الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
مرکزی بجٹ 27-2026 میں انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن(آئی ایس ایم ) 2.0 کے آغاز کا اعلان
الیکٹرانکس کل پرزے کی مینوفیکچرنگ کی اسکیم(ای سی ایم ایس) کے لیے بجٹ اخراجات کو بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کیا جائے گا
آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس کے لیےقانونی تحفظ والے دائرے سے متعلق نئے ضوابط متعارف کرائے جائیں گے، جن میں زیادہ حد اور مسابقتی مارجن شامل ہوگا
प्रविष्टि तिथि:
01 FEB 2026 2:27PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں مالی سال 27-2026 کے لیے مرکزی بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں بھارت کے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شعبے کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے اہم اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
وزیرخزانہ نے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) 2.0 کے آغاز کا اعلان کیا، جس کا مقصد آلات اور مواد کی پیداوار، مکمل اسٹیک بھارتی آئی پی کی ڈیزائننگ اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کا مرکز صنعتی قیادت والے تحقیقی اور تربیتی مراکز ہوں گے تاکہ ٹیکنالوجی اور ماہر افرادی قوت کو فروغ دیا جا سکے۔ مالی سال 27-2026 کے دوران اس مقصد کے لیے 1,000 کروڑ روپے کا بندوبست کیا گیا ہے۔آئی ایس ایم1.0 نے بھارت کے سیمی کنڈکٹر شعبے کی صلاحیتوں کو بڑھایا جبکہ آئی ایس ایم 2.0 انہی بنیادوں پر مزید ترقی کرے گا۔
اپریل 2025 میں 722,919 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ شروع کی گئی الیکٹرانکس کل پرزے کی مینوفیکچرنگ کی اسکیم(ای سی ایم ایس) نے اپنے ہدف کی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے۔ اب اس کیلئے بجٹ اخراجات 40,000 کروڑ روپے تک بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ اس کی رفتار سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
آئی ٹی شعبے کی حمایت اور ٹیکس میں وضاحت فراہم کرنے کے لیےمرکزی بجٹ 27-2026 میں آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس کے لیے قانونی تحفظ والے دائرے کے نئے ضوابط تجویز کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ حد اور مسابقتی مارجن شامل ہوگا۔بھارت سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ سروسز، آئی ٹی پر مبنی خدمات ، نالج پروسیس آؤٹ سورسنگ سروسز اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ سے متعلق کنٹریکٹ آر اینڈ ڈی سروسز میں عالمی رہنما ہے۔ ان کاروباری شعبوں کی باہمی وابستگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، مرکزی بجٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ ان تمام سروسز کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز کے ایک ہی زمرے میں شامل کیا جائے، جس پر 15.5 فیصد کا مشترکہ قانونی تحفظ والے دائرے کامارجن تمام پر لاگو ہوگا۔
-
آئی ٹی خدمات کے لیے قانونی تحفظ والے دائرہ حاصل کرنے کی حد کو بھی بڑھا کر 300 کروڑ روپے سے 2,000 کروڑ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
-
آئی ٹی خدمات کے لیے قانونی تحفظ والے دائرہ ایک خودکار قواعدو ضوابط پر مبنی عمل کے ذریعے منظور کیا جائے گا، جس کے لیے کسی ٹیکس آفیسر کو درخواست کا جائزہ لینے یا قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
-
ایک بار جب کوئی آئی ٹی سروسز کمپنی درخواست دے دے، تو وہ خود اپنی پسند کے مطابق اس قانونی تحفظ کے حامل دائرے کو مسلسل 5 سال تک برقرار رکھ سکتی ہے۔
مزید برآں، آئی ٹی سروسز کمپنیوں کے لیے جو پیشگی قیمت کامعاہدہ (اے پی اے) مکمل کرنا چاہتی ہیں، تجویز پیش کی گئی ہے کہ یکطرفہ اے پی اے کے عمل کو تیز کیا جائے اور اسے ممکنہ حد تک دو سال کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ٹیکس دہندہ کی درخواست پر یہ دو سال کی مدت مزید چھ ماہ تک بڑھائی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ، یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ اے پی اے میں شامل ادارے کے لیے دستیاب ترمیم شدہ ریٹرنس کی سہولت اس کے متعلقہ اداروں پر بھی لاگو کی جائے۔
اہم بنیادی ڈھانچے کو فعال بنانے اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے، مرکزی بجٹ 27-2026 میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی کمپنی جو بھارت سے ڈیٹا سینٹر سروسز استعمال کر کے عالمی سطح پر کلاؤڈ سروسز فراہم کرتی ہے، اسے 2047 تک ٹیکس کی چھوٹ دی جائے۔ تاہم، اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ کمپنی بھارتی صارفین کو بھارتی ری سیلر ادارے کے ذریعے سروس فراہم کرے۔مزید برآں، اگر بھارت سے ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والی کمپنی متعلقہ ادارہ ہو، تو اس کے اخراجات پر 15 فیصد کا قانونی تحفظ والا دائرہ تجویز کیا گیا ہے۔
اس بجٹ میں یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی مستقل کمیٹی قائم کی جائے، جو خدمات کے شعبے پر مرکوز اقدامات کی سفارش کرے گی تاکہ یہ وِکست بھارت کے بنیادی محرک کے طور پر کام کرے۔یہ کمیٹی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، بشمول مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے روزگار اور مہارت کی ضروریات پر اثرات کا بھی جائزہ لے گی اور اس کے مطابق مناسب اقدامات کی تجویز پیش کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ م ع۔ع ن)
U-No.1373
(रिलीज़ आईडी: 2221719)
आगंतुक पटल : 8