ٹیکسٹائلز کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے پٹسن تاجروں اور بیلرز کے لیے پٹسن کے ذخیرے کی حدیں کم کر دیں


یہ اقدام معزز مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل کی جانب سے کیے گئے جائزے کے بعد اٹھایا گیا ہے

اس فیصلے کا مقصد خام پٹسن کی دستیابی میں بہتری لانا اور پٹسن صنعت سے وابستہ مزدوروں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے

مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے حکومت وقتاً فوقتاً پٹسن کے ذخیرہ کی حدوں کا ازسرِنو جائزہ لیتی رہے گی

प्रविष्टि तिथि: 20 JAN 2026 8:00PM by PIB Delhi

پٹسن کمشنر کی جانب سے 18 دسمبر 2025 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت عائد کی گئی پٹسن کے ذخیرے کی حدوں میں اب نظرِ ثانی کی گئی ہے، تاکہ خام پٹسن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے اور ذخیرہ اندوزی و قیاس آرائی پر مبنی تجارتی طریقوں کی روک تھام ہو۔ یہ نظرِ ثانی پٹسن اور پٹسن ٹیکسٹائل کنٹرول آرڈر، 2016 کی دفعات کے تحت کی گئی ہے۔

یہ اقدام گزشتہ چند ماہ کے دوران پٹسن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے پیشِ نظر ضروری ہو گیا تھا، جو مالی سال 2025-26 کے لیے مقررہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف فریقین کی جانب سے خام پٹسن کی دستیابی سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے گئے تھے۔

خام پٹسن کے نظرِ ثانی شدہ ذخیرہ کی حدیں درج ذیل ہیں:

پٹسن کے ذخیرے کی حدیں:

  • بِلنگ پریس کے حامل خام پٹسن بیلرز: کسی بھی وقت زیادہ سے زیادہ 1,200 کوئنٹل
  • دیگر ذخیرہ اندوز (بیلرز کے علاوہ): کسی بھی وقت زیادہ سے زیادہ 25 کوئنٹل
  • وہ خام پٹسن تاجر جنہوں نے دفترِ پٹسن کمشنر میں رجسٹریشن کے لیے درخواست نہیں دی: کسی بھی وقت زیادہ سے زیادہ 5 کوئنٹل
  • پٹسن ملیں / پروسیسنگ یونٹس: موجودہ پیداواری شرح کے مطابق زیادہ سے زیادہ 45 دن کی کھپت کے مساوی ذخیرہ

ان نظرِ ثانی شدہ حدوں کا مقصد بازار میں استحکام برقرار رکھنا، خام پٹسن کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانا اور صنعت و مزدوروں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

ضابطہ جاتی ہدایات

  • تمام ذخیرہ رکھنے والے اداروں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ پٹسن کے ذخیرے کی صورتحال ہر پندرہ دن میں پٹسن اسمارٹ پورٹل (http://jutecomm.gov.in/JuteSmart.html) پر ظاہر کریں اور اسے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کریں۔
  • جو ادارے مقررہ حد سے زائد ذخیرہ رکھتے ہیں، انہیں حکم نامہ جاری ہونے کی تاریخ سے 10 دن کے اندر اپنے ذخیرے کو مقررہ حد تک کم کرنا ہوگا، اضافی مقدار کو جسمانی طور پر متعلقہ وصول کنندگان کے حوالے کرنا ہوگا اور اس کی تعمیل کی رپورٹ معاون دستاویزات کے ساتھ فوری طور پر، تاہم 10 فروری 2026 سے قبل دفترِ جوٹ کمشنر میں جمع کرانی ہوگی۔
  • اگر کسی ایک مقام پر مختلف تاجروں، ذخیرہ کنندگان یا بیلرز وغیرہ کے نام پر خام جوٹ ذخیرہ کیا گیا ہو تو اس مقام پر موجود مجموعی مقدار مقررہ حد کے اندر ہونی چاہیے۔

نفاذ اور تعمیل

  • مجاز افسران کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ احاطوں اور ریکارڈز کا معائنہ کریں اور اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں زائد ذخیرہ ضبط کریں۔
  • خام پٹسن کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث اداروں کے خلاف نفاذی کارروائی کے لیے متعلقہ ریاستی حکومتوں سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔
  • جو بھی ادارہ ذخیرے کی صورتحال ظاہر کرنے کی ہدایات یا ذخیرہ کی مقررہ حدوں کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا گیا، اس کے خلاف ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 کے تحت تعزیری کارروائی شروع کی جائے گی۔
  • ذخیرہ کنٹرول حکم کی خلاف ورزی پر سزا ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 کی دفعہ 7 کے تحت مقرر ہے۔ مزید یہ کہ حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں ضبطی کی دفعات دفعہ 6 کے تحت، جبکہ غلط بیانی پر سزا کی فراہمی دفعہ 9 کے تحت کی گئی ہے۔

پٹسن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور قیاس آرائی پر مبنی اضافہ پٹسن صنعت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے اور اس سے پیداوار اور روزگار میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔ یہ اقدامات پٹسن کی رسد کو مستحکم رکھنے، بازار میں غیر ضروری مداخلت کو روکنے اور ملک بھر میں کسانوں، صنعت کاروں اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں۔

*******

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 841    )


(रिलीज़ आईडी: 2216620) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali