وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

بھارتی حکومت کی ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت (ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی) کے محکمہ ماہی پروری کے سکریٹری (ماہی پروری) ڈاکٹر ابھی لکش لکھی نے شعبہ جاتی  ترقی کو مستحکم کرنے کے لیے چیمپئن فش فارمرز کے ساتھ بات چیت کی

प्रविष्टि तिथि: 28 JAN 2026 3:50PM by PIB Delhi

بھارتی حکومت کی ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت (ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی) کے محکمہ ماہی پروری کےمرکزی  سکریٹری (ماہی پروری) ڈاکٹر ابھی لکش لکھی  نے 28 جنوری 2026 کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ملک بھر کے چیمپئن فش فارمرز یعنی چیمپئن ماہی گیروں کے ساتھ ایک انٹریکٹیو اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس کا مقصد سائنسی اور جدید آبی زراعت  کےطور  طریقوں کو اپنانے کے حوالے سے کسانوں کے تجربات سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔اس موقع پر کل 59 چیمپئن کسانوں نے شرکت کی، جن میں ایک پدم شری ایوارڈ یافتہ سمیت  راجیہ سبھا، محکمہ ماہی پروری (حکومتِ ہند)، آئی سی اے آر ، نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) اور مختلف ریاستی محکمۂ ماہی پروری کے نمائندے بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔

حکومت نے ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے متعدد اسکیموں اور اقدامات کے تحت جامع تعاون فراہم کیا ہے، جن میں بلیو ریولوشن اسکیم، فشریز اینڈ آبی زراعت انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف)، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) اور پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم ایم کے ایس ایس وائی) شامل ہیں۔ ان اسکیموں کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، مالی وسائل تک رسائی کو بہتر کرنا، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا اور صلاحیت سازی کو فروغ دینا ہے۔

چیمپئن فش  فارمرز ماہی پروری کے شعبے میں حکومتی اقدامات کی کامیابی کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہیں ماہی پروری کے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ آر اے ایس اور بایوفلاک جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو فعال طور پر اپنانے اور ضروری انفراسٹرکچر قائم کرنے کے ذریعے یہ کسان آبی زراعت کے قابل توسیع اور پائیدار ماڈلز پیش کرتے ہیں۔ان کی قیادت، باہمی سیکھنے کا عمل اور زمینی سطح پر سرگرمیاں بہترین طریقۂ کار کو وسیع پیمانے پر اپنانے، ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور نئے ابھرتے ہوئے کسانوں کی رہنمائی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ساتھ ہی، ان کے تاثرات اور تجربات مستقبل کی پالیسی سازی اور شعبہ جاتی تبدیلی کو آگے بڑھانے کے لیے قیمتی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

اجلاس کے دوران بھارتی حکومت کی ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت (ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی) کے محکمہ ماہی پروری کےمرکزی  سکریٹری (ماہی پروری) ڈاکٹر ابھی لکش لکھی  نےتمام چیمپئن فش فارمرز کی فعال شرکت اور بھرپور تبادلۂ خیال پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے کو وسعت دینے میں ان کی نمایاں خدمات کو سراہا اور سائنسی طریقۂ کار کو اپنانے اور اس کی عملی نمائش میں ان کے کردار کو تسلیم کیا۔انہوں نے چیمپئن فش فارمرز کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس کے لیے  دیگر کسانوں کو  بھی ترغیب دیں، ان کی رہنمائی کریں اور زمینی سطح پر صلاحیت سازی میں فعال کردار ادا کریں۔ اس موقع پر یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ حکومت، ریاستی حکومتوں اور آئی سی اے آر اداروں کے اشتراک سے  شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری تعاون جاری رکھے گی۔

جناب ساگر مہرا، جوائنٹ سکریٹری (ان لینڈ فشریز) نے حکومتِ ہند کی مختلف اسکیموں اور اقدامات کے فوائد پر ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ابتدائی طور پر جدید طریقہ کار اختیار کرنے والے اور عملی تجربہ رکھنے والے، چیمپئن فش فارمرز نہ صرف انفرادی کامیابی سے آگے بڑھ سکتے ہیں بلکہ کلسٹر پر مبنی ترقی، ٹیکنالوجی کی توثیق اور نئے ابھرتے ہوئے کسانوں کی رہنمائی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر جےکے جینا، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ڈی ڈی جی)، آئی سی اے آر نے جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا اور کسانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی سرگرمیوں میں تنوع پیدا کریں تاکہ اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں اور اسے  مزید مضبوط بنا سکیں۔ انہوں نے مؤثر  طور سے بیماریوں کے نظم و نسق  کرنے کو پیداوار میں بہتری اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے ایک نہایت اہم عامل قرار دیا۔ ڈاکٹر جینا نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ آئی سی اے آر، نشان زد  تربیتی پروگراموں اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے ذریعے، کسانوں کی مسلسل معاونت کرتا رہے گا۔

جناب بی مستان راؤ، رکن پارلیمنٹ، راجیہ سبھا نے جھینگا  کی پیداوار کو مضبوط بنانے اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے حوالے سے قیمتی تجاویز پیش کیں۔

تبادلۂ خیال کے دوران پدم شری جناب سلطان سنگھ (ریاست ہریانہ) سمیت دیگر چیمپئن فش فارمرز نے اپنے عملی تجربات کی بنیاد پر زمینی سطح کے متعدد مسائل اور تجاویز پیش کیں۔ ساحلی اور اندرونی علاقوں کے کسانوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بیج  کی دستیابی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو بروقت اسٹاکنگ اور پیداواری چکروں کو متاثر کرتا ہے۔ فیڈ (خوراک) کی بلند لاگت کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے گئے، اور اس ضمن میں نامیاتی اور متبادل فیڈ فارمولیشنز کو فروغ دینے کی تجاویز دی گئیں، جن میں مویشی   پروری  کے شعبے سے حاصل ہونے والے فضلے کے استعمال اور انضمام  کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیااور ان پٹ لاگت کو کم کرنے کے لیے انٹیگریٹڈ فش فارمنگ ماڈلز کو مضبوط بنانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔ آبی زراعت کی توانائی زیادہ استعمال کرنے والی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، سبسڈی شدہ بجلی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

کسانوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ ماحول دوست اور درستگی پر مبنی  زرعی ماڈلز کو اپنانا نہایت ضروری ہے، تاکہ کم اسٹاکنگ ڈینسٹی کے ساتھ بہتر جسامت اور معیار کی پیداوار حاصل کی جا سکے، نیز صلاحیت سازی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ بجلی کے زیادہ  اخراجات سے متعلق مسائل بھی اٹھائے گئے، اور اس ضمن میں شمسی توانائی کے حل کو فروغ دینے، بجلی کے بلوں کے چکروں کو زرعی سیزن کے مطابق ہم آہنگ کرنے کی تجاویز دی گئیں، تاکہ بروقت ادائیگی اور سبسڈی کے مؤثر استعمال میں سہولت فراہم ہو۔دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے ٹراؤٹ مچھلی کے کاشتکاروں نے مارکیٹ سے روابط سے متعلق مسلسل درپیش چیلنجز کی نشاندہی کی، جبکہ پہاڑی اور سرحدی علاقوں  سے تعلق رکھنے والے  کسانوں نے ناقص رابطہ سہولیات کے باعث موسم سرما میں بیج کی قلت کے مسائل کو اجاگر کیا۔ مچھلی کے بیج کے لیے مناسب ذخیرہ گاہوں کے بنیادی ڈھانچے کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی، جس سے آر اے ایس پر مبنی اسٹوریج سسٹمز کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے، جبکہ بعض خطوں میں فیڈ کی محدود دستیابی کو بھی توسیع اور پیداوار میں رکاوٹ قرار دیا گیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر وجے کمار بہیرا، چیف ایگزیکٹو، نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے چیمپئن فش فارمرز سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کیے گئے 34 ماہی پروری پیداوار اور  پروسیسنگ کلسٹرز کی توسیع میں فعال تعاون فراہم کریں۔ انہوں نے صلاحیت سازی میں چیمپئن فش فارمرز کے کردار پر زور دیا اور کوآپریٹوز کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے اراکین کی مہارتوں اور صلاحیتوں کو مضبوط بنائیں، تاکہ ماہی پروری کے شعبے کی پائیدارترویج و ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔۔ م م ع۔ر ب

U-1200


(रिलीज़ आईडी: 2219678) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी