایس پی قدر
|
تمام ایم ایس پی فصلیں
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
|
مجموعی خرید
(ایل ایم ٹی میں)
|
1,118
|
1,089
|
1,223
|
|
مجموعی ایم ایس پی قدر
(لاکھ کروڑ میں)
|
2.47
|
2.63
|
3.47
|
یہ معلومات آج لوک سبھا میں زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت جناب رامناتھ ٹھاکر نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
********
(ش ح۔ک ح ۔م ن)
U. No. 1563
(ریلیز آئی ڈی: 2222941)
وزیٹر کاؤنٹر : 8