وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
بجٹ 27–2026 میں ساحلی ماہی گیری کے اقدار کے سلسلے کو مضبوط بنانے کے لیے 500 آبی ذخائر اور امرت سرووروں کی مربوط ترقی کی تجویز
بجٹ 27–2026 میں بھارتی جہازوں کے ذریعے خصوصی اقتصادی زون اور کھلے سمندروں میں پکڑی گئی مچھلی کو ڈیوٹی فری قرار دیا گیا ہے، جبکہ غیر ملکی بندرگاہوں پر اتاری گئی مچھلی کو برآمدات کے مساوی تصور کیا جائے گا
بجٹ 27–2026 میں سی فوڈ پروسیسنگ کے لیے درکار خام مال کی ڈیوٹی فری درآمد کی حد 1 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کر دی گئی ہے
प्रविष्टि तिथि:
01 FEB 2026 3:12PM by PIB Delhi
لوک سبھا میں آج پیش کیے گئے مرکزی بجٹ 27–2026 میں ماہی گیری کے شعبے کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ بجٹ معاونت 2,761.80 کروڑ روپے تجویز کی گئی ہے۔ مجموعی مختص رقم میں سے 2,530 کروڑ روپے اسکیم پر مبنی اقدامات کے لیے رکھے گئے ہیں، تاکہ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جا سکے۔ پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) بدستور ماہی گیری کی ترقی کا مرکزی ستون بنی رہے گی، جس کے لیے سال 27–2026 میں 2,500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مرکزی وزیرِ خزانہ محترمہ نرملا سیتارمن نے اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کے سلسلے کو مضبوط بنانے کے لیے 500 آبی ذخائر اور امرت سرووروں کی مربوط ترقی کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے تحت اسٹارٹ اپس، خواتین کی قیادت والے گروپوں اور فِش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (فِش ایف پی اوز) کو بازار سے جوڑنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ہندوستان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے اندرونی آبی ذخائر کے نیٹ ورکس میں سے ایک ہے، جو تقریباً 31.5 لاکھ ہیکٹیئر پر محیط ہے اور اندرونی ماہی گیری کی ترقی کے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ پانی کے تحفظ اور روزگار سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حکومتِ ہند نے مشن امرت سروور کے تحت اب تک 68,827 امرت سروور تیار کیے ہیں، جن میں 1,222 سروور ماہی گیری سے منسلک ہیں، جو مچھلی پروری اور آبی حیاتیاتی تنوع کو سہارا دے رہے ہیں۔
ساحلی علاقوں میں ماہی گیری کے اقدار کے سلسلے کو مضبوط بنانا ایک اہم قدم ہے، کیونکہ اس کا مقصد بنیادی پیداوار کرنے والوں کو پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور برآمدی اقدار کے سلسلے سے جوڑنا، کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنا، ماہی گیروں کو بہتر قیمت دلانا اور آخری سطح تک مارکیٹ تک رسائی کو مضبوط بنانا ہے۔ اس اقدام کے تحت ماہی گیری کے شعبے میں تقریباً 200 اسٹارٹ اپس کی مدد کی جائے گی، جہاں اختراعات، ٹیکنالوجی کے استعمال اور کاروباری ترقی کے لیے ماہرین کی شمولیت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، محکمہ کی جانب سے نامزد 34 پیداوار اور پروسیسنگ کے اداروں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا، جس سے کلسٹر پر مبنی ترقی اور اقدار کے سلسلے میں کارکردگی بہتر ہوگی۔
محکمہ ماہی گیری پہلے ہی پی ایم ایم ایس وائی اور پی ایم ایم کے ایس ایس وائی اسکیموں کے تحت کوآپریٹوز، فِش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز اور اسٹارٹ اپس کو فروغ دے رہا ہے۔ ان مشترکہ کوششوں سے ساحلی علاقوں میں تقریباً 50 لاکھ افراد مستفید ہوں گے، جن میں ماہی گیر، مچھلی پالنے والے اور بنیادی پیداوار کرنے والے شامل ہیں، جو سمندری غذا کی برآمدات اور گھریلو ماہی گیری ویلیو چین کا اہم حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ، سمندری حدود سے باہر ماہی گیروں کے لیے نئے برآمدی مواقع پیدا کرنے کے مقصد سے بجٹ 27–2026 میں تجویز کیا گیا ہے کہ خصوصی اقتصادی زون یا کھلے سمندروں میں کسی بھی بھارتی جہاز کے ذریعے پکڑی گئی مچھلی کو ڈیوٹی فری قرار دیا جائے گا، اور ایسی مچھلی کو غیر ملکی بندرگاہوں پر اتارنے کو برآمدات کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ ساتھ ہی مچھلی کی نقل و حمل یا ٹرانس شپمنٹ کے دوران غلط استعمال کو روکنے کے لیے حفاظتی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔
ہندوستان کی ساحلی پٹی 11,099 کلومیٹر پر محیط ہے اور اس کا خصوصی اقتصادی زون تقریباً 24 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جو 13 ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 50 لاکھ سے زائد ماہی گیر برادری کے افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ سمندری ماہی گیری ملک کی سمندری معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، چاہے وہ سمندری غذا کی برآمدات ہوں یا لاکھوں لوگوں کے لیے غذائی ضروریات کی تکمیل۔ ان وسائل کو پائیدار طریقے سے بروئے کار لانے کے لیے حکومتِ ہند نے خصوصی اقتصادی زون میں ماہی گیری کے پائیدار استعمال کے قواعد اور کھلے سمندروں میں بھارتی پرچم بردار جہازوں کے ذریعے ماہی گیری کے لیے رہنما اصول 2025 جاری کیے ہیں۔
برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بجٹ 27–2026 میں سی فوڈ پروسیسنگ کی مسابقت بڑھانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ برآمدی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص خام مال کی ڈیوٹی فری درآمد کی حد کو موجودہ 1 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس سے پروسیسنگ یونٹس کی لاگت کم ہونے، بین الاقوامی معیار اور غذائی تحفظ کے سخت تقاضوں پر پورا اترنے اور ہندوستانی سی فوڈ برآمدات کی مجموعی مسابقت میں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔
یہ اقدام برآمد کنندگان کو یورپی یونین، جنوبی کوریا، برطانیہ اور جاپان جیسے اہم بازاروں میں خریداروں کی سخت شرائط پوری کرنے کے لیے اعلیٰ معیار کے خام مال تک بہتر رسائی فراہم کرے گا، جس سے اقدار میں اضافے والے سی فوڈ برآمدات کی عالمی مسابقت مزید مضبوط ہوگی۔
مجموعی طور پر، یہ تمام اقدامات ہندوستانی سی فوڈ کی عالمی مسابقت بڑھانے، اقدار میں اضافہ کرنے اور مصنوعات میں تنوع، زرِ مبادلہ کی آمد میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ساحلی و اندرونی علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ ماہی گیری کے شعبے میں پائیدار اور مضبوط ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔
پس منظر
ماہی گیری کا شعبہ ہندوستانی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور تقریباً تین کروڑ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے، بالخصوص پسماندہ اور ساحلی برادریوں کے لیے۔ ایک ابھرتے ہوئے (سن رائز) شعبے کے طور پر تسلیم شدہ ماہی گیری نے حالیہ برسوں میں پیداوار، برآمدات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے کی گئی ہدفی پالیسی مداخلتوں کے نتیجے میں مسلسل ترقی درج کی ہے۔
اس شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر، حکومتِ ہند نے جون 2019 میں ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے لیے ایک علیحدہ وزارت قائم کی۔ 2015 کے بعد سے حکومت نے اس شعبے میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کے تحت مختلف بڑی اسکیموں اور پروگراموں کے ذریعے مجموعی طور پر 39,272 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ ان میں بلیو ریولیوشن اسکیم، فشریز اینڈ ایکواکلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ، پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی)، پردھان منتری متسیا سمردھی سہ یوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی) اور کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد 74.66 لاکھ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کے لیے روزگار اور ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
ماہی گیری کے شعبے نے 15–2014 کے بعد سے اوسطاً 7.87 فیصد سالانہ ترقی کی شرح درج کی ہے، جو زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں سب سے زیادہ ہے۔ معیشت میں اس کا حصہ بھی نمایاں طور پر بڑھا ہے، جہاں مجموعی ویلیو ایڈیڈ 14–2013 میں 98,190 کروڑ روپے سے بڑھ کر 24–2023 میں 3.41 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو اقتصادی ترقی، روزگار کی تخلیق اور غذائی و غذائی تحفظ میں اس شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کی ماہی گیری کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ سالانہ مچھلی کی پیداوار 14–2013 میں 95.79 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 25–2024 میں ریکارڈ 197.75 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی، جو 106 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ اندرونی ماہی گیری اور آبی کاشتکاری اس ترقی کے اہم محرک کے طور پر ابھری ہیں، جن کی پیداوار اسی عرصے میں 61.36 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 151.60 لاکھ ٹن ہو گئی، یعنی 147 فیصد اضافہ۔
ہندوستان کی سی فوڈ برآمدات بھی دوگنی ہو گئی ہیں اور 14–2013 میں 30,213 کروڑ روپے سے بڑھ کر 25–2024 میں 62,408 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں، جس سے عالمی سطح پر ایک بڑے سی فوڈ برآمد کنندہ کے طور پر ملک کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔ ساحلی آبی کاشتکاری، خصوصاً جھینگے کی کاشت میں نمایاں توسیع دیکھنے میں آئی ہے، جہاں جھینگے کی پیداوار گزشتہ دہائی میں 3.22 لاکھ ٹن سے بڑھ کر تقریباً 12.76 لاکھ ٹن ہو گئی، جو 296 فیصد اضافہ ہے۔ یہ پیش رفت اس شعبے میں کاروباری افراد، نوجوانوں اور خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی عکاس ہے۔
*****
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1385)
(रिलीज़ आईडी: 2221852)
आगंतुक पटल : 6