PIB Headquarters
بھارت کا بطور جمہوریہ سفر
प्रविष्टि तिथि:
25 JAN 2026 9:48AM by PIB Delhi
یومِ جمہوریہ: اس طرح بھارت ایک جمہوریہ بنا
یومِ جمہوریہ بھارت کے قومی سفر میں ایک نہایت اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی دن، 26 جنوری 1950 کو، ملک کا آئین نافذ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی ایک ’خودمختار، جمہوری، جمہوریہ‘ کے طور پر باضابطہ طور پر تشکیل عمل میں آئی۔ بلاشبہ، 15 اگست 1947 کو آزادی حاصل ہونے کے ساتھ ہی بھارت میں نوآبادیاتی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا تھا، لیکن قانون، ادارہ جاتی جوابدہی اور شہریوں کی خواہش پر مبنی خود حکمرانی کی صورت میں بھارت کی حقیقی تبدیلی آئین کو قبول کیے جانے کے ساتھ ہی مکمل ہوئی۔

ہم اس آئینی کامیابی کو ہر سال باوقار اور رسمی تقاریب کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ تقاریب جمہوری اداروں کے طرزِ عمل اور قوم کے تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔ یومِ جمہوریہ کی تقریبات ہمارے آئینی نظریات کو عوامی منظرنامے پر نمایاں کرتی ہیں۔ اس کی سب سے واضح جھلک نئی دہلی میں کرتویہ پتھ پر منعقد ہونے والی قومی تقریب اور پریڈ میں نظر آتی ہے۔ یہ پریڈ فوجی نظم و ضبط، ثقافتی ورثے اور علاقائی نمائندگی کا ہم آہنگ مظاہرہ پیش کرتی ہے۔ اس میں شامل ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جھانکیاں بھارت کے ثقافتی تنوع کو نمایاں کرتی ہیں۔ ملک بھر میں ریاستی دارالحکومتوں، اضلاع، تعلیمی اداروں اور مقامی برادریوں میں پرچم کشائی کی تقاریب، سرکاری تقریبات اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں یومِ جمہوریہ کو آئین کی اقدار اور اصولوں کی توثیق کرنے والے ایک مشترکہ شہری موقع میں تبدیل کر دیتی ہیں۔
77واں یومِ جمہوریہ — وندے ماترم کے 150 سال
77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات کا موضوع ’وندے ماترم کے 150 سال‘ ہے۔ یومِ جمہوریہ کی پریڈ، ثقافتی مظاہرے، جھانکیاں، عوامی مقابلے اور دیگر پروگرام اسی موضوع پر مبنی ہوں گے۔ اس طرح بھارت کا قومی نغمہ آزادی، ثقافتی اظہار اور حالیہ سیاسی امنگوں کو جوڑتے ہوئے اس سال کی تقریبات کے مرکز میں ہوگا۔
قومی سطح پر، یومِ جمہوریہ کی پریڈ 2026 کو بڑے پیمانے پر تقریبات اور ثقافتی پروگراموں کی صورت میں منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جن میں عوامی شرکت پہلے سے کہیں زیادہ ہوگی۔ پریڈ کی مہمانِ خصوصی یورپی کونسل کے صدر اور یورپی کمیشن کی صدر ہوں گی، جس سے اہم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بھارت کی وابستگی کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس سال کی پریڈ میں روایتی مارچنگ دستوں اور دفاعی مظاہروں کے ساتھ ساتھ پہلی مرتبہ بھارتی فوج کی جنگی صف بندی بھی پیش کی جائے گی۔
یومِ جمہوریہ پریڈ، 2026 کے اہم پروگرام:
ریاستوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں کی کل 30 جھانکیوں کو پریڈ میں شامل کیا جائے گا، جو ’آزادی کا منتر – وندے ماترم‘ اور ’خوشحالی(سمردھی) کا منتر –(آتم نربھر بھارت) خودمختار بھارت‘ کے موضوعات پر مبنی ہوں گی۔
کرتویہ پتھ پر ثقافتی مظاہرے میں تقریباً 2500 فنکار حصہ لیں گے۔
ملک بھر سے کسانوں، ہنر مندوں، سائنسدانوں، موجدوں، خواتین کاروباری افراد، طلباء، کھلاڑیوں، اہم سرکاری اسکیموں کے مستفیدین اور فرنٹ لائن کے عملے سمیت تقریباً 10000 معزز مہمانوں کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔
شراکت داری کو تقریب کے مقام سے آگے بڑھانے کے لیے یومِ جمہوریہ سے قبل متعدد شہری مرکز مبنی اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت نے یومِ جمہوریہ کے موضوع سے شہریوں اور خاص طور پر نوجوانوں اور تخلیقی برادریوں کو جوڑنے کے لیے ’مائی گور ن منٹ(گؤو)‘ اور ’مائی بھارت‘ جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے قومی مقابلے منعقد کیے ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
- ’آزادی کا منتر (سوتنترتا کا منتر)– وندے ماترم‘ پر مضمون نویسی کا مقابلہ۔
- ’خوشحالی کا منتر (سمردھی کا منتر)–(آتم نربھربھارت) خودمختار بھارت‘ پر مصوری کا مقابلہ۔
- وندے ماترم’ گائیکی مقابلے۔
- وندے ماترم، خلائی تحقیق اور کھیلوں میں بھارت کی کامیابیوں اور قومی ترقیاتی پروگراموں جیسے موضوعات پر کوئز مقابلے۔
ان مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے ’مائی بھارت‘ پورٹل استعمال کیا جا سکتا ہے، جو یومِ جمہوریہ، 2026 کے لیے مختص ہے۔ ان مقابلوں کے فاتحین کو یومِ جمہوریہ کی تقریبات سے منسلک ہونے کے لیے دعوت دی جائے گی، جس سے عوامی شراکت اور قومی تقریب کے درمیان براہِ راست تعلق قائم ہوگا۔
موضوعاتی پریڈ، وسیع عوامی شراکت اور ملک گیر شراکتی پروگرام مل کر 77ویں یومِ جمہوریہ کو ایک ایسے جشن میں بدل دیتے ہیں جس میں روایتی تقریبات اور شمولیتی شراکت داری کا سنگم ہوگا۔ ان پروگراموں کے ذریعے شہری اس موقع سے بطور ناظر اور شریک، دونوں طرح سے منسلک ہو سکیں گے۔
26 جنوری: مکمل خودمختاری (پورنا سوراج )سے آئین تک
26 جنوری کو یومِ جمہوریہ قرار دینے کا فیصلہ بھارت کی آئینی شروعات کو اس کے آزادی کی جدوجہد کے سنگِ میل میں شامل کرنے کے سوچے سمجھے تاریخی انتخاب کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تاریخ 1930 میں مکمل خودمختاری کا دن (پورن سوراج دیوس )منانے سے لے کر 1950 میں خود حکمرانی کی آئینی نظام کو باضابطہ طور پر قبول کرنے تک کے دو دہائیوں میں واضح پیش رفت کی علامت ہے۔ اس سفر کو سمجھنا یومِ جمہوریہ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی امنگ کو کس طرح بتدریج ایک پائیدار آئینی نظام میں تبدیل کیا گیا۔
بھارت کا آزادی سے جمہوریہ تک کا راستہ
26 جنوری، 1930 – مکمل خودمختاری (پورنا سوراج )کے لیے پکار
قومی آزادی کی جدوجہد کے دوران قراردادیں منظور ہونے کے بعد 1929 میں مکمل خودمختاری کی مانگ باضابطہ سیاسی ہدف بن گئی۔ بھارتیوں نے 26 جنوری، 1930 کو پورے ملک میں مکمل خودمختاری کا دن (پورنا سوراج ڈے یا دیوس )منایا۔ اس کے ذریعے انہوں نے برطانوی حکومت کے تحت نوآبادیاتی حیثیت کو مسترد کرتے ہوئے مکمل خودمختاری کے ہدف کے لیے خود کو وقف کیا۔ یہ آزادی کی جدوجہد میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا جس کے ذریعے ملک کے شہریوں نے نوآبادیاتی حکمرانی کے تحت آئینی اصلاحات کی مانگ سے آگے بڑھتے ہوئے ایک واضح سیاسی ہدف سامنے رکھا۔
9 دسمبر، 1946 – آئینی اسمبلی نے کام شروع کیا
بھارت کی آئینی اسمبلی نے اپنی پہلی اجلاس 9 دسمبر، 1946 کو کانسٹی ٹیوشن ہال میں کی، جسے اب پارلیمنٹ ہاؤس کے(سینٹرل ہال) مرکزی کمرے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے آئین کے قیام کے عمل کی باضابطہ شروعات ہو گئی۔ اس اسمبلی نے آزاد بھارت کے آئین کے قیام کی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے 2 سال، 11 ماہ اور 17 دن کام کیا۔ اس نے اس تاریخی کام کو مکمل کرنے کے لیے 165 دن میں 11 اجلاس منعقد کیے۔ آئین کے مسودے پر 114 دن تفصیل سے غور و خوض کیا گیا۔ آئینی اسمبلی کے اراکین کا براہِ راست انتخاب صوبائی اسمبلیوں اور ریاستوں کے نمائندوں نے کیا۔ یہ یقینی بنایا گیا کہ آئین کا قیام ایک وسیع نمائندگی اور غور و خوض کے عمل کے ذریعے ہو۔
15 اگست، 1947 – بھارت کو آزادی ملی
15 اگست، 1947 کو بھارت نے آزادی حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً دو صدیوں کی نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے کی شروعات ہوئی۔ اقتدار کا منتقلی ایک طویل اور مسلسل آزادی کی جدوجہد کا نتیجہ تھا جس میں ملک بھر میں رہنماؤں کے علاوہ عام شہریوں نے بھی حصہ لیا۔ آزادی کے ساتھ بھارتی شہریوں کی سیاسی خودمختاری بحال ہوئی اور قوم کی تعمیر کا عمل شروع ہوا۔ نو آزاد یا خودمختارملک نے جمہوری نظریات، اتحاد اور خود ارادیت کی بنیاد پر اپنے مستقبل کی تعمیر شروع کی۔
26 نومبر، 1949 – بھارت کا آئین اپنایا گیا

تقریباً تین سال کے وسیع غور و خوض کے بعد، آئینی اسمبلی نے بھارت کا آئین اپنایا، جو جمہوری اداروں کے قیام میں سب سے اہم کاموں میں سے ایک تھا۔ آئین سازی کے عمل میں بھارتی ریاست کی تشکیل، شہریوں کے حقوق اور فرائض، حکومت کے مختلف شعبوں کے درمیان طاقت کے توازن، اور سماجی انصاف اور مساوات کے لیے حفاظتی اقدامات پر تفصیل سے بحث کی گئی۔ آئین کو اپنانا جمہوری اقدار اور آئینی اصولوں پر مبنی حکومتی نظام قائم کرنے کی اس اجتماعی کوشش کی انتہا کی علامت تھا۔ اسے اپنانے کی تاریخ 26 نومبر 1949 ہے، جو باضابطہ طور پر آئین کی تمہید کی آخری سطر میں درج ہے، اور اس کے آئینی حق اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
26 جنوری 1950 – آئین نافذ ہوا

جب 26 جنوری 1950 کو آئین نافذ ہوا، تو بھارت باضابطہ طور پر ایک خودمختار جمہوریہ بن گیا، جس نے آزاد بھارت میں آئینی حکومت کے آغاز کی بنیاد رکھی۔ 1976 میں 42ویں ترمیم کے ذریعے ’سوشلسٹ اور سیکولر‘ کے الفاظ شامل کیے گئے۔ اس کے بعد بھارت ایک خودمختار، سوشلسٹ، سیکولر، جمہوریہ بن گیا۔ نئے نافذ شدہ آئین کو بھارت حکومت ایکٹ 1935 کے متبادل کے طور پر نافذ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی، آئین کے تحت کام کرنے والے جمہوری اداروں کو اختیارات اور خودمختاری سونپ دی گئی۔
26 جنوری کی تاریخ جان بوجھ کر منتخب کی گئی تھی، کیونکہ یہ تاریخ 1930 کے ’(پورنا سوراج )مکمل خودمختاری‘ کی تاریخی میراث کو محفوظ رکھتی تھی، جس دن مکمل آزادی کو قومی ہدف کے طور پر اعلان کیا گیا تھا۔ اس تاریخ پر آئین نافذ کرکے، آزاد بھارت نے علامتی طور پر آزادی کی جدوجہد کو آئینی جمہوریہ کے ادارہ جاتی ڈھانچے سے جوڑ دیا۔
بھارت کا آئین
اپنایا گیا: 26 نومبر، 1949
نافذ ہوا: 26 جنوری، 1950
بھارت کا آئین وہ بنیادی دستاویز ہے جس کے ذریعے بھارتی ریاست کا نظامِ کار چلایا جاتا ہے۔ اس کے نفاذ کے ساتھ ہی بھارت باضابطہ طور پر ایک خودمختار جمہوریہ بن گیا، جو قانون اور جمہوری اداروں کے تحت رہنمائی یافتہ ہے۔ 1976 میں 42ویں ترمیم کے ذریعے اس میں ’سوشلسٹ‘ اور ’سیکولر‘ کے الفاظ شامل کیے گئے، جس سے بھارت ایک خودمختار، سوشلسٹ، سیکولر، جمہوریہ بن گیا۔
آئین کی تمہید جمہوریہ کے رہنما اصول، انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارے کو متعین کرتی ہے، جو آئین کے نفاذ اور اس کے احکامات کی وضاحت کے لیے بنیاد ہیں۔ آئین نے وفاق اور ریاست دونوں سطحوں پر مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات اور ذمہ داریوں کو متعین کر کے حکومت کے ڈھانچے کی وضاحت کی ہے۔ یہ ایک نگرانی، توازن اور جوابدہی کا نظام قائم کرتا ہے۔
آئین درج ذیل کا بھی انتظام فراہم کرتا ہے:
- بنیادی حقوق: جو ضروری آزادی اور قانونی تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔
- ریاستی پالیسی کے رہنما اصول: جو حکومت اور عوامی پالیسی کی رہنمائی کرتے ہیں۔
- بنیادی فرائض: جو شہری ذمہ داری کو اجاگر کرتے ہیں۔
یہ تمام انتظامات مل کر وہ آئینی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں جس کے ذریعے بھارت کا نظامِ حکومت چلایا جاتا ہے اور یہ جمہوریہ کے جمہوری کام کاج کی رہنمائی کرتا ہے۔
یومِ جمہوریہ آج: قومی جشن اور زندہ آئینی اقدار
ہر سال یومِ جمہوریہ ایک مشترکہ قومی فخر کے طور پر منایا جاتا ہے، جس دن تقریبات، رنگ اور اجتماعی یادیں ایک ساتھ جڑ جاتی ہیں۔ دارالحکومت سے لے کر ملک کے دور دراز علاقوں تک یہ دن پرچم کشائی اور مسلح افواج و اسکولی بچوں کی پریڈ کے ذریعے منایا جاتا ہے، جس سے اس دن کی اہمیت کا ایک مشترکہ شعور پیدا ہوتا ہے۔
ان پریڈوں میں سب سے شاندار اور اہم پریڈ نئی دہلی کے کرتویہ پتھ پر منعقد کی جاتی ہے، جو ملک کی ثقافتی میراث اور فوجی طاقت کی ایک رنگین تصویر پیش کرتی ہے۔ دن کا آغاز قومی یادگارِ شہداء (نیشنل وار میموریل )پر وزیرِ اعظم کے ذریعے شہید فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے ہوتا ہے، جس سے مرکزی تقریب سے پہلے قومی فخر کا ماحول قائم ہوتا ہے۔

کرتویہ پتھ پر، بھارت کے صدر کی آمد کے ساتھ ہی پروگرام کی باضابطہ شروعات ہوتی ہے۔ قومی پرچم کشائی، قومی ترانہ اور 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ پریڈ کا آغاز ہوتا ہے۔ فوج، بحریہ اور فضائیہ کے مارچنگ دستے اور دیگر یونیفارم والے سروسز کے اہلکار رسمی طور پر پریڈ کرتے ہوئے کارتویہ پتھ سے گزرتے ہیں، جو ان کے نظم و ضبط اور ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ میکانائزڈ دستے اور منتخب دفاعی مظاہرے اس شاندار منظر کو اور بھی پر وقار بناتے ہیں۔


پریڈ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور وزارتوں کی جھانکیاں بھی دکھائی جاتی ہیں، جو علاقائی ثقافت اور قومی اہمیت کے موضوعات کی عکاسی کرتی ہیں۔ جلوس میں شامل ثقافتی مظاہرے بھی اس کی رسمی روانی کو متاثر کیے بغیر اس میں شان پیدا کرتے ہیں۔ پریڈ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ شہید ہونے والے فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے اور ملک کی خدمت کرنے والے فوجی اہلکاروں اور شہریوں کو بہادری کے اعزازات دیے جائیں۔ موٹر سائیکل کے تماشائی مظاہرے اور بھارتی فضائیہ کے فلائی پاسٹ جیسے اہم مظاہرے کے بعد پریڈ کا شاندار اختتام ہوتا ہے۔
رسمی تقریب تین دن بعد 29 جنوری کو مکمل ہوتی ہے۔ اسے ’بیٹنگ دی ریٹریٹ‘ تقریب کہا جاتا ہے، جو وجے چوک پر منعقد ہوتی ہے اور یومِ جمہوریہ کی رسمی اختتام کی علامت ہے۔ ‘بیٹنگ دی ریٹریٹ’ صدیوں پرانی فوجی روایت کی نمائندگی کرتا ہے، جب سورج غروب ہونے پر ‘ریٹریٹ’ کی آواز بجنے پر فوجی لڑائی بند کر دیتے، اپنے ہتھیار غلاف میں رکھتے اور جنگ کے میدان سے واپس کیمپوں میں لوٹ جاتے تھے۔
حوالہ جات:
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
***
(ش ح۔اس ک )
UR-1054
(रिलीज़ आईडी: 2218427)
आगंतुक पटल : 8