وزیراعظم کا دفتر
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے آغاز پر وزیر اعظم کےبیان کا متن
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 11:33AM by PIB Delhi
نمسکار ساتھیو!
کل صدرِ جمہوریہ کا خطاب 140 کروڑ ہم وطنوں کے اعتماد کا اظہار تھا، 140 کروڑ ہم وطنوں کی محنت و جدوجہد کا جامع جائزہ تھا، اور 140 کروڑ عوام، بالخصوص نوجوانوں کی امنگوں اور ارزوؤں کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرنے والا خطاب تھا۔ یہ خطاب تمام معزز اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے بھی متعدد رہنما نکات پر مشتمل تھا، جو کل معزز صدرِ جمہوریہ نے ایوان میں سب کے سامنے رکھے۔
اجلاس کے آغاز ہی میں اور سال 2026 کے آغاز پر، معزز صدرِ جمہوریہ نے اراکینِ پارلیمنٹ سے جو توقعات ظاہر کی ہیں، انہوں نے قوم کے سربراہ کی حیثیت سے نہایت سادہ اور واضح الفاظ میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ تمام معزز اراکینِ پارلیمنٹ نے انہیں سنجیدگی سے لیا ہوگا۔ یہ اجلاس بذاتِ خود نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ بجٹ اجلاس ہے۔اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی حصہ گزر چکا ہے اور اب دوسری چوتھائی کا آغاز ہو رہا ہے۔ 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے یہ آئندہ 25 برسوں کا نہایت اہم دور شروع ہو رہا ہے۔ یہ اس صدی کے دوسری سہ ماہی کا پہلا بجٹ ہے۔ مزید یہ کہ وزیرِ خزانہ نرملا جی ملک کی پہلی خاتون وزیرِ خزانہ ہیں جو مسلسل نویں مرتبہ پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے جا رہی ہیں۔ یہ لمحہ بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں ایک قابلِ فخر سنگِ میل کے طور پر درج ہو رہا ہے۔
ساتھیو!
اس سال کا آغاز نہایت ہی مثبت نوٹ کے ساتھ ہوا ہے۔ خود اعتمادی سے بھرپور ہندوستان آج دنیا کے لیے امید کی ایک کرن بھی بنا ہے اور کشش کا مرکز بھی۔ اسی سہ ماہی کے آغاز میں ہی بھارت اور یورپی یونین کاآزاد تجارتی معاہدہ ہوا ہے۔ آنے والا مستقبل کتنا روشن ہے قور بھارت کے نوجوانوں کا مستقبل کتنا تابناک ہے۔یہ آزاد تجارتی معاہدہ ایک پرعزم بھارت کے لیے ہے، یہ آزاد تجارت امنگوں والے نوجوانوں کے لیے ہے، یہ آزاد تجارت آتم نربھر بھارت کے لیے ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ خاص طور پر بھارت کے مینوفیکچررز اس موقع کو اپنی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے استعمال کریں گے۔ میں تمام طرح کے پیداواری شعبوں سے یہی کہنا چاہوں گا کہ جب بھارت اور یورپی یونین کے درمیان جسے “مدر آف آل ڈیلز” کہا جا رہا ہے، ایسا معاہدہ طے پایا ہے، تو میرے ملک کے صنعت کاروں اور مینوفیکچررز کے لیے اب ایک بہت بڑا بازارکھل گیا ہے۔ اب ہمارا مال کم لاگت میں وہاں پہنچ سکے گا، مگر اس سوچ کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہ بیٹھیں۔یہ ایک موقع ہے، اور اس موقع کا سب سے پہلا منتر یہی ہے کہ ہم معیار (کوالٹی) پر زور دیں۔ اب جب بازار کھل گیا ہے تو بہترین سے بہترین معیار کے ساتھ مارکیٹ میں جائیں۔ اگر ہم اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ جاتے ہیں تو ہم یورپی یونین کے 27 ممالک کے خریداروں سے صرف مالی فائدہ ہی حاصل نہیں کریں گے، بلکہ معیار کے ذریعے ان کے دل بھی جیت لیں گے۔ اس کا اثر طویل عرصے تک، بلکہ دہائیوں تک قائم رہے گا ۔ کمپنیوں کا برانڈ، ملک کے برانڈ کے ساتھ مل کر ایک نئے وقار اور فخر کو قائم کرتا ہے۔اسی لیے 27 ممالک کے ساتھ ہوا یہ معاہدہ ہمارے ملک کے ماہی پروروں، ہمارے کسانوں، ہمارے نوجوانوں اور سروس سیکٹر سے وابستہ ان لوگوں کے لیے جو دنیا کے مختلف حصوں میں کام کرنے کے خواہاں ہیں، بہت بڑے مواقع لے کر آ رہا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایک طرح سے یہ پراعتماد، مسابقتی اور پیداواری بھارت کی سمت میں ایک بہت بڑا قدم ہے۔
ساتھیو!
ملک کی توجہ بجٹ کی طرف ہونا بالکل فطری ہے، لیکن اس حکومت کی ایک واضح پہچان رہی ہے — ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم۔ اور اب تو ہم ریفارم ایکسپریس پر چل پڑے ہیں،بہت تیزی سے چل پڑے ہیں۔ میں پارلیمنٹ کے اپنے تمام ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس ریفارم ایکسپریس وے کو رفتار دینے میں وہ بھی اپنی مثبت توانائی لگا رہے ہیں، اور اسی کے نتیجے میں ریفارم ایکسپریس مسلسل رفتار پکڑ رہی ہے۔ملک اب طویل عرصے سے التوا کا شکار مسائل سے نکل کر مضبوطی کے ساتھ طویل مدتی حل کے راستے پر قدم رکھ رہا ہے۔ اور جب طویل مدتی حل سامنے آتے ہیں تو پریڈکٹیویٹی پیدا ہوتی ہے، جو دنیا میں اعتماد کا ماحول قائم کرتی ہے۔ ہمارے ہر فیصلے میں قوم کی ترقی ہمارا ہدف ہے، لیکن ہمارے تمام فیصلے انسانوں پر مرکوز ہیں۔ ہماری سوچ، ہماری پالیسیاں، ہماری اسکیمیں انسان دوست ہیں۔ ہم ٹیکنالوجی کے ساتھ مسابقت بھی کریں گے، ٹیکنالوجی کو اپنائیں گے، ٹیکنالوجی کی طاقت کو تسلیم بھی کریں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانی مرکزیت کو ذرا بھی کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ ہم حساسیت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ٹیکنالوجی کے امتزاج کے ساتھ آگے بڑھنے کے وژن کے ساتھ سوچیں گے۔جو ہمارے ناقدین ہیں، جن کا ہمارے تئیں پسند و ناپسند کا رویہ رہتا ہے، یہ جمہوریت میں بالکل فطری بات ہے، لیکن ایک بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ اس حکومت نے آخری فرد تک خدمات کی فراہمی پر خاص زور دیا ہے۔ ہماری کوشش رہی ہے کہ اسکیمیں فائلوں تک محدود نہ رہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں تک پہنچیں۔ اور یہی روایت ہم آنے والے دنوں میں ریفارم ایکسپریس کے ذریعے اگلے سلسلے کی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھانے والے ہیں۔آج بھارت کی جمہوریت اور بھارت کی آبادی دنیا کے لیے ایک بہت بڑی امید بن چکی ہے۔ ایسے میں، جمہوریت کے اس مندر میں بیٹھ کر ہم عالمی برادری کو بھی ایک پیغام دیں — اپنے عزم کا، اپنی صلاحیت کا، جمہوریت کے تئیں اپنی وابستگی کا، اور جمہوری عمل کے ذریعے لیے گئے فیصلوں کے احترام کا۔ دنیا اس پیغام کا خیر مقدم بھی کرتی ہے اور اسے قبول بھی کرتی ہے۔آج جس رفتار سے ملک آگے بڑھ رہا ہے، یہ رکاوٹوں کا وقت نہیں ہے، یہ حل کا وقت ہے۔ آج ترجیح رکاوٹیں پیدا کرنا نہیں، بلکہ حل تلاش کرنا ہے۔ آج کردار رکاوٹوں کے سہارے شکوہ کرنے کا نہیں، بلکہ حوصلے کے ساتھ حل پر مبنی فیصلے لینے کا ہے۔میں تمام معزز اراکینِ پارلیمنٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں، قوم کے لیے ضروری حل کے اس دور کو رفتار دیں، فیصلوں کو طاقت بخشیں، اور آخری فردتک خدمات کی فراہمی میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھیں۔
ساتھیو! آپ سب کا بہت بہت شکریہ، اور ڈھیروں نیک تمنائیں۔
*******
ش ح۔ م ع۔ ج
Uno-1229
(रिलीज़ आईडी: 2219979)
आगंतुक पटल : 10