جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زیرِ زمین پانی کی آلودگی کے لیے اصلاحی عملی منصوبے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 FEB 2026 4:26PM by PIB Delhi

جل شکتی کے  وزیرِ مملکت  جناب راج بھوشن چودھری نےآج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) اپنے معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) کے تحت زیرِ زمین پانی کے معیار کی نگرانی کے پروگرام اور مختلف سائنسی مطالعات کے ذریعے ملک بھر میں علاقائی سطح پر زیرِ زمین پانی کے معیار سے متعلق ڈیٹا تیار کرتا ہے۔

سال 2024 کے دوران، سی جی ڈبلیو بی نے زیرِ زمین پانی کے معیار کے ہاٹ اسپاٹس کی نگرانی کا عمل انجام دیا تاکہ آلودگی کے پھیلاؤ اور اس کی جغرافیائی وسعت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس سرگرمی کا مقصد مقامی سطح پر آلودہ علاقوں کی نشاندہی کرنا اور ارد گرد کے علاقوں میں آلودگی کے پھیلاؤ کی حد کو سمجھنا تھا۔

سی جی ڈبلیو بی نے مختلف اقسام کے آلودگی پیدا کرنے والے عناصر سے متاثرہ زیرِ زمین پانی کے لیے متعدد اصلاحی اقدامات کی سفارش کی ہے، جنہیں سالانہ زیرِ زمین پانی کے معیار کی رپورٹس، این ای کیو یو آئی ایم مطالعاتی رپورٹس، ریاستی و ضلع انتظامیہ کو جاری کردہ ہدایات اور تربیتی و عوامی آگاہی پروگراموں کے ذریعے عام کیا جاتا ہے۔ سی جی ڈبلیو بی نے آرسینک اور فلورائیڈ سے محفوظ کنویں تعمیر کرنے کی تکنیکیں بھی تیار کی ہیں، جو ریاستی حکومتوں کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں تاکہ انہیں وسیع پیمانے پر نافذ کیا جا سکے۔

جل جیون مشن، حکومتِ ہند کی جانب سے 2019 سے ریاستوں کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک کے ہر دیہی کنبے کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکیم پورے ملک کا احاطہ کرتی ہے، نہ کہ صرف پانی کے معیار سے متاثرہ علاقوں کا۔ تاہم، پانی کے معیار سے متاثرہ بستیوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنا جل جیون مشن کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں  کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پانی کے معیار کے مسائل سے دوچار گاؤوں کے لیے محفوظ پانی کے ذرائع، جیسے سطحی پانی کے وسائل یا متبادل محفوظ زیرِ زمین پانی کے ذرائع، کی بنیاد پر بلک واٹر ٹرانسفر پر مبنی پائپ لائن پانی کی فراہمی کے منصوبے تیار کریں اور نافذ کریں۔

پانی کی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت اور دیگر شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں دو بڑے آلودہ کاروں،یعنی آرسینک اور فلورائیڈ سے متاثرہ بستیوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ریاستوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اگست 2019 سے جنوری 2026 کے دوران ملک میں آرسینک سے متاثرہ بستیوں کی تعداد 14,020 سے کم ہو کر 314 اور فلورائیڈ سے متاثرہ بستیوں کی تعداد 7,996 سے کم ہو کر 245 رہ گئی ہے۔ ان باقی ماندہ بستیوں کو بھی کمیونٹی واٹر پیوریفائر پلانٹس (سی ڈبلیو پی پی) کے ذریعے صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کر دیا گیا ہے۔

زیرِ زمین پانی میں نائٹریٹ کی موجودگی عموماً زمین کی سطح پر یا اس کے قریب موجود نائٹروجن کے ذرائع سے پیدا ہوتی ہے، جہاں نائٹروجن سے بھرپور فضلہ جمع ہوتا ہے۔ بہت سے معاملات میں نائٹریٹ کی زیادہ مقدار زرعی کھیتوں میں استعمال ہونے والی کھادوں، جانوروں کے فضلے یا دیگر نائٹروجن پر مشتمل باقیات کے رساؤ (لیچنگ) کے نتیجے میں سامنے آتی ہے۔

اسی تناظر میں، سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) نے سفارش کی ہے کہ زیرِ زمین پانی کا بہتر ریچارج نائٹریٹ کی آلودگی کو کم کرنے میں تخفيفی اثر  کے ذریعے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ بالائی مٹی کی تہوں میں نائٹریٹ کے اخراج کو کم کرنے کے اقدامات بھی ساتھ ساتھ کیے جائیں۔ مزید برآں، حکومتِ ہند مٹی کے ہیلتھ  کارڈ  پر مبنی سفارشات کے مطابق کھادوں کے متوازن اور محتاط استعمال کے تصور کو فروغ دے رہی ہے۔ مٹی کی صحت اور زرخیزی کے قومی منصوبہ کے تحت، مٹی کے صحت کارڈز (ایس ایچ سی) کا استعمال مٹی کی کوالٹی بہتر بنانے اور کھادوں کے مناسب استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ حکومت ملک بھر میں پرَمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی) کے ذریعے نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دے رہی ہے، جو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں (سوائے شمال مشرقی ریاستوں کے) میں نافذ ہے، جبکہ شمال مشرقی خطے کے لیے خصوصی طور پر مشن آرگینک ویلیو چین ڈیولپمنٹ فار نارتھ ایسٹرن ریجن (ایم او وی سی ڈی این ای آر) نافذ کیا جا رہا ہے۔

*****

ش ح۔ک ح۔ ن م۔

U-1480


(ریلیز آئی ڈی: 2222456) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी