جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
حکومت، عالمی شراکت داری کو مضبوط کر رہی ہے تاکہ قابلِ تجدید توانائی، اسٹوریج اور گرڈ کے انضمام کو فروغ دیا جا سکے
پالیسی اورانضباطی اصلاحات، قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کی جدید کاری کو آگے بڑھا رہی ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 FEB 2026 1:32PM by PIB Delhi
نئی اور قابلِ تجدیدتوانائی کی وزارت ، ممکنہ ممالک کے ساتھ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون کرتی ہے، جس میں شمسی توانائی، بادی توانائی، گرین ہائیڈروجن، اسٹوریج، گرڈ انٹیگریشن وغیرہ شامل ہیں۔
یہ تعاون مختلف طریقہ کار کے ذریعے کیا جاتا ہے، جیسے کہ مفاہمت نامے (ایم او یو)، اجازت نامے (ایل او آئی)، مشترکہ ارادے کے اعلامیے(جے ڈی آئی)، توانائی کے مذاکرات اور شراکت داریاں۔ قابلِ تجدید توانائی کے مختلف شعبوں میں تعاون کی شکلوں میں پالیسیوں کا تبادلہ، صلاحیت سازی اور تجربات کا اشتراک، تربیت کے لیے عملے کا تبادلہ، سائنسی معلومات کا تبادلہ، ورکشاپس، سیمینارز اور ورکنگ گروپ اجلاسوں کا انعقاد، اور باہمی دلچسپی کے موضوعات پر مشترکہ تحقیقی یا تکنیکی منصوبوں کی ترقی شامل ہے۔ اس عمل میں شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے غیر ملکی حکومتوں اور نجی صنعتوں کے اہلکاروں کے ساتھ وسیع پیمانے پر بات چیت کی جاتی ہے۔
وزارت اور اس کے ادارے غیر ملکی حکومتوں، اداروں اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون میں ہیں، جن میں آسٹریلیا، بنگلہ دیش، بیلاروس، بھوٹان، برازیل، کینیڈا، چلی، ڈنمارک، ڈومینیکن ریپبلک، مصر، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، گنی، آئس لینڈ، انڈونیشیا، ایران، اٹلی، جاپان، اردن، میکسیکو، نیدرلینڈز، نائجیریا، پیرو، پرتگال، روانڈا، سعودی عرب،ا سکاٹ لینڈ، سیشلز، سویڈن، سری لنکا، تاجکستان، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، یوراگوئے، امریکہ، ازبکستان، بھارت-برازیل-جنوبی افریقہ (آئی بی ایس اے) سہ فریقی فورم اور انٹرنیشنل ری نیو ایبل انرجی ایجنسی (آئی آر ای این اے ) شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے بھارت کی قابلِ تجدید توانائی سے متعلق قوانین، خدمات اور شعبہ جاتی حکمرانی کو جدید بنانے کے لیے کیے گئے اصلاحات کی تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔
- حکومت نے تکنیکی یا عملی بہتری کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
- نئی قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز، اجزاء اور نظام کی تحقیق، ترقی اور مظاہرے کی معاونت۔
- اسٹینڈرڈ اور لیبلنگ پروگرامز کے ذریعے کوالٹی اشورنس کے نظام کا نفاذ۔
- کوالٹی کنٹرول آرڈرز جاری کرنا۔
- سولر پی وی اور ونڈ ٹربائنز کے لیے ماڈلز اور مینوفیکچررز کی منظور شدہ فہرست(اے ایل ایم ایم ) جاری کی گئی۔
گرڈ سے منسلک سولر، ونڈ، ونڈ-سولر ہائبرڈ اور فِرم و ڈسپیچ ایبل ری نیو ایبل انرجی (ایف ڈی آر ای) پروجیکٹس سے توانائی کی خریداری کے لیے ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے عمل کے لیے بولی لگانے کے معیاری رہنما خطوط کا اجرا۔
حکومت نے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں ڈیجیٹلائزیشن، ماحول کے لیے سازگار اختراع اور پائیدار طریقوں کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں پی ایم سوریا گھر: مفت بجلی یوجنا اور پی ایم -کسم اسکیموں کے تحت ڈیجیٹل ایپلیکیشن اور منصوبہ نگرانی کے پلیٹ فارمز کو اپنانا اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی بہتر سائٹ سلیکشن اور آپٹیمائزیشن کے لیے جدید وسائل کے جائزے، ڈیجیٹل میپنگ اور جیو اسپیشل ٹولز کا استعمال شامل ہے۔اس کے علاوہ، عملی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، آسان انضباطی اور معیار شامل ہیں، جو قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی طویل مدتی پائیداری اور مضبوطی کو بہتر بنانے کے لیے ہیں۔
ضمیمہ
بھارت کی قابلِ تجدید توانائی سے متعلق ، خدمات اور شعبہ جاتی حکمرانی کو جدید بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اصلاحات:
- ایم این آر ای نے قابلِ تجدید توانائی کے نفاذ کرنے والے اداروں (آر ای آئی ایز) [جیسے سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ(ایس ای سی آئی)،این ٹی پی سی لمیٹڈ،این ایچ پی سی لمیٹڈ،ایس جے وی این لمیٹڈ] کی جانب سے مالی سال 2023-24 سے مالی سال 2027-28 تک جی ڈبلیو 50 /سال کی ری پاور خریداری کی بولیوں کے اجرا کے لیے بڈنگ ٹراجیکٹری جاری کیا گیا ہے۔
- خودکار طریقہ کار کے تحت غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) کو 100 فیصد تک اجازت دی گئی ہے۔
- قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے انٹر اسٹیٹ ٹرانسمیشن سسٹم(آئی ایس ٹی ایس) چارجز کی چھوٹ دی گئی ہے۔
- قابلِ تجدید توانائی کی کھپت کا فریضہ (آر سی او) ٹراجیکٹری 30-2029 تک نوٹیفائی کر دی گئی ہے۔
- گرڈ سے منسلک سولر، بادی، ونڈ-سولر ہائبرڈ اور فرم اورسپیچ ایبل ری نیو ایبل (ایف ڈی آر ای) پروجیکٹس سے توانائی کی خریداری کے لیے ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے عمل کے لیے بولی لگانے کے معیاری رہنماخطوط جاری کیاگیا ہے ۔
- سولر پارکس اور الٹرا میگا سولر پاور پروجیکٹس کے قیام کے لیے اسکیم نافذ کی جا رہی ہے تاکہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبہ سازوں کو زمین اور ٹرانسمیشن کی سہولت فراہم کی جا سکے اور بڑے پیمانے پر ری نیو ایبل توانائی کے منصوبے نصب کیے جا سکیں۔
- گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت قابلِ تجدید توانائی کی برقی طاقت کی ترسیل کے لیے نئی ٹرانسمیشن لائنز بچھانے اور نئے سب اسٹیشن کی صلاحیت پیدا کرنے کے اقدامات کو مالی معاونت فراہم کی گئی۔
- الیکٹرسٹی (حقوق صارفین) ضوابط، 2020 جاری کیے گئے، جو نیٹ میٹرنگ کو پانچ سو کلوواٹ تک یا برقی منظور شدہ لوڈ تک، جو بھی کم ہو، کی اجازت دیتے ہیں۔
- ونڈ پاور پروجیکٹس کے لیے نیشنل ری پاورنگ اور لائف ایکسٹینشن پالیسی، 2023 جاری کی گئی۔
- آف شور ونڈ انرجی لیز رولز، 2023 وزارت خارجہ کے نوٹیفیکیشن مورخہ 19 دسمبر 2023 کے ذریعے نوٹیفائی کیے گئے تاکہ آف شور علاقوں کے لیز کی فراہمی کو ریگولیٹ کیا جا سکے اور آف شور ونڈ انرجی پروجیکٹس کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
- سولر فوٹو وولٹک ماڈیولز اور گرڈ سے منسلک سولر انورٹرز کے لیے اسٹینڈرڈ اور لیبلنگ (ایس اینڈ ایل) پروگرامز شروع کیے گئے۔
- الیکٹرسٹی (لیٹ پیمنٹ سرچارج اور متعلقہ امور) ضوابط (ایل پی ایس رولز) نوٹیفائی کیے گئے۔
- الیکٹرکٹی (گرین انرجی اوپن ایکسیس کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینا) ضوابط، 2022 مورخہ 06 جون 2022 کو نوٹیفائی کیے گئے، جس کا مقصد سب کے لیے سستی، قابلِ اعتماد اور پائیدار گرین انرجی تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ گرین انرجی اوپن ایکسیس کسی بھی صارف کو اجازت ہے جس کا کنٹریکٹ ڈیمانڈ 100 کلوواٹ یا اس سے زیادہ ہو، چاہے ایک یا متعدد کنکشنز کے ذریعے، بشرطیکہ یہ سب ایک ہی ڈسٹری بیوشن لائسنس ہولڈر کے بجلی ڈویژن میں ہوں اور کل ڈیمانڈ 100 کلوواٹ یا اس سے زیادہ ہو۔
- گرین ٹرم اہیڈ مارکیٹ(جی ٹی اے ایم) لانچ کیا گیا تاکہ ایکسچینجز کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کی فروخت کو آسان بنایا جا سکے۔
- حکومت نے احکامات جاری کیے ہیں کہ توانائی کی ترسیل لیٹر آف کریڈٹ(ایل سی) یا ایڈوانس پیمنٹ کے ذریعے کی جائے تاکہ ڈسٹری بیوشن لائسنس ہولڈرز کی جانب سے قابلِ تجدید توانائی کے جنریٹرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔
یہ جانکاری نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے وزیر مملکت جناب شری پدیسونائک نے راجیہ سبھا میں تحریری جواب کی شکل میں فراہم کیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ع ح۔ت ا
U-1494
(ریلیز آئی ڈی: 2222569)
وزیٹر کاؤنٹر : 10