سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ اے آئی اور کونکن ریلوے کے درمیان مربوط بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

प्रविष्टि तिथि: 21 JAN 2026 6:10PM by PIB Delhi

مربوط بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو مضبوط بنانے کے مقصد سے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) اور کونکن ریلوے کارپوریشن لمیٹڈ (کے آر سی ایل)، جو وزارتِ ریلوے کے تحت ایک عوامی شعبے کا ادارہ ہے، نے آج وسائل کے بہتر استعمال اور باہمی فائدہ مند مواقع کی تلاش کے لیے تعاون کا ایک جامع فریم ورک قائم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس مفاہمتی یادداشت پر نئی دہلی میں این ایچ اے آئی کے صدر دفتر میں این ایچ اے آئی کے چیئرمین جناب سنتوش کمار یادو کی موجودگی میں، این ایچ اے آئی اور کے آر سی ایل کے سینئر افسران کے ہمراہ دستخط کیے گئے۔ اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد دونوں اداروں کی تکمیلی صلاحیتوں اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ دینا اور رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔

اس جامع مفاہمتی یادداشت کے تحت این ایچ اے آئی اور کے آر سی ایل باہمی دلچسپی کے شعبوں کی نشاندہی، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے باہمی تعاون کریں گے۔ یہ شراکت داری سڑک اور ریل کے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں قریبی ہم آہنگی کو ممکن بنائے گی، خصوصاً مشکل اور چیلنجنگ علاقوں میں، جہاں مربوط حل زیادہ مؤثر، محفوظ اور معاشی فائدہ فراہم کر سکتے ہیں۔

تعاون کے اہم شعبوں میں قومی شاہراہوں اور ریل کے بنیادی ڈھانچے کی مربوط ترقی کی منصوبہ بندی شامل ہے، جن میں ریل-کم-روڈ پل اور سرنگیں، ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارکس، انٹر ماڈل ہبز اور ان مقامات پر گریڈ سیپریٹرز کی تعمیر شامل ہے جہاں قومی شاہراہیں ریلوے لائنوں کو کاٹتی ہیں یا ان کے ساتھ ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ اس مفاہمتی یادداشت میں جہاں ممکن ہو مشترکہ یوٹیلیٹی کاریڈورز کی ترقی کا تصور بھی شامل ہے۔

یہ تعاون این ایچ اے آئی کو کے آر سی ایل کے مشکل جغرافیائی علاقوں میں منصوبوں کی تکمیل کے وسیع تجربے سے استفادہ کرنے میں مدد دے گا، جس میں پیچیدہ پلوں اور سرنگوں کے منصوبوں کے لیے ڈیزائن کے جائزے/تصدیق، ڈرائنگز اور حفاظتی پہلوؤں کی جانچ، نیز ڈھلوانوں کے استحکام سے متعلق خصوصی معاونت شامل ہے۔ مفاہمتی یادداشت میں موجودہ سرنگوں اور ڈھلوانی تحفظ کے کاموں کے حفاظتی اور معیاری آڈٹس فراہم کرنا، نیز کے آر سی ایل کے تربیتی ادارے میں این ایچ اے آئی کے افسران اور عملے کے لیے تربیتی پروگراموں کا انعقاد بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ، مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی مہارت کے تبادلے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے، جس میں منصوبہ جاتی انتظام، انجینئرنگ ڈیزائن، تعمیراتی طریقۂ کار، ارضیاتی چیلنجز سے نمٹنے اور ماحولیاتی نظم و نسق سے متعلق بہترین عملی طریقے شامل ہیں۔ جدید تعمیراتی مواد اور تکنیکوں میں مشترکہ تحقیق و ترقی، نیز منصوبہ مخصوص مشاورتی خدمات کی فراہمی بھی اس مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہے۔

دونوں ادارے قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک اور کونکن ریلوے کاریڈور کے ساتھ واقع اضافی یا کم استعمال شدہ اراضی کی مشترکہ نشاندہی اور تجارتی ترقی، لاجسٹکس سہولیات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے استعمال کے مواقع تلاش کریں گے۔ یہ تعاون لاجسٹکس اور رابطہ کاری کو بہتر بنانے پر بھی مرکوز ہوگا، جس میں مال برداری اور مسافر نقل و حمل کے لیے مؤثر فرسٹ مائل اور لاسٹ مائل حل کی منصوبہ بندی، سڑک اور ریل نیٹ ورکس کا انضمام اور سامان کی ترسیل کی کارکردگی بڑھانے کے لیے مخصوص فریٹ کاریڈورز یا روابط کے قیام سے متعلق حل شامل ہیں۔

مزید برآں، این ایچ اے آئی اور کے آر سی ایل منصوبوں کی نگرانی، ٹریفک اور اثاثہ جاتی نظم و نسق اور اسمارٹ انفراسٹرکچر حل کے لیے جدید ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل حل اپنانے، نیز بہتر منصوبہ بندی اور عملی کارکردگی کے لیے ڈیٹا کے تبادلے پر بھی تعاون کریں گے۔

موثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے دونوں اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) تشکیل دیا جائے گا۔ یہ گروپ تعاون کے لیے مخصوص منصوبوں کی نشاندہی، ابتدائی جائزوں اور فزیبلٹی مطالعے کی انجام دہی، تفصیلی منصوبہ جاتی تجاویز کی تیاری، پیش رفت کی نگرانی اور عملی مسائل کے حل کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ مفاہمتی یادداشت ابتدائی طور پر پانچ برس کی مدت کے لیے مؤثر رہے گی۔

یہ اسٹریٹجک شراکت داری مربوط منصوبہ بندی، عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے این ایچ اے آئی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، جو ملک کی مجموعی ترقی اور پیش رفت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-894


(रिलीज़ आईडी: 2217040) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी