جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
توانائی کی منتقلی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں صنعت کاری ، روزگار اور مسابقت کو فروغ دے سکتی ہے: مرکزی وزیر پرہلاد جوشی
ماڈیولز سے لے کر اسٹوریج تک ، ہندوستان بے مثال رفتار سے مربوط صاف توانائی کی پیداواری صلاحیت بڑھا رہا ہے: پرہلاد جوشی
ڈیووس سے دہلی تک: مرکزی وزیر کا کہنا ہے کہ اگلی دہائی ہندوستان کی ہے
प्रविष्टि तिथि:
22 JAN 2026 9:52PM by PIB Delhi
نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی نے کہا ہے کہ ہندوستان کی توانائی کی منتقلی کو دانستہ طور پر صنعتی ترقی کو فروغ دینے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے، بالخصوص ابھرتی ہوئی معیشتوں کے تناظر میں۔
ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ 2026 کے دوران ’’انرجی: دی گریٹ فنڈنگ گیپ(توانائی: فنڈنگ میں وسیع فرق )‘‘ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے اپنی صاف اور پائیدار توانائی کی منتقلی کو عوام پر مرکوز ایک ہمہ گیر ترقیاتی تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔
بھارت کی ترقیاتی حکمتِ عملی کے مرکز میں قابلِ تجدید توانائی
مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان اب تک 267 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جس میں قابلِ تجدید توانائی ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی صلاحیت کا تقریباً 52 فیصد حصہ رکھتی ہے، جو طے شدہ سابقہ اہداف سے کہیں آگے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان توانائی کی منتقلی کو محض ایک ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ ترقی کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے، جو تیز رفتار صنعتی ترقی کی حمایت کرتا ہے اور کاروباری اداروں اور گھریلو صارفین دونوں کے لیے بجلی کو زیادہ سستی بناتا ہے۔
سماجی و اقتصادی تبدیلی کو فروغ دینے والی عوام پر مرکوز اسکیمیں
ڈی سینٹرلائزڈ قابلِ تجدید توانائی کے فلیگ شپ پروگراموں پر روشنی ڈالتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ پی ایم سوریا گھر: مفت بجلی یوجنا نے گزشتہ دو برسوں کے دوران 27 لاکھ گھروں میں روف ٹاپ سولر نظام کی تنصیب کو ممکن بنایا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایک کروڑ گھروں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے تقریباً 30 گیگاواٹ بجلی کی پیداوار متوقع ہے۔
اسی طرح پی ایم-کسم اسکیم کے تحت ملک بھر میں 21 لاکھ سے زائد کسانوں نے اپنے آبپاشی پمپوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا ہے، جس سے سبسڈی یافتہ گرڈ بجلی پر انحصار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس اقدام نے کسانوں کو اضافی بجلی فروخت کر کے اضافی آمدنی حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف سستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں بلکہ صارفین کو محض توانائی کے استعمال کنندگان کے بجائے ’’ترقی کے شراکت دار‘‘ میں تبدیل کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گھریلو آمدنی میں اضافہ اور دیہی معیشت میں بہتری آ رہی ہے۔
کم لاگت بجلی، مضبوط صنعت
یہ واضح کرتے ہوئے کہ قابلِ تجدید توانائی نے بجلی کے نرخوں میں کمی لانے میں کس طرح مدد دی ہے، مرکزی وزیر نے زرعی شعبے میں پمپوں کی شمسی کاری کے ذریعے بجلی کی فراہمی میں اصلاحات کی مثال پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں تقسیم کار کمپنیوں پر سبسڈی کا مالی بوجھ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔
زیادہ لاگت والی سبسڈی یافتہ بجلی کو کم لاگت شمسی توانائی سے تبدیل کرنے سے حاصل ہونے والی بچت صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے کم ٹیرف کی صورت میں منتقل ہوئی ہے، جو ہندوستان کے بجلی کے شعبے میں ایک تاریخی تبدیلی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے انقلاب کے باعث بجلی کے نرخ مسلسل کم ہو رہے ہیں۔
مکمل صاف توانائی مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کی تشکیل
مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان نے قابلِ تجدید توانائی کی ویلیو چین میں ایک مضبوط گھریلو مینوفیکچرنگ بنیاد قائم کر لی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں شمسی ماڈیولز کی مینوفیکچرنگ صلاحیت 144 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ شمسی سیلز کی مینوفیکچرنگ صلاحیت 27 گیگاواٹ ہو گئی ہے، جس کے مستقبل قریب میں تقریباً 50 گیگاواٹ تک بڑھنے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان مکمل مینوفیکچرنگ سائیکل کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے، جس کے تحت ویفرز اور انگوٹس کی منصوبہ بند تیاری کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔
شمسی توانائی کے ساتھ ساتھ، مرکزی وزیر نے ونڈ انرجی، بیٹری اسٹوریج اور پمپڈ اسٹوریج حلوں کی تیز رفتار توسیع پر بھی زور دیا، جو بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی اور گرڈ کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف صاف توانائی کی سپلائی چین کو مضبوط بنا رہے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں اور ہندوستان کی صنعتی مسابقت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
توانائی کی سلامتی اور قابلِ اعتماد ی کے لیے مربوط حکمتِ عملی
گرڈ کی قابلِ اعتماد ی سے متعلق خدشات کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان قابلِ تجدید توانائی کو توانائی کے ذخیرے، پمپڈ اسٹوریج ہائیڈرو اور جوہری توانائی کے ساتھ مربوط کر کے ایک جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیس لوڈ صلاحیت کو مستحکم بنانے کے لیے جوہری توانائی میں توسیع کے مقصد سے قانونی اور پالیسی اصلاحات بھی نافذ کی گئی ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان کا تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ توانائی کی سلامتی، استطاعت اور پائیداری ایک دوسرے سے متصادم اہداف نہیں بلکہ مربوط پالیسی ڈیزائن، بڑے پیمانے پر نفاذ اور مضبوط گھریلو مینوفیکچرنگ کے ذریعے بیک وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا صاف توانائی کا سفر دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ایک عملی نمونہ پیش کرتا ہے جو توانائی کی منتقلی کے ذریعے ترقی، روزگار اور عالمی مسابقت کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے صاف توانائی میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی تعاون اور ہندوستان کے توانائی منتقلی کے اہداف سے ہم آہنگ بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے عالمی صنعت کے قائدین اور مختلف ممالک کے وزرا کے ساتھ اعلیٰ سطحی دو طرفہ ملاقاتوں کا ایک سلسلہ بھی منعقد کیا۔

دو طرفہ سفارتی مصروفیات کے سلسلے میں، جناب جوشی نے اردن کے وزیرِ سرمایہ کاری ڈاکٹر تارک ابو غزالہ اور وزیرِ منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون محترمہ زینہ توکان سے ملاقات کی، جس کے دوران باہمی تعاون اور سرمایہ کاری کی شراکت داری کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مرکزی وزیر نے عزت مآب زمبابوے کے وزیرِ خارجہ اور بین الاقوامی تجارت جناب امون مرویرا سے بھی ملاقات کی، جس کے دوران قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت۔زمبابوے تعاون کو مزید گہرا کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انہوں نے زمبابوے میں اسٹار-سی سینٹر کے قیام کے لیے بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے)سمیت مختلف عالمی فورمز پر ہندوستان کی حمایت پر زمبابوے کی ستائش کا ذکر کیا۔
بات چیت میں دیہی اور دور دراز علاقوں کے لیے وکندریقرت شمسی توانائی کے حل کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے شعبوں، جیسے گرین ہائیڈروجن، بایو انرجی اور وکندریقرت توانائی کے نظام، میں تعاون کے امکانات کا بھی احاطہ کیا گیا۔

جناب پرہلاد جوشی نے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فتح بیرول سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ہندوستان سے متعلق مخصوص اعداد و شمار، تجزیے اور پالیسی سفارشات پر آئی ای اے کی توجہ کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کی لاگت میں کمی کے لیے جدید مالیاتی طریقۂ کار کی تلاش پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
عالمی صنعت کے قائدین کے ساتھ روابط
مرکزی وزیر نے ایکونیا ایس اے کے چیف فنانشل اینڈ سسٹین ایبلٹی آفیسر، جناب جوس اینٹریکینالس کیرین کے ساتھ ہندوستان میں قابل تجدید توانائی اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کے مواقع کو بڑھانے کے حوالے سے مستقبل پر مبنی بات چیت کی۔ اس گفتگو کا مرکز یوٹیلیٹی اسکیل سولر، آن شور ونڈ، ہائبرڈ ونڈ سولر اسٹوریج حل، اور 2030 تک ہندوستان کے 500 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کے ہدف کے مطابق 24 گھنٹے قابل تجدید توانائی پر رہا۔
ایک اور ملاقات میں، جناب پرہلاد جوشی نے انجن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، کیتھرین میک گریگور کے ساتھ بات چیت کی اور ہندوستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے صاف توانائی کے ماحولیاتی نظام میں گہری اور پائیدار سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی۔ طویل مدتی صاف توانائی کی سرمایہ کاری کے لیے ہندوستان کو دنیا کے سب سے پرکشش مقامات میں سے ایک کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان میں قابل تجدید توانائی اب صاف، سستی اور شفاف ہے اور اسے بازار پر مبنی میکانزم کے تحت چلایا جا رہا ہے۔
صاف توانائی کے لیے مالیاتی اور مارکیٹ فریم ورک
مرکزی وزیر نے ایس اینڈ پی گلوبل کے صدر ڈیو ایرنسبرگر کے ساتھ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں کریڈٹ اسسمنٹ، ای ایس جی معیارات اور قیمتوں کی دریافت کے لیے مضبوط عالمی فریم ورک بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک مربوط فریم ورک کی ضرورت ہے جو ہندوستان کی قابل تجدید توانائی مارکیٹ کے پیمانے، پالیسی استحکام اور آپریٹنگ حقائق کی عکاسی کرے، جس میں قابل تجدید منصوبوں کے لیے مخصوص کریڈٹ ریٹنگ کے طریقہ کار کو شامل کیا گیا ہے۔
جناب جوشی نے بلوم انرجی کے ایگزیکٹو نائب صدر اور چیف کمرشل آفیسر، امان جوشی سے بھی ملاقات کی اور صاف، قابل اعتماد اور تقسیم شدہ بجلی کے حل، خاص طور پر صنعتی کلسٹرز اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے فیول سیل ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کیا۔
***
(ش ح۔اس ک )
UR-979
(रिलीज़ आईडी: 2217764)
आगंतुक पटल : 6