پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
آئی ای ڈبلیو2026: توانائی کی منصوبہ بندی ترقی کے پیچھے نہ چلے بلکہ اس سے آگے رہے،انڈیا انرجی ویک2026 میں جناب پنکج جین کابیان
لیڈرشپ پینل نے وِکست بھارت 2047 کے لیے مضبوط معاشی پالیسی کی تشکیل میں تفصیلی اور جزوی توانائی ڈیٹا کے رول پر زور دیا
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 7:32PM by PIB Delhi
توانائی کی منصوبہ بندی کو معاشی ترقی سے پہلے کرنا ہوگا، ورنہ یہ خود ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ یہ بات پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت میں سابق سکریٹری اور آٹھویں مرکزی تنخواہ کمیشن کےرکن سکریٹری جناب پنکج جین نے انڈیا انرجی ویک 2026 کے تیسرے دن منعقدہ لیڈرشپ اسپاٹ لائٹ اجلاس میں کہی۔ یہ تقریب 27 سے 30 جنوری 2026 تک گوا میں منعقد کی جا رہی ہے۔
“توانائی ڈیٹا کے ذریعے معاشی پالیسی کو بااختیار بنانا: وِکست بھارت 2047 کی جانب بھارت کی ترقی کی رہنمائی” کے موضوع پر ایڈیشن اسٹیج پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب پنکج جین نے مستقبل بینی پر مبنی اور ڈیٹا سے چلنے والی پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
جناب پنکج جین نے کہا، “توانائی کو پیچھے رہ کر نہیں چلنا چاہیے۔ توانائی کو پیشگی اندازہ لگانا ہوگا۔ اگر ہم مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کے لیے توانائی کی منصوبہ بندی میں ایک بار بھی کوتاہی کریں تو وہ ایک رکاوٹ بن جاتی ہے،” اورانہوں نے ساتھ ہی منقسم فیصلہ سازی کے باعث صلاحیت کی بروقت تخلیق میں تاخیر کے خطرات کی نشاندہی کی۔
جناب جین نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ بھارت کے پاس مختلف شعبوں میں وسیع ڈیٹا (اعداد وشمار)موجود ہے مگر توانائی سے متعلق ڈیٹا اب بھی الگ الگ حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ انہوں نے پٹرولیم، بجلی، کوئلہ اور گیس کے ڈیٹا کے بہتر انضمام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ میکرو اکنامک پیش گوئی، مالی منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی ترجیحات کو مستحکم بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ درست توانائی ڈیٹا نہ صرف صلاحیت کی منصوبہ بندی بلکہ مالی نتائج کے نظم، سرمایہ کاری کی ترغیبات اور طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہائیڈروکاربنز کے ڈائریکٹر جنرل جناب سری کانت ناگولاپلی نے کہا کہ جیسے جیسے بھارت 2047 کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، ملک کی توانائی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائیڈروکاربنز بالخصوص کھاد اور ریفائننگ جیسے اہم شعبوں میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے، چاہے قابل تجدید توانائی میں اضافہ ہی کیوں نہ ہو۔ بھارت کے زیادہ درآمدی انحصار اور گھریلو پیداوار کے طویل پیریئڈس کو دیکھتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ بروقت اور ڈیٹا پر مبنی فیصلے توانائی کی تیاری اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
مارکیٹ کے نقطۂ نظر سے، ونداانسائٹس کی بانی اور سی ای او وندانا ہری نے عالمی تیل و گیس کی قیمتوں اور بھارت کے میکرو اکنامک اشاریوں کے درمیان براہِ راست تعلق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے منظرنامہ جاتی منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث امکانات پر مبنی اور ڈیٹا سے حاصل رہنمائی طریقۂ کار پالیسی سازی کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے انڈین رینیوبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی لمیٹڈ کے چیئرمین و مینیجنگ ڈائریکٹر پردیپ کمار داس نے بھارت میں قابل تجدید توانائی کی تیز رفتار توسیع اور اس میں مالی وسائل کے کردار کو نمایاں کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غیر تسلسل (انٹرمیٹنسی)، ذخیرہ سازی، سپلائی چینز اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق ڈیٹا میں ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ قابل اعتماد، سستی اور سرمایہ کاری کے لیے توانائی کی منتقلی کو یقینی بنایا جاسکے۔
انڈیا انرجی ویک کے بارے میں
انڈیا انرجی ویک ملک کا نمایاں عالمی توانائی سے متعلق پلیٹ فارم ہے جو حکومتی قائدین، صنعت کے سربراہان اور جدت کاروں کو ایک جگہ یکجا کرتا ہے تاکہ محفوظ، پائیدار اور سستی توانائی کے مستقبل کی جانب پیش رفت کو تیز کیا جا سکے۔ آئی ای ڈبلیو ایک غیر جانب دار بین الاقوامی فورم کے طور پر سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیتا ہے، جو عالمی توانائی کے منظرنامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ ش م ۔ع ن)
U. No. 1274
(रिलीज़ आईडी: 2220713)
आगंतुक पटल : 6