وزیراعظم کا دفتر
انڈمان اور نکوبار جزائر میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پراکرم دیوس پروگرام کے دوران وزیر اعظم کے خطاب کا اصل متن
प्रविष्टि तिथि:
23 JAN 2026 6:33PM by PIB Delhi
نمسکار! انڈمان و نکوبار کے گورنر ایڈمرل ڈی۔ کے۔ جوشی جی، نتاجی سبھاش چندر بوس آئی این اے ٹرسٹ کے صدر بریگیڈیئر آر۔ ایس۔ چھیکار اجی، ہندوستان کے تحریک آزادی کے شریک اور آئی این اے کے زندہ جاوید شخص لیفٹیننٹ آر۔ مادھون جی،
تیئس(23) جنوری کی یہ قابل فخر تاریخ، نتاجی سبھاش چندر بوس کی یومِ پیدائش ہے، نتاجی کی بہادری، ان کا شجاعت، آج کی یہ تاریخ ہمیں تحریک بھی دیتی ہے اور نتاجی کے تئیں عقیدت و احترام کے جذبے کا احساس بھی کراتی ہے۔
ساتھیو ،
گزشتہ برسوں میں پراکرم دیوس، ملک کی قومی روح اور قومی جذبے کا ایک لازمی تہوار بن گیا ہے۔ یہ خوشگوار اتفاق ہے کہ 23 جنوری کو پراکرم دیوس، 25 جنوری کو یومِ رائے دہندگان، 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ، 29 جنوری کو بیٹنگ ریٹریٹ اور پھر 30 جنوری کو قابل احترام باپو جی کی برسی منائی جاتی ہے،یہ جمہوری تہوار منانے کی ایک نئی روایت قائم ہو گئی ہے، میں اس موقع پر آپ سبھی کو اورتمام ہم وطنوں کو پراکرم دیوس کی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
بھائیو اور بہنوں ،
سال 2026 میں پراکرم دیوس کی اہم تقریب انڈمان نکوبار میں منعقد ہو رہی ہے ۔ انڈمان اور نکوبار جزائر کی تاریخ، بہادری اور قربانیوں سے بھری ہوئی ہے، اس کی سیلولر جیل میں قید ویر ساورکر جیسے لاتعداد محب وطن لوگوں کی کہانیاںاور نیتا جی سبھاش چندر بوس سے اس کا تعلق، اس پراکرم دیوس کے جشن کو مزید خاص بناتا ہے۔ انڈمان کی سرزمین اس یقین کی علامت ہے کہ آزادی کا تصور کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہاں بہت سے انقلابیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور لاتعداد جنگجوؤں نے یہاں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن جدوجہد آزادی کی چنگاری بجھنے کے بجائے مزیدشدت اختیار کر گئی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ انڈمان اور نکوبار کی یہ سرزمین آزاد ہندوستان کے پہلے طلوع آفتاب کی گواہ بنی۔ 1947 سے پہلے بھی 30 دسمبر 1943 کو سمندر کی لہروں کی گواہی دیتے ہوئے یہاں ہندوستانی ترنگا لہرایا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ 2018 میں، جب اس اہم واقعہ کو 75 سال مکمل ہوئے تھے، 30 دسمبر کو، مجھے انڈمان کے اسی مقام پر ترنگا لہرانے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ قومی ترانے کی دھن پر، سمندر کے کنارے تیز ہواؤں میں ترنگا لہرا رہا تھا، گویا پکار رہا تھا، ’’دیکھو، آج کتنےلاتعداد مجاہد آزادی کے خوابوں کی تعبیر ہوئی ہے۔‘‘
بھائیو اور بہنو ں،
آزادی کے بعد جزائر انڈمان اور نکوبار کی اس شاندار تاریخ کو محفوظ رکھا جانا چاہیے تھا۔ تاہم، اس وقت اقتدار میں رہنے والوں میں عدم تحفظ کا احساس تھا۔ وہ آزادی کا سہرا صرف ایک خاندان تک محدود کرنا چاہتے تھے۔ اس سیاسی مفاد میں قوم کی تاریخ کو نظر انداز کر دیا گیا! انڈمان اور نکوبار جزائر کو غلامی کی شناخت سے وابستہ رہنے دیا گیا! آزادی کے 70 سال بعد بھی اس کے جزائر برطانوی حکام کے ناموں سے جانے جاتے تھے۔ ہم نے اس تاریخی ناانصافی کو ختم کیا۔ اسی لیے آج پورٹ بلیئر سری وجئے پورم بن گیا ہے۔ سری وجئے پورم، یہ نیا نام، یہ شناخت، نیتا جی کی جیت کی یاد دہانی ہے۔ اسی طرح دیگر جزیروں کو بھی جزیرہ سوراج، جزیرہ شہید اور سبھاش جزیرے کا نام دیا گیا۔ 2023 میں، انڈمان جزائر کے 21 جزائر کو بھی 21 پرم ویر چکر جیتنے والوں، ہندوستانی فوج کے بہادر جنگجوؤں کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ آج انڈمان اور نکوبار جزائر میں غلامی کے نام مٹ رہے ہیں اور آزاد ہندوستان کے نئے نام اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔
ساتھیو ،
نیتا جی سبھاش چندر بوس نہ صرف جدوجہد آزادی کے عظیم ہیرو تھے بلکہ آزاد ہندوستان کے عظیم بصیرت بھی تھے۔ انھوں نے ایک ایسے ہندوستان کا تصور کیا جو کردار میں جدید ہو اور جس کی روح ہندوستان کے قدیم شعور میں پیوست ہو! یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نیتا جی کے اس وژن کو موجودہ نسل کو متعارف کرائیں، اور مجھے خوشی ہے کہ ہماری حکومت اس ذمہ داری کو بخوبی نبھا رہی ہے۔ ہم نے دہلی کے لال قلعہ میں نیتا جی سبھاش چندر بوس کے نام وقف ایک میوزیم بنایا ہے۔ انڈیا گیٹ کے قریب نیتا جی کا ایک بڑا مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔ ملک نے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں ہندوستانی فوج کے تعاون کو بھی یاد کیا ہے۔ ہم نے سبھاش چندر بوس ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایوارڈز بھی قائم کیے ہیں۔ یہ مختلف اقدامات صرف نیتا جی سبھاش چندر بوس کا احترام ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہماری نوجوان نسل کے لیے اور مستقبل کے لیے بھی لافانی تحریک کا ذریعہ ہیں۔ اپنےمشعل راہ کا یہ احترام اور ان سے حاصل ہونے والی یہ تحریک ہی ہمارے وکست بھارت کے عزت کو توانائی اور اعتماد سے بھر رہا ہے۔
ساتھیو ،
ایک کمزور قوم کا اپنے ہدف تک پہنچنا مسکل لگتا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نیتا جی سبھاش نے ہمیشہ ایک مضبوط قوم کا خواب دیکھا ۔ آج اکیسویں صدی کا ہندوستان بھی ایک مضبوط اور پرعزم قوم کے طور پر اپنی شناخت بنا رہا ہے ۔ ابھی ابھی آپ نے دیکھا ہے کہ آپریشن سندور ، ہندوستان کو زخم دینے والوں کے گھر میں گھس کر انہیں تباہ کر دیا ۔ بھارت آج طاقت بڑھانا بھی جانتا ہے ،طاقت کو سنبھالنا بھی جانتا ہے اور اس کا استعمال کرنا بھی جانتا ہے۔ نیتا جی سبھاش کے مضبوط ہندوستان کے وژن پر چلتے ہوئے ، آج ہم دفاعی شعبے کوآتم نربھر بنانے میں مصروف ہیں ۔ اس سے پہلے ہندوستان صرف بیرون ملک سے ہتھیاروں کی درآمد پر انحصار کرتا تھا ۔ آج ہماری دفاعی برآمدات 23 ہزار کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے ۔ بھارت میں بنی برہموس اور دیگر میزائل کئی ممالک کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا رہی ہیں ۔ ہم سودیشی کی طاقت سے ہندوستان کی افواج کو جدید بنا رہے ہیں ۔
بھائیو اور بہنوں ،
آج 140 کروڑ ہم وطن وکست بھارت کے عزم کے لیے متحد ہوکر کام کر رہے ہیں ۔ وکست بھارت کا یہ راستہ آتم نر بھر بھارت مہم سے مضبوط ہوتا ہے ، اسے سودیشی کے منتر سے طاقت ملتی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ وکست بھارت کے اس سفر میں پراکرم دیوس کی تحریک ہمیں مسلسل اسی طرح قوت فراہم کرتی رہے گی ۔ میں ایک بار پھر آپ سب کو نیتاجی سبھاش کے یوم پیدائش پر مبارکباد پیش کرتاہوں ۔
بھارت ماتا کی جئے!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
وندے ماترم!
*****
ش ح- م ع ن- ش ب ن
U.No.1005
(रिलीज़ आईडी: 2217911)
आगंतुक पटल : 5