پنچایتی راج کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے نئی دہلی میں نیشنل ماڈل یوتھ گرام سبھا ایوارڈ عطا کیے


آج گراس روٹ گورننس کو سمجھنا کل کے لیڈر بناتا ہے: پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل

جے این وی اونا، ہماچل پردیش اور ای ایم آر ایس کوسامبوڈا، چھتیس گڑھ نے ایم وائی جی ایس نیشنل ایوارڈ میں 1 کروڑ روپے کا ٹاپ پرائز جیتا

دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے اسکولوں کو بالترتیب 75 لاکھ روپے اور 50 لاکھ روپے کی انعامی رقم سے نوازا گیا

प्रविष्टि तिथि: 28 JAN 2026 7:05PM by PIB Delhi

پنچایتی راج کے وزیر مملکت، پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ ایک تقریب میں ماڈل یوتھ گرام سبھا (ایم وائی جی ایس) کے فاتحین کو نیشنل ایوارڈ عطا کیے۔ تقریب میں تقریباً 900 شرکا نے شرکت کی، جن میں طلبا، اساتذہ، پنچایتی راج اداروں کے منتخب نمائندے اور ایم وائی جی ایس اقدام میں ملوث کلیدی اسٹیک ہولڈر شامل تھے۔ مہمانوں نے ایم وائی جی ایس کی تبدیلی کی مکمل داستان کو دستاویزی شکل دینے والے جامع دستاویز کا اجرا کیا (ایم وائی جی ایس پر مجموعہ: انگریزی/ ہندی)، جو یہ بتاتا ہے کہ ملک بھر میں 619 جواہر نوودیہ ودیالیوں اور 200 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کے 28,000 سے زائد طلبا نے سمولیٹڈ گرام سبھا اور گرام پنچایت کی کارروائیوں میں کامیابی سے حصہ لیا۔

 

 

جواہر نوودیہ ودیالیہ (جے این وی) زمرے میں، جے این وی اونا، ہماچل پردیش نے پہلا مقام حاصل کیا، اس کے بعد جے این وی کنور، کیرالہ نے دوسرا اور جے این وی اکھرول-I، منی پور نے تیسرا مقام حاصل کیا۔ ایکلویہ ماڈل ریزیڈینشل اسکول زمرے میں، ای ایم آر ایس کوسامبودا، چھتیس گڑھ نے پہلا مقام حاصل کیا، اس کے بعد ای ایم آر ایس ہیرلی، اوڈیشہ نے دوسرا اور ای ایم آر ایس جبل پور، مدھیہ پردیش نے تیسرا مقام حاصل کیا۔ دونوں زمروں میں کامیاب اسکولوں کو پہلے مقام کے لیے ایک کروڑ روپے، دوسرے مقام کے لیے 75 لاکھ روپے اور تیسرے مقام کے لیے 50 لاکھ روپے کی انعامی رقم دی گئی۔ اس ترغیبی اقدام کا مقصد شراکتی تعلیم میں بہترین کارکردگی کی حوصلہ افزائی کرنا اور مزید اداروں کو شہری تعلیم میں اختراعی طریقے اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے کہا کہ ماڈل یوتھ گرام سبھا شہری تعلیم میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت ہے، کیونکہ یہ طلبہ کو نچلی سطح کی جمہوریت کا عملی تجربہ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نوجوان شہریوں کو پنچایتی راج اداروں کے ساتھ فعال طور پر جڑنے کے قابل بناتا ہے، گرام سوراج کے جذبے کو مضبوط کرتا ہے، قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے اور سرکاری اسکیموں کے بارے میں ابتدائی شعور پیدا کرتا ہے۔ پروفیسر بگھیل نے کہا کہ اس طرح کے شراکتی پلیٹ فارم نچلی سطح پر جمہوری اقدار کو گہرا کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور انہوں نے وکست بھارت کے مستقبل کے قائدین کے طور پر طلبہ کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ خواتین کو با اختیار بنانے میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت کو سراہتے ہوئے، انہوں نے ناری شکتی وندن ادھینیم کے دور رس سیاسی اثرات کو اجاگر کیا، جو لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے۔ پروفیسر بگھیل نے جن دھن کھاتوں، پردھان منتری جیون بیمہ سرکشا یوجنا، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا اور آیوشمان بھارت جیسی فلاحی اسکیموں کے بارے میں وسیع تر آگاہی اور استفادہ پر زور دیا اور کہا کہ باخبر شمولیت جامع اور پائیدار ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

محترم وویک بھاردواج، سکریٹری، وزارت پنچایتی راج نے کہا کہ ماڈل یوتھ گرام سبھا کا اقدام وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت ملک بھر میں ایک لاکھ نوجوان قائدین کو تیار کیا جانا ہے۔ انہوں نے ماڈل یوتھ گرام سبھا کو شاندار کامیابی بنانے میں پُرجوش شرکت پر تمام طلبہ اور اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایم وائی جی ایس کو طلبہ میں مقامی قیادت کو فروغ دے کر نچلی سطح کے مسائل کے حل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام قیادت کی اقدار کو ابتدائی مرحلے میں پروان چڑھا کر ”ویکتی اور ویکتِتوا نرمان“ کو فروغ دیتا ہے اور اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ نوجوان کس طرح زمینی سطح کے مسائل کے حل میں بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

محترم سنجے کمار، سکریٹری، محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی نے کہا کہ ایم وائی جی ایس تجرباتی تعلیم کے ذریعے قیادت اور سماجی شمولیت کو فروغ دیتا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے اس کی قریبی ہم آہنگی کی نشاندہی کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جماعتی علم اور حقیقی دنیا کی حکمرانی کے درمیان خلا کو پُر کرتا ہے اور اسکولوں میں بیگ لیس دنوں کے تصور کی تکمیل بھی کرتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ایم وائی جی ایس نوجوان بھارتیوں کو جمہوری عمل میں بامعنی شمولیت کی ترغیب دے گا اور کہا کہ ملک کی تعمیر کے لیے اس طرح کی بہترین عملی مثالوں کو ملک بھر کے تمام اسکولوں میں وسعت دی جانی چاہیے۔

 

ماڈل یوتھ گرام سبھا، 2026 کے قومی سطح کے فاتح

 

Schools

Winners

Position

Prize Money Awarded

Jawahar Navodaya Vidyalaya

JNV Una, Himachal Pradesh

1st

Rs. 1 Crore

JNV Kannur, Kerala

2nd

Rs. 75 Lakhs

JNV Ukhrul-I, Manipur

3rd

Rs. 50 Lakhs

Eklavya Model Residential School

EMRS Kosambuda, Chhattisgarh

1st

Rs. 1 Crore

EMRS Hirli, Odisha

2nd

Rs. 75 Lakhs

EMRS Jabalpur, Madhya Pradesh

3rd

Rs. 50 Lakhs

 

اس تقریب میں محترم سوشیل کمار لوہانی، ایڈیشنل سکریٹری، وزارت پنچایتی راج، محترم آلوک پریم نگر، ایڈیشنل سکریٹری، ایم او پی آر، محترم راجیش لکھانی، کمشنر، نوودیہ ودیالیہ سمیتی اور محترم اجیت کمار سریواستو، کمشنر، ایکلویہ ماڈل ریزیڈینشل اسکول نے بھی شرکت کی۔ افتتاحی اجلاس سے محترم چندر شیکھر کمار، سکریٹری، وزارتِ اقلیتی امور اور محترمہ پلوّی جین گوول، سکریٹری، محکمۂ امورِ نوجوانان نے خطاب کیا۔ پورے دن پر مشتمل پروگرام کا آغاز جے این وی اونا، ہماچل پردیش اور ای ایم آر ایس کوسامبودا، چھتیس گڑھ کی جانب سے گرام سبھا کے مظاہروں سے ہوا، جہاں طلبہ نے غیر معمولی حقیقت پسندی کے ساتھ گرام سبھا کی کارروائی کی عملی نمائش کی۔

 

*********

ش ح۔ ف ش ع

                       U: 1217

 


(रिलीज़ आईडी: 2219851) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Odia , Malayalam