مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

لکھنؤ اتر پردیش کا پہلا زیرو فریش ویسٹ ڈمپ شہر بن گیا


لکھنؤ نے سوچھ بھارت مشن – شہری کے تحت میونسپل سالڈ ویسٹ کی 100 فیصد سائنسی پروسیسنگ کا ہدف حاصل کر لیا ہے

نئے طور پر شروع کیے گئے شیواری سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ کی یومیہ پروسیسنگ صلاحیت 700 میٹرک ٹن ہے

لکھنؤ میں گھر گھر کوڑا کرکٹ جمع کرنے کی کارکردگی 96.53 فیصد تک بہتر ہو چکی ہے، جبکہ کوڑے کی بنیاد پر اُسے علیحدہ کرنے کی سطح 70 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے

प्रविष्टि तिथि: 21 JAN 2026 2:00PM by PIB Delhi

 

 

شیواری سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ کے افتتاح کے ساتھ، لکھنؤ نے شہری پائیداری میں ایک اہم سنگِ میل حاصل  کیا اور سوچھ بھارت مشن – شہری کے تحت میونسپل سالڈ ویسٹ کی 100 فیصد سائنسی پروسیسنگ حاصل کر لی۔

 

 

لکھنؤ، جو کہ اتر پردیش کا دارالحکومت ہے، ایک تیزی سے ترقی پذیر شہری مرکز ہے جس میں تقریباً 40 لاکھ شہری اور 7.5 لاکھ ادارے ہیں۔ اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ کوڑے کرکٹ کے بندوبست اور ماحولیاتی پائیداری میں پیچیدہ چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ لکھنؤ میونسپل کارپوریشن (ایل ایم سی) ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک کثیرالجہتی حکمت عملی اپنا رہی ہے، جو سائنسی طریقۂ کار پر کوڑے کرکٹ کے نپٹارے، وسائل کا احیاء اور پائیدار شہری ترقی پر مرکوز ہے،جس سے شہر میں عوامی صحت اور ماحولیاتی معیار دونوں بہتر ہو رہے ہیں۔

اپنے سائنسی اور پائیدار نقطہ نظر کے مطابق، لکھنؤ نے شیواری پلانٹ میں اپنا تیسرا فریش ویسٹ پروسیسنگ مرکز قائم کیا ہے۔ اس کے ساتھ، لکھنؤ اتر پردیش کا پہلا شہر بن گیا ہے جس نے میونسپل سالڈ ویسٹ کی 100 فیصد سائنسی پروسیسنگ کا سنگ میل حاصل کیااور باضابطہ طور پر اسے ‘زیرو فریش ویسٹ ڈمپ’ شہر کا اعزاز حاصل ہوا۔

نئے شروع کیے گئے پلانٹ کی یومیہ پروسیسنگ صلاحیت 700 میٹرک ٹن ہے۔ موجودہ دو پلانٹس کے ساتھ مل کر، لکھنؤ میونسپل کارپوریشن اب شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے 2,100 میٹرک ٹن سے زیادہ کوڑے کرکٹ کو سائنسی طور پر پروسیس کرنے کے قابل ہے—جس سے کھلے طور پر کوڑے کرکٹ کی ڈمپنگ کی ضرورت ختم ہو گئی اور پائیدار شہری کوڑے کرکٹ کےبندوبست کے معاملے میں ایک اہم سنگِ میل طے ہوا ہے۔

شہر میں روزانہ تقریباً 2,000 میٹرک ٹن کوڑا نکلتا  ہے۔ اس کے نمٹارے کے لیے ایل ایم سی اور بھومی گرین اینرجی نے تین پلانٹس قائم کیے ہیں، ہر ایک کی صلاحیت 700 میٹرک ٹن یومیہ ہے۔ کوڑے کرکٹ کو نامیاتی (55فیصد) اور غیر نامیاتی (45فیصد) حصوں میں الگ کیا جاتا ہے۔ نامیاتی کوڑا کرکٹ کمپوسٹ اور بایو گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے، جبکہ غیر نامیاتی کوڑے کرکٹ کو ری سائیکلنگ کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے یا اسے ریفیوذ ڈیراوڈ فیول (آر ڈی ایف) میں بدلا جاتا ہے جو سیمنٹ اور پیپر انڈسٹریز میں استعمال ہوتا ہے۔لکھنؤ میں گھر گھر کوڑا کرکٹ جمع کرنے کی کارکردگی 96.53 فیصد تک بہتر ہو گئی ہے، اور کوڑے کرکٹ کی بنیاد پر اسے علیحدہ کرنے کی سطح 70 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔

میونسپل کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق، شہر میں موجود تقریباً 18.5 لاکھ میٹرک ٹن پرانے کوڑے کرکٹ میں سے تقریباً 12.86 لاکھ میٹرک ٹن کو سائنسی طور پر پروسیس کیا جا چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ریفیوذ ڈیراوڈ فیول (آر ڈی ایف)، سی اینڈ ڈی ویسٹ (سی اینڈ ڈی ویسٹ)، بایو-سائل اور موٹے حصے (coarse fractions) ماحول کیلئے سازگار طریقوں سے استعمال کیے جا رہے ہیں، جیسے ری سائیکلنگ، کو-پروسیسنگ اور کم سطحی زمین میں دبادینا۔کچرے کی پروسیسنگ کے دوران کئی قیمتی ضمنی مصنوعات پیدا ہو رہی ہیں۔ تقریباً 2.27 لاکھ میٹرک ٹن آر ڈی ایف ملک بھر کی صنعتوں کو روانہ کیا گیا ہے تاکہ سیمنٹ اور پیپر کی پیداوار میں کو-پروسیسنگ کے لیے استعمال ہو۔ غیر فعال مواد جیسے موٹے حصے (4.38 لاکھ میٹرک ٹن)، بایو-سائل (0.59 لاکھ میٹرک ٹن) اور تعمیری اور انہدامی کارروائیوں سے نکلا فضلاء (2.35 لاکھ میٹرک ٹن) نشیبی علاقوں میں زمین کی بھرائی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے دوبارہ استعمال کیے گئے ہیں۔

اس کے نتیجے میں بتدریج ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی۔ سائٹ پر 25 ایکڑ سے زائد زمین کی بحالی کی گئی ہے، جسے اب ایک مکمل فعال فریش ویسٹ ٹریٹمنٹ فیسلٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جس کی یومیہ پروسیسنگ صلاحیت 2,100 میٹرک ٹن ہے۔ اس سائٹ پر اب ونڈرو پیڈز، اندرونی سڑکیں، شیڈز، مخصوص ویبرج اور مکمل کچرا پروسیسنگ ایکو سسٹم موجود ہیں۔

آگے کے لیے، لکھنؤ میونسپل کارپوریشن شیواری میں ایک ویسٹ ٹو انرجی (ڈبلیو ٹی ای) پلانٹ قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ فیسلٹی کوڑا کرکٹ سے آرڈی ایف کو بجلی میں تبدیل کرے گی۔ منصوبہ بند 15 میگا واٹ ڈبلیو ٹی ای پلانٹ روزانہ 1,000–1,200 میٹرک ٹن آر ڈی ایف استعمال کرے گا، جس سے آر ڈی ایف کو تقریباً 500 کلومیٹر دور سیمنٹ فیکٹریوں تک پہنچانے کی لاگت اور فاصلہ کم ہو جائے گا۔

لکھنؤ کا کوڑا کرکٹ کےبندوبست کا ماڈل سرکلر اکانومی کےضابطوں کے تئیں مضبوط عزم کو ظاہر کرتا ہے۔وسائل کی زیادہ سے زیادہ بازیابی، پرانے کوڑے کرکٹ کو کم سے کم کرنا، اور ری سائیکل ایبل مواد کے دوبارہ استعمال کو فروغ دینا۔ لکھنؤ میونسپل کارپوریشن کی یہ پہل نہ صرف بھارت بلکہ بین الاقوامی سطح پر دیگر شہروں اور اداروں کے لیے ایک ماڈل اور تحریک کا ذریعہ ہے۔

سوچھ آدت سے سوچھ بھارت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح –ا ع خ،ص –ج)

U. No. 870


(रिलीज़ आईडी: 2216902) आगंतुक पटल : 23
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu