جل شکتی وزارت
قومی کمیٹی برائے ڈیم سیفٹی (این سی ڈی ایس) کا گیارہواں اجلاس نئی دہلی میں منعقد
प्रविष्टि तिथि:
20 JAN 2026 6:40PM by PIB Delhi
ڈیم سیفٹی سے متعلق قومی کمیٹی (این سی ڈی ایس) کا گیارہواں اجلاس 20 جنوری 2026 کو ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر، جن پتھ، نئی دہلی میں منعقد ہوا۔اس میٹنگ میں محکمہ آبی وسائل، دریا کی ترقی اور گنگا کی بحالی؛ سنٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی)، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، سنٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی (سی ای اے)، وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف اینڈ سی سی)، انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی)، جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی)، نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹر (این آر ایس سی) اور نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) کے نمائندوں نے شرکت کی۔
میٹنگ میں سات ریاستوں آسام، کرناٹک، مہاراشٹر، میزورم، اڈیشہ، پنجاب اور اتر پردیش کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ مرکزی آبی کمیشن کے سابق رکن جناب ایس۔ کے۔ سبل اور آئی آئی ٹی روڑکی کے پروفیسر ڈاکٹر یوگیندر سنگھ سمیت ممتاز ڈیم سیفٹی ماہرین کی موجودگی نے مباحثے کو مزید تقویت بخشی۔ اس کے علاوہ، اٹھائیس (28) ریاستی ڈیم سیفٹی تنظیموں کے سربراہان اور تین (3) مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے نمائندے بھی میٹنگ میں موجود تھے۔
میٹنگ کی صدارت سنٹرل واٹر کمیشن کے چیئرمین اور ڈیم سیفٹی سے متعلق قومی کمیٹی کے چیئرمین جناب انوپم پرساد نے کی۔
ڈیم سیفٹی ایکٹ، 2021 کی دفعہ 5 کے تحت ڈیم سیفٹی سے متعلق قومی کمیٹی (این سی ڈی ایس) تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی کے فرائض ایکٹ کے پہلے شیڈول میں بیان کیے گئے ہیں۔ این سی ڈی ایس نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) کے لیے ایک پالیسی تھنک ٹینک کے طور پر کام کرتی ہے اور ڈیم کی حفاظت سے متعلق پالیسی امور پر غور و خوض، ڈیم سیفٹی کے یکساں معیارات کو یقینی بنانے، اور ڈیم کی ناکامی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آفات کی روک تھام کے لیے ضروری قواعد و ضوابط کی سفارش کی ذمہ دار ہے۔
اپنے افتتاحی کلمات میں این سی ڈی ایس کے چیئرمین نے گزشتہ چار برسوں کے دوران این ڈی ایس اے کی حاصل کردہ کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ڈیم سیفٹی کے شعبے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں، ڈیم سیفٹی ایکٹ، 2021 کے تحت ڈیم مالکان پر عائد وسیع قانونی ذمہ داریوں، اور ڈیم کی ملکیت رکھنے والی ایجنسیوں کے درمیان داخلی صلاحیت سازی میں موجود خلا کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے این ڈی ایس اے کی جانب سے اختیار کیے گئے مختلف اقدامات کا بھی خاکہ پیش کیا۔
چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیم سیفٹی ایکٹ کا مؤثر اور کامیاب نفاذ تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط تعاون، تکنیکی مہارت اور پائیدار اجتماعی عزم پر منحصر ہے۔
میٹنگ کے دوران اہم ایجنڈا امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جن میں درج ذیل نکات شامل تھے:
i. سیکشن 38 سے سیکشن 40 کے تحت جامع ڈیم سیفٹی تشخیص (سی ڈی ایس ای) کے انعقاد کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقۂ کار پر تبادلۂ خیال اور تجاویز۔
ii. سیکشن 27 کے تحت ابتدائی بھراؤ سے قبل منصوبے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقۂ کار پر بحث اور تجاویز۔
iii. ڈیم سیفٹی سے متعلق قومی اور بین الاقوامی ماہرین کے مالی معاوضے کا تعین۔
iv. سیکشن 35(2) کے تحت لیول-2 (ایس کیو آر اے) اور لیول-3 (کیو آر اے) رسک اسسمنٹ کے لیے فریم ورک کو حتمی شکل دینا۔
v. زیرِ تعمیر ڈیم/بیراج منصوبوں کی تعریف میں وضاحت، نیز سیکشن 26 کے تحت نئے ڈیم منصوبوں کی تعمیر اور موجودہ ڈیم منصوبوں کی بحالی کی منظوری۔
vi. مختلف غیر ساختی دستاویزات کی جانچ اور منظوری کے طریقۂ کار پر غور و خوض۔
vii. زلزلہ پیمائی آلات کی بہتری سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال۔
viii. اتر پردیش میں واقع چندر پربھا ڈیم کی حفاظت سے متعلق مسئلے پر غور۔
سی ڈی ایس ای، ایس کیو آر اے اور کیو آر اے سے متعلق ایجنڈا امور ہندوستانی ڈیم مالکان کے لیے ڈیم سیفٹی کے نئے اور اہم پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
کمیٹی نے مجوزہ ایجنڈا نکات پر تفصیل سے غور و خوض کیا اور متعدد قیمتی تجاویز پیش کیں۔ این ڈی ایس اے کو مشورہ دیا گیا کہ وہ سی ڈی ایس ای رپورٹ کے مجوزہ مسودہ جاتی فریم ورک کا از سرِ نو جائزہ لے اور اسے مزید جامع، مؤثر اور قابلِ عمل بنانے کے لیے ضروری اصلاحات کرے۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ ذخائر کے ابتدائی بھراؤ سے متعلق منصوبوں کو مضبوط بنانے کے لیے مقداری پیرامیٹرز کو شامل کیا جائے۔
ایس کیو آر اے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں کمیٹی نے اس کی قومی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک خصوصی ماہر کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا۔ نئے ڈیموں کی تعمیر اور موجودہ ڈیموں کی بحالی کی منظوری سے متعلق امور پر، کمیٹی نے این ڈی ایس اے کو ہدایت دی کہ وہ تمام ڈیم مالکان کے ساتھ وسیع پیمانے پر مشاورت کرے، ان کی قیمتی آراء کو شامل کرے اور اس معاملے کو آئندہ اجلاس میں تفصیلی بحث کے لیے پیش کرے۔
غیر ساختی دستاویزات کی تشخیص اور منظوری کے طریقۂ کار سے متعلق سفارشات، متعلقہ ریاستی ڈیم سیفٹی تنظیموں کے ذریعے ماہر کمیٹیوں کی تشکیل کے ذریعہ دیے جانے کی تجویز دی گئی۔ کمیٹی نے قواعد و ضوابط میں تجویز کردہ زلزلہ پیمائی آلات کی تعداد میں بہتری کی سفارش پر بھی غور کیا اور این ڈی ایس اے کی جانب سے مطلع کردہ موجودہ قواعد و ضوابط کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
کمیٹی نے اتر پردیش حکومت کی جانب سے چندر پربھا ڈیم میں رساؤ کو روکنے کے لیے کی گئی کوششوں کی ستائش کی۔
کمیٹی نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان قریبی اور مؤثر ہم آہنگی کی ضرورت کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایکٹ کے تحت تفویض کردہ مختلف ڈیم حفاظتی ذمہ داریوں کے ساتھ قانونی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع صلاحیت سازی کے ایکشن پلان کی تیاری اور نفاذ ضروری ہے۔ میٹنگ کا اختتام ادارہ جاتی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے، ڈیم سیفٹی ایکٹ کے نفاذ میں تیزی لانے اور ڈیموں کی طویل مدتی حفاظت اور پائیداری کو یقینی بنانے کے عزم کے ساتھ ہوا، تاکہ پانی کی سلامتی، آبپاشی، بجلی کی پیداوار اور سیلاب میں کمی کے اہداف کی مؤثر حمایت کی جا سکے۔
***
UR-829
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2216564)
आगंतुक पटल : 10