جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے عالمی سرمایہ کاروں سے عالمی اقتصادی فورم 2026 ، داؤس میں ہندوستان کی تیز رفتار صاف ستھری توانائی کی توسیع میں شراکت دار بننے پر زور دیا


داؤس میں مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نےکہاکہ ہندوستان نے توانائی کے منتقلی میں وسعت اور لچک کو یکجا  کیا ہے

داؤس میں ہندوستان دنیا کی قابل تجدید توانائی کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈیوں میں سے ایک بن گیا

प्रविष्टि तिथि: 20 JAN 2026 8:42PM by PIB Delhi

داؤس میں عالمی اقتصادی فورم کی سالانہ میٹنگ 2026 میں نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی توانائی کی منتقلی کا اصل چیلنج ایسے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مضمر ہے جو لچکدار ، توسیع پذیر اور سرمایہ کاری کے لیے تیار ہو ۔

IMAGE.jpg

’’ترقی کے لیے لچکدار بنیادی ڈھانچہ‘‘کے موضوع پراجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر نے نظام کی لچک کے ساتھ پیمانے کو یکجا کرنے کے ہندوستان کے تجربے کو اُجاگر کیا۔ اس بات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ، ملک نے دسمبر 2025 تک 267 گیگاواٹ نان فوسل فیول  یعنی غیر زیر زمیں ایندھن کی صلاحیت حاصل کی ہے اور اپنے 2030 کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے مضبوطی سےاس راہ پر گامزن ہے ۔مزید یہ کہ  اسے مضبوط پالیسیوں ، مضبوط گھریلو مینوفیکچرنگ ، گرڈ کی جدید کاری ، توانائی ذخیرہ کرنے کے حل اور جیوتھرمل اور جوہری توانائی کے لیے ابھرتے ہوئے فریم ورک کی حمایت حاصل ہے ۔  وزیر موصوف نے پائیدار اور جامع عالمی توانائی کی منتقلی کو قابل بنانے کے لیےطویل مدتی سرمائے ، مخلوط مالیات اور حکومتوں ، نجی شعبے اور کثیرجہتی ترقیاتی بینکوں کے درمیان گہرے تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔

معاشی ترقی کااصل مرکز پائیداریت

نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے بھی داؤس میں “وسیع پیمانے پر پائیداری کی فراہمی:عالمی تبدیلی کے لیے راہیں” کے موضوع پر گول میز اجلاس میں کلیدی خطبہ دیا ، جس میں ہندوستان کے اس نقطہ نظر کو مشترک کیا گیا کہ کس طرح پائیداری اقتصادی ترقی اور ترقی کی بنیاد پر منتقل ہوئی ہے۔ جناب جوشی نے اس بات کو اُجاگر کاو کہ پائد اریت اب ایک ضمنی مسئلہ  نہیں کہ بلکہ مسابقت، لچک اور طویل مدتی ترقی کا مرکزی محرک بن چکی ہے۔ وزیر موصوف نے اس بات پرزور دیا کہ اس دہائی کا اصل چیلنج یہ نہیں ہے کہ دنیا کو منتقلی کرنی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پائیداری کو بڑے پیمانے پر، تیزی سے اور اقتصادی طور پر مضبوط انداز میں کیسے فراہم کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستان کا توانائی کی منتقلی سےمتعلق فلسفہ

مرکزی وزیرجناب پرہلاد جوشی نے 2070 تک کاربن کے صفر اخراج کے حصول کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملک کا نقطہ نظر واسودھیو کٹمبکم-ایک کرہ ارض ، ایک کنبہ، ایک مستقبل کے اصول سے رہنمائی کرتا ہے ۔  وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان پائیداری کو محض ایک تکنیکی تبدیلی کے بجائے معیشت اور معاشرے کی اہمیت کی حامل تبدیلی کے طور پر دیکھتا ہے ، اور ترقی کے لیے یقین کے ساتھ سب سے قابل اعتماد ، سستی اور مستقبل کے لیے تیار راستے کے طور پر قابل تجدید ذرائع  کو آگے لے جا رہا ہے۔

صنعت کے قائدین کے ساتھ باہمی میٹنگیں اورروابط

عمان کے اقتصادی امور کےنائب وزیر اعظم کے دفتر میں اقتصادی مشیر عزت مآب ڈاکٹر سعید محمد احمد السقری  کے ساتھ ایک میٹنگ میں مرکزی وزیر نے خشک اور صحرا کے حالات سمیت شمسی ، ہوا ، ماحول کے لیے سازگار ہائیڈروجن اور توانائی ذخیرہ کرنے کے حل کو بڑھانے کی ہندوستان کی ثابت شدہ صلاحیت کواُجاگرکیا ۔اس  بات چیت میں تعاون کے ممکنہ شعبوں جیسے شمسی ماڈیولز ، الیکٹرولیزز اور گرین ہائیڈروجن کی تیاری اور برآمد پر مشترکہ تعاون ، قابل تجدید توانائی سے چلنے والے ہائیڈروجن مراکز ، مربوط توانائی کے منصوبوں اور بندرگاہ پر مبنی برآمدی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور بین الاقوامی شمسی اتحاد اورایک سورج ایک کرہ ارض اور ایک گرڈ پہل کے تحت بھارت-عمان سی ای پی اے اور تعاون کا فائدہ اٹھانا شامل تھا۔

مرکزی وزیر نے بیلجیم کے ڈپٹی وزیر اعظم اوراقتصادی امور،یوروپی امور اور بیلجیم کے تعاون کے فروغ کے وزیرعزت مآب میکسیم پریووٹ کے ساتھ مستقبل پر مبنی ملاقات کی۔ اس بات چیت میں بھارت–بیلجیم شراکت داری کی مضبوطی کا اعادہ کیا گیا جو باہمی اعتماد، پیش گوئی پذیری اور مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہے۔

مرکزی وزیر نے کویت کے بجلی ، پانی اور قابل تجدید توانائی کے عزت مآب وزیر جناب سوبیح عبد العزیز المخ العظیم کے ساتھ ایک تعمیری میٹنگ بھی کی اس میٹنگ میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

سالانہ اجلاس کے موقع پر جناب جوشی نے صاف ستھری توانائی میں بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری کو مستحکم کرنے کے لیے اعلی سطحی دو طرفہ بات چیت کا ایک سلسلہ بھی منعقد کیا ۔

عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ وابستگی

جناب جوشی نے ہندوستان میں طویل مدتی آب و ہوا اور صاف ستھری توانائی کی سرمایہ کاری کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے لا کیسی کے صدر اور سی او او چارلس ایمنڈ اور سی او او محترمہ سارہ بوچرڈ کے ساتھ بھی بات چیت کی ۔  انہوں نے 2030 تک گروپ کی کلائمیٹ ایکشن انویسٹمنٹ میں 400 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے عزم کو بروئے کار لانے کے لیے’’پارٹنر ود انڈیا‘‘ پہل کو بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی ، جس سے ہندوستان کے صاف ستھری توانائی کے عزائم اور لا کیسی کی کلائمیٹ انویسٹمنٹ حکمت عملی کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی عکاسی ہوتی ہے۔

بات چیت کے ایک اور  اجلاس میں مرکزی وزیر نے آئی کے ای اے (آئیکیا)خوردہ کاروبار چلانے والے انگکا گروپ کے سی ای او اور صدر جناب جوونسیو میزتو سے ملاقات کی ۔  انگکا گروپ نے ہندوستان کے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں خاص طور پر شمسی ، ونڈ اور ہائبرڈ حل میں نمایاں طور پر شامل ہونے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔  جناب جوشی نے گروپ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ملک کی مستحکم پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے سازگارماحولیاتی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان میں اپنی مصروفیات کو بڑھائے ۔

ڈبلیو ای ایف 2026 میں ہندوستانی پویلین

جناب پرہلاد جوشی نے دیگر مرکزی وزرا ، ریاستی وزرائے اعلی اور مختلف ریاستوں کے وزرا کے ساتھ داؤس میں عالمی اقتصادی فورم میں انڈیا پویلین کے افتتاح میں شرکت کی جس میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلی جناب این چندرابابو نائیڈو ، آسام کے وزیر اعلی جناب ہمنتا بسوا سرما ، شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب رام موہن نائیڈو  اورکرناٹک حکومت  کے کامرس اور صنعتوں اور بنیادی ڈھانچے کے وزیر جناب ایم .بی پاٹل شامل تھے ۔  انڈیا پویلین کے افتتاح کے دوران جناب پرہلاد جوشی نے ’دی انڈیا اسٹوری‘ کے عنوان سے ایک گرین انویسٹمنٹ ہینڈ بک(کتابچہ) بھی جاری کیا۔

IMAGE 2.jpg

پویلین ہندوستان کو عالمی شراکت داری اور سرمایہ کاری کے لیے ایک قابل اعتماد ، مسابقتی اور مستقبل کے لیے تیار مقام کے طور پر دکھایاگیا ہے ، جس میں پالیسی استحکام ، اصلاحات پر مبنی ترقی اور ایک متوقع انضباطی ماحول کو اجاگر کیا گیا ہے ۔  یہ وکست بھارت 2047 کے وژن اور پائیدار اور جامع ترقی کے عزم کے عین مطابق ،مینوفیکچرنگ ، بنیادی ڈھانچے ، قابل تجدید توانائی ، ٹیکنالوجی اور اختراع میں ہندوستان کی طاقت کا مظہرہے۔

ہندوستان ایک قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر

مرکزی وزیر نے کہا کہ عالمی سست روی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے دور میں بھی ہندوستان نے لچک پیدا کرکے اور طویل مدتی وژن کے ساتھ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرکے اپنی ترقی کورفتاردی ہے ۔  انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک قابل اعتماد اور مستقبل کے لیے تیار مقام کے طور پر سامنے آیاہے ، جو مستحکم منافع ، مضبوط پالیسی کی یقین دہانی اور اختراع ، توسیع اور پائیدار قدر کی تخلیق کے لیے طویل مدتی مواقع فراہم کرتا ہے ۔

***

 

ش ح۔ش م ۔ ش ا

U NO: 849


(रिलीज़ आईडी: 2216715) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Kannada