وزارت آیوش
azadi ka amrit mahotsav

نایاب آیورویدک مخطوطات کی اردو میں ڈیجیٹائزیشن کے لیے سی سی آر اے ایس اور بیرہام پور یونیورسٹی کے درمیان مفاہمت نامےپر دستخط کی تقریب

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 JAN 2026 12:03PM by PIB Delhi

بھارت کے طبی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک تاریخی اقدام کے تحت، مرکزی کونسل برائے تحقیق آیورویدک سائنسز(سی سی آر اے ایس)، وزارتِ آیوش، اوربیر ہام پور یونیورسٹی، اڈیشہ، ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کریں گے، جس کا مقصد ساؤتھ اڈیشہ کلچرل اسٹڈی سینٹر (ایس او سی ایس سی )میں محفوظ نایاب آیورویدک مخطوطات اور تاڑکےپتّوں پر تحریر شدہ دستاویزات کی ڈیجیٹائزیشن، فہرست سازی اور اشاعت ہے۔

مفاہمت نامے پر دستخط کی یہ تقریب سنٹرل آیوروید ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی اے آر آئی) ، بھونیشور میں منعقد ہوگی، جس میں پروفیسر گیتانجلی داس، معزز وائس چانسلر، بیرہام پور یونیورسٹی؛ پروفیسر (ویدیہ) رابنارائن آچاریہ، ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر اے ایس، نئی دہلی؛ اور پروفیسر بی۔ ایس۔ پرساد، سابق صدر، نیشنل کونسل فار انڈین سسٹم آف میڈیسن  (این سی آئی ایس ایم)کی معزز موجودگی متوقع ہے۔ اس اشتراکِ عمل کی قیادت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین میڈیکل ہیریٹیج(این آئی آئی ایم ایچ) ، حیدرآباد کرے گا، جو سی سی آر اے ایس کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔

قدامت اور ٹیکنالوجی کے درمیان پل

بیرہام پور یونیورسٹی میں دو ہزار سے زائد تاڑ کے پتّوں پر تحریر شدہ مخطوطات کا ایک ممتاز ذخیرہ موجود ہے، جن میں سے بیشتر میں قیمتی آیورویدک علمی سرمایہ محفوظ ہے، جو تاحال شائع نہیں ہوا اور وسیع سائنسی برادری کی دسترس سے باہر ہے۔ اس شراکت داری کے تحت، سی سی آر اے ایس–این آئی آئی ایم ایچ جدید ڈیجیٹائزیشن تکنیکوں کے ذریعے ان نازک دستاویزات کو محفوظ کرے گا تاکہ انہیں آنے والی نسلوں کے لیے برقرار رکھا جا سکے۔

اشتراکِ عمل کی نمایاں خصوصیات

جامع ڈیجیٹائزیشن:نایاب آیورویدک کتب، رسائل اور مخطوطات کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا، اور ان کی ڈیجیٹل نقول بیرہام پور یونیورسٹی کو فراہم کی جائیں گی۔

تفصیلی فہرست سازی: ’’ڈسکرپٹو کیٹلاگ آف آیورویدا مینو اسکرپٹس آف ایس او سی ایس سی-بی یو، اڈیشہ‘‘ کے عنوان سے ایک جامع فہرست تیار کی جائے گی، جس میں محققین کی سہولت کے لیے 44 مختلف ڈیٹا فیلڈز شامل ہوں گی۔

عالمی سطح پر رسائی:یہ کیٹلاگ اے ایم اے آر پورٹلپر دستیاب ہوگا، جس کے ذریعے ان قدیم متون کے میٹا ڈیٹا تک دنیا بھر میں رسائی ممکن ہو سکے گی۔

تحقیق و اشاعت:منتخب مخطوطات کی نقل نویسی ، نقلِ حرفی اور جدید زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا، تاکہ قدیم حکمت کو عصری طبی مباحث میں مؤثر طور پر شامل کیا جا سکے۔

ادارہ جاتی عزم:پروفیسر (ویدیہ) رابنارائن آچاریہ، ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر اے ایس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام بھارت کے روایتی علمی نظاموں کی دستاویز بندی اور توثیق کے لیے ایک قومی مشن کا حصہ ہے۔پروفیسر گیتانجلی داس، وائس چانسلر، بیرہام پور یونیورسٹی نے اس شراکت داری کو نہ صرف مخطوطات کے مادی تحفظ کے لیے اہم قرار دیا بلکہ اس سے یونیورسٹی کے مقام کو ثقافتی اور طبی ورثے کے عالمی مرکز کے طور پر مزید مستحکم ہونے کی بھی نشاندہی کی۔

منصوبے کی مدت اور اخلاقی پہلو

مفاہمت نامے (ایم او یو) کی ابتدائی مدت دو برس پر مشتمل ہوگی۔ دونوں اداروں نے سخت رازداری اور دانشورانہ املاک کے اصولوں کی پابندی کا عہد کیا ہے، تاکہ مخطوطات بیرہام پور یونیورسٹی کے پاس ہی برقرار رہے اور ساتھ ہی ان میں موجود علمی سرمایہ ذمہ دارانہ انداز میں عوام کے ساتھ شیئر کیا جا سکے۔

اس پروگرام کو ڈاکٹر ایم۔ ایم۔ راؤ، ڈائریکٹر، سی اے آر آئی بھونیشور؛ ڈاکٹر ساردا اوتا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (آیوروید)، سی اے آر آئی بھونیشور؛ اور ڈاکٹر سنتوش مانے، ریسرچ آفیسر (آیوروید)، این آئی آئی ایم ایچ حیدرآباد کے تال میل سے انجام دیا جا رہا ہے۔ یہ تقریب سی اے آر آئی بھونیشور کے افسران اور عملے کے علاوہ بیرہام پور یونیورسٹی کے معزز حکام اور شخصیات کی باوقار موجودگی میں منعقد ہو رہی ہے۔

****

ش ح- اع خ۔ ش ب ن

U.No.1368


(ریلیز آئی ڈی: 2221567) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी