سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وشاکھاپٹنم میں32 کروڑ روپے کے سی ایس آئی آر-این آئی او ساحل پر مبنی علاقائی مرکز کا افتتاح کیا
وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ 20 سال تک تاخیر کا شکار رہا، لیکن ریاست میں این ڈی اے حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک سال کے اندر مکمل ہو گیا؛ یوں یہ ’ڈبل انجن کے اثر‘ کی تصدیق کرتا ہے
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ’نیلگوں معیشت‘ کو ترجیح دینے اور سمندری انفراسٹرکچر کی ترقی پر زور دیا
نئی سی ایس آئی آر-این آئی او سہولت ہندوستان کی سمندری سائنس، توانائی کی حفاظت، اور ساحلی استحکام کو فروغ دینے کے لیے ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
سی ایس آئی آر-این آئی او کا وِشاکھاپٹنم مرکز آف شور توانائی، آفات کے انتظام اور موسمیاتی مطالعات میں کلیدی کردار ادا کرے گا
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ مشرقی براعظمی کنارے پر کی جانے والی تحقیق سےہندوستان کی تیل، گیس اور سمندری تہہ میں موجود معدنی وسائل کے میدان میں خود انحصاری کو نمایاں طور پر تقویت ملے گی
प्रविष्टि तिथि:
30 JAN 2026 5:20PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس، ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے آج سی ایس آئی آر–نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی (این آئی او) کے علاقائی مرکز، وِشاکھاپٹنم میں شور بیسڈ لیبارٹری کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسے ’’ڈبل انجن حکومت کے اثر‘‘ کی واضح مثال قرار دیا، جہاں مرکز اور ریاست کے درمیان ہم آہنگ اور مربوط تعاون ترقی کے عمل کو تیز کرتا ہے۔
آندھرا پردیش کی وزیرِ داخلہ محترمہ انیتا ونگلپُوڈی، رکنِ پارلیمنٹ جناب ایم سری بھرت، رکن اسمبلی جناب جی سری نواس راؤ، ڈائریکٹرسی ایس آئی آر-این آئی او پروفیسر سنیل کمار سنگھ، ڈاکٹر وی وی ایس ایس سرما اور ڈائریکٹر جنرل سی ایس آئی آر ڈاکٹر کلائی سیلوی کی موجودگی میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ اگرچہ اس منصوبے کی بنیاد کئی برس قبل رکھی گئی تھی، تاہم مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ایک ہی صفحے پر آنے کے بعد گزشتہ 8 سے 10 ماہ کے دوران اس میں نمایاں پیش رفت ہوئی اور منصوبہ مکمل کیا گیا۔
وزیرموصوف نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اس منصوبے کے لیے زمین ریاستی حکومت کی جانب سے اوائل 2000 کی دہائی میں برائے نام قیمت پر منتقل کی گئی تھی، اور علاقے میں تیز رفتار ترقی کے باعث اس کی موجودہ قدر کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند، سی ایس آئی آر اور وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے، جو سی ایس آئی آرکے صدر بھی ہیں، اس 32 کروڑ روپے کی ساحل پر مبنی سہولت کو قوم کے نام وقف کر رہی ہے۔
اس سہولت کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کی ساحلی پٹی تقریباً 11,000 سے 12,000 کلومیٹر طویل ہے، جس میں سے ایک ہزار کلومیٹر سے زائد حصہ آندھرا پردیش کے ساتھ واقع ہے، جو اسے بحری معیشت اور وزیرِ اعظم کے نیلگوں معیشت کےوژن کے لیے ایک قدرتی مرکز بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا مشرقی ساحلی کنارہ ارضیاتی اعتبار سے نہایت متنوع ہے اور اس میں ہائیڈروکاربنز، سمندری تہہ میں موجود معدنیات، تیل اور قدرتی گیس کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن کی بڑی وجہ ہمالیائی دریائی نظام سے آنے والے بھاری تلچھٹ کے ذخائر ہیں۔
وزیر نے کہا کہ وِشاکھاپٹنم کا ساحلی علاقہ سمندری وسائل کا ایک ہمہ جہت ذخیرہ رکھتا ہے جو بھارت کی توانائی کی سلامتی کے ساتھ ساتھ نیلگوں معیشت میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے، اور نئی افتتاح شدہ سی ایس آئی آر-این آئی اوسہولت اس مقصد کے لیے ایک مضبوط سائنسی بنیاد کے طور پر کام کرے گی۔
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے بتایا کہ سی ایس آئی آر-این آئی اوپہلے ہی او این جی سی، آئل انڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہا ہے اور دوا سازی، بندرگاہوں، پن بجلی منصوبوں اور ماہی گیری جیسے شعبوں کو فعال طور پر سائنسی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ ماہی گیری علاقوں کی نشاندہی، ماہی گیروں کے لیے سمندری گھاس (سی ویڈ) کی کاشت، اور نقصان دہ الجی بلومز کی پیش گوئی کے حوالے سے ادارے کا کام روزگار کے ذرائع کے ساتھ ساتھ عوامی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ سمندری حیاتیاتی وسائل طب اور صحت کے شعبے میں بڑھتے ہوئے استعمال میں آ رہے ہیں۔
وزیر نے حکومت کے مربوط نقطہ نظر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی سمندری ترقی اب مرکزی اور ریاستی حکومتوں، سرکاری اور نجی شعبوں، تحقیقی اداروں اور اسٹارٹ اپس کو ایک ساتھ لاتی ہے۔ انہوں نے صنعت اور کاروباری افراد کو فعال شراکت دار بننے کی دعوت دی اور کہا کہ سمندری اور ساحلی شعبے میں اسٹارٹ اپس اور جدت پسندوں کے لیے تکنیکی اور مالی معاونت کا ایک مضبوط ماحولیاتی نظام پہلے ہی موجود ہے۔
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ وِشاکھاپٹنم مرکز مستقبل میں صلاحیت سازی اور مہارت کی تربیت کا ایک اہم مرکز بھی بنے گا، جو بھارت کے بڑھتے ہوئے سمندری شعبے کے لیے نوجوان سائنسدانوں، محققین، اسٹارٹ اپس اور آنے والے کاروباری افراد کے لیے معاون ثابت ہو گا۔
وزیر نے وزیراعلیٰ جناب این چندرابابو نائیڈو کی خصوصی تعریف کی اور کہا کہ ان کی ذاتی توجہ کی بدولت طویل عرصے سے زیر التواء ساحلی اور ماحولیاتی منظوریوں کو، جو تقریباً ایک دہائی سے حل نہ ہو پائی تھیں، چھ ماہ کے اندر مکمل کر لیا گیا، جس سے منصوبے کی عمل درآمد میں ایک دن بھی ضائع نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی مقام کی وجہ سے اس منصوبے کے لیے متعدد منظوریوں کی ضرورت تھی، جنہیں مرکز اور ریاست کے مؤثر تعاون کے ذریعے تیز رفتار سے مکمل کیا گیا۔
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے وزیرِ اعظم کے آندھرا پردیش اور نئی دارالحکومت امراؤتی پر خصوصی توجہ کا بھی حوالہ دیا اور اعلان کیا کہ وہاں جلد ایک کوانٹم ٹیکنالوجی سہولت قائم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گزشتہ 7سے8 ماہ کے دوران ان کا وِشاکھاپٹنم کا تیسرا دورہ ہے، جو ریاستی حکومت کی سائنس پر مبنی ترقی میں فعال دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
ساحل پر مبنی یہ لیبارٹری 4 ایکڑ کے کیمپس میں سے 3.25 ایکڑ پر، ینڈاڈا گاؤں، روشیکونڈا میں تعمیر کی گئی ہے، جس کا کل تعمیر شدہ رقبہ 4,550 مربع میٹر پر محیط ہے اور یہ جی+1 ترتیب میں ہے۔ اس منصوبے کی تعمیل سی پی ڈبلیو ڈی نے کی، جس کی تعمیر نومبر 2024 میں شروع ہوئی اور دسمبر 2025 میں مکمل ہوئی۔




****
ش ح۔ ع و۔ اش ق
U.NO. 1322
(रिलीज़ आईडी: 2220963)
आगंतुक पटल : 10