بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے برسوں کے نقصانات کے بعد مثبت پی اے ٹی درج کیا؛ بجلی کے وزیر کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا باب ہے


تقسیم کے شعبے میں متعارف کرائی گئی مختلف پہل قدمیوں سے کلیدی کارکردگی اشاروں میں بہتری رونما ہوئی

प्रविष्टि तिथि: 18 JAN 2026 10:34AM by PIB Delhi

ملک کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکامز اور بجلی کے محکمے) نے مالی برس 2024-25 میں مجموعی طور پر 2701 کروڑ روپے کے بقدر مثبت ’ٹیکس کے بعد منافع‘ (پی اے ٹی)درج کیا، جو کہ اس شعبے کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ تقسیم کار کمپنیاں ریاستی بجلی بورڈوں کی انبنڈلنگ اور کارپورائزیشن کے بعد سے گذشتہ چند برسوں سے پی اے ٹی نقصانات درج کررہا ہے۔

مالی برس 2024-25 کے دوران 2701 کروڑ روپے کے بقدر مثبت پی اے ٹی   حاصل ہوا جبکہ مالی برس 2023-24 میں 25553 کرور کے بقدر نقصان اور مالی برس 2013-14 میں 67962 کروڑ روپے کے بقدر نقصان ہوا تھا۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے، بجلی کے مرکزی وزیر جناب منوہر لال  نے کہا کہ یہ بجلی تقسیم کار شعبے  کے لیے ایک نیا باب ہے اور یہ بجلی تقسیم کار شعبے کی تشویشات کو دور کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ یہ حصولیابی وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور تصوریت کی وجہ سے ممکن  ہوئی جسے ان کے ان الفاظ میں سمجھا جا سکتا ہے، ’’بھارت نہ صرف اپنی ترقی بلکہ دنیا کی ترقی کو بھی آگے بڑھا رہا ہے، اور توانائی کا شعبہ اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘ جناب منوہر لال نے کہا کہ حکومت اس شعبے میں مطلوبہ اصلاحات کے لیے پابند عہد ہے تاکہ بجلی کا شعبہ ہماری بڑھتی ہوئی معیشت کو تعاون فراہم کر سکے اور وکست بھارت کی جانب سفر میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

بجلی تقسیم کے شعبے میں پہل قدمیاں

بجلی تقسیم کے شعبے میں متعارف کرائے گئے چند تغیراتی پہل قدمیوں میں شامل ہیں:

• اصلاح شدہ ڈسٹری بیوشن سیکٹر سکیم (آر ڈی ایس ایس): بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور تیز رفتار سمارٹ میٹرنگ کے ذریعے مالیاتی عملداری کو بڑھانا۔

• اضافی احتیاطی اصول: مالیاتی اور آپریشنل نظم و ضبط کو فروغ دینے کے لیے پاور سیکٹر یوٹیلٹیز کے لیے فنانس تک رسائی کو کارکردگی کے معیارات کے خلاف کامیابی سے جوڑنا۔

• بجلی کے قوانین میں ترامیم: لاگت کی مکمل وصولی کو یقینی بنانے کے لیے بروقت لاگت میں ایڈجسٹمنٹ، محتاط ٹیرف ڈھانچے، اور شفاف سبسڈی اکاؤنٹنگ کو نافذ کرنا۔

• بجلی کی تقسیم (اکاؤنٹس اور اضافی انکشاف) کے قواعد، 2025: بہتر مالیاتی نظم و نسق کے لیے ڈسٹری بیوشن یوٹیلیٹیز میں یکساں اکاؤنٹنگ اور بہتر شفافیت کا تعارف۔

• تاخیر سے ادائیگی کے سرچارج کے قواعد: پاور سیکٹر میں بروقت ادائیگی کے ذریعے قانونی معاہدوں کو نافذ کرنا اس طرح نئے RE منصوبوں میں سرمایہ کاری کی حمایت کرتا ہے۔

• اضافی قرض لینے کی اسکیم کے حصے کے طور پر کارکردگی کے میٹرکس سے منسلک قرض لینے کی حدوں کے ساتھ، بجلی کے شعبے میں اہم اصلاحات کو نافذ کرنے کے لیے ریاستوں کو ترغیب دینا۔

اشاروں میں رونماہوئی بہتری

  • ان اصلاحات کے نتائج نہ صرف مثبت پی اے ٹی میں نظر آر ہے ہیں جسے بجلی تقسیم  کار کمپنیوں نے کئی برسوں بعد درج کیا ہے بلکہ  یہ کارکردگی کے دیگر اشاروں میں بھی نمایاں ہیں۔
  • گذشتہ برسوں کے دوران مجموعی تکنیکی اور تجارتی (اے ٹی اینڈ سی) نقصانات  میں کمی آئی ہے، جس سے تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔ اے ٹی اینڈ سی نقصانات  جو مالی برس 2013-14 22.62 فیصد کے بقدر تھے وہ مالی برس 2024-25 میں گھٹ کر 15.04 فیصد کے بقدر رہ گئے۔
  • علاوہ ازیں، مزید بہتر لاگت کی وصولی کا اشارہ دیتے ہوئے، سپلائی کی اوسط لاگت – اوسط آمدنی حصولیابی (اے سی ایس- اے آر آر) فاصلہ مالی برس 2013-14 کے 0.78 روپے / کے ڈبلیو ایچ سے گھٹ کر مالی برس 2024-25 میں 0.06 روپے / کے ڈبلیو ایچ  کے بقدر رہ گیا۔
  • بجلی (تاخیر سے ادائیگی پر سرچارج) قواعد جیسی اصلاحات  کے نتیجے میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کیے جانے والے بقایا واجبات میں 96 فیصد کے بقدر تخفیف رونما ہوئی – جو 2022 میں 139947 کروڑ روپے کے بقدر تھےاور جنوری 2026 تک گھٹ کر 4927 کروڑ روپے کےبقدر  رہ گئے- ساتھ ہی ڈسٹری بیوشن یوٹیلٹی  پے منٹ سائیکل جو مالی برس 2020-21 میں 178 دنوں کے بقدر تھا وہ مالی برس 2024-25 میں گھٹ کر 113 دن کے بقدر رہ گیا۔

بجلی کی وزارت نے ملک بھر میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے گذشتہ دہائی کے دوران ٹھوس کوششیں کیں۔ مختلف پالیسی پہل قدمیوں کے علاوہ،  ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ طویل رابطہ کاری کے نتیجے میں بجلی تقسیم  کے شعبے میں اصلاحات پر خصوصی زور دیا گیا۔ ان میں 2025 میں ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے توانائی کی علاقائی کانفرنسوں کے دوران بجلی کے مرکزی وزیر جناب منوہر لال کے زیر قیادت ملاقاتیں بھی شامل ہیں- گنگٹوک (شمال مشرقی خطہ)، ممبئی (مغربی خطہ)، بنگلورو (جنوبی خطہ)، چنڈی گڑھ (شمالہ خطہ) او رپٹنہ (مشرقی خطہ)۔ باقاعدہ  بات چیت اور جائزے  نے ڈسکامز کی اس غیر معمولی کارکردگی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

****

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:728


(रिलीज़ आईडी: 2215787) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil