ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انڈمان و نکوبار جزائر کو ہندوستان کی نیلی معیشت(بلیو اکانومی) کے مرکز کے طور پر تیار کیا جائے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا ایکوسٹی (سری وجیا پورم) کا دورہ، انڈمان و نکوبار جزائر میں بلیو اکانومی کو فروغ دینے کے لیے پائلٹ منصوبوں کا آغاز

ہندوستان کی معیشت ، ماحولیات اور روزگار کو مستحکم کرنے کے لیے سمندری سائنس اور بائیو ٹیکنالوجی کا انضمام: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

وزیر اعظم کے ذریعے لال قلعہ سے  ڈیپ اوشن مشن (گہرے سمندر کے مشن )کے اعلانات سمندری وسائل کو دی جانے والی قومی ترجیح کو اجاگر کرتے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

प्रविष्टि तिथि: 17 JAN 2026 5:11PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارتھ سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انڈمان و نکوبار جزائر میں بلیو اکانومی کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع کو مستحکم کرنے کے مقصد سے اہم سمندری ٹیکنالوجی اقدامات شروع کیے جا رہے ہیں۔ وہ آج اٹل سینٹر فار اوشین سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار آئی لینڈز (اے سی او ایس ٹی آئی) کے دورے کے دوران ان خیالات کا اظہار کر رہے تھے، جہاں انہوں نے جاری اور مجوزہ اقدامات کا جائزہ لیا۔

  

اس موقع پر سائنس دانوں، عہدیداروں اور مختلف اسٹیک ہولڈرز سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کی آئندہ اقتصادی قدر میں اضافہ تیزی سے غیر مستعمل سمندری وسائل سے حاصل ہوگا، کیونکہ ملک دنیا کی صفِ اول کی معیشتوں میں شامل ہونے کی سمت تیزی سے گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلیو اکانومی پر حکومت کی مضبوط توجہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس وژن کی عکاسی کرتی ہے کہ ہندوستان محض سرزمین پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جزیرہ جاتی اور ساحلی علاقوں کو نظرانداز کر کے ترقی نہیں کر سکتا۔

یہ تقریب وزارتِ ارتھ سائنسز کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشین ٹیکنالوجی کے ایک یونٹ، اٹل سینٹر فار اوشین سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار آئی لینڈز، ڈولی گنج، سری وجے پورم (پورٹ بلیئر) میں منعقد ہوئی۔ اس پروگرام میں انڈمان و نکوبار جزائر کے معزز رکنِ پارلیمنٹ جناب بشنو پاڈا رے، وزارتِ ارتھ سائنسز کے سکریٹری ڈاکٹر ایم روی چندرن، انڈمان و نکوبار انتظامیہ کے سینئر عہدیداران، این آئی او ٹی اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنس دانوں کے علاوہ مقامی محکموں اور سیلف ہیلپ گروپس کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پارلیمنٹ میں انڈمان و نکوبار جزائر کی مسلسل اور مؤثر نمائندگی کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس مستقل وکالت نے اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ قومی توجہ اور وسائل جزائر کی ترقی کی جانب مبذول رہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سال 2014 کے بعد سے وزیر اعظم نے شمال مشرقی خطے اور جزیرہ جاتی علاقوں کو اعلیٰ ترجیح دی ہے، جس کا عملی اظہار اب خطے میں سائنسی، انتظامی اور وزارتی سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے دائرے سے بخوبی ہوتا ہے۔

گہرے سمندر کے مشن کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ یہ باعثِ فخر ہے کہ وزیر اعظم نے لال قلعہ کی فصیل سے ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ اس مشن کا اعلان کیا، جو بلیو اکانومی کے لیے ہندوستان کے مضبوط عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے غیر دریافت شدہ سمندری وسائل، روایتی وسائل کے ختم ہونے کے تناظر میں، ہندوستان کی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق بلیو اکانومی روزگار کی تخلیق، برآمدات کے فروغ، ماحولیاتی پائیداری اور مجموعی اقتصادی لچک میں نمایاں حصہ ڈالے گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پروگرام کے دوران شروع کیے گئے اور پیش کیے گئے کلیدی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی، جن میں سمندری مچھلیوں کی پائلٹ سطح پر کھلے سمندر میں پنجرہ جاتی کاشت اور بڑے پیمانے پر سی ویڈ (سمندری گھاس) کی کاشت شامل ہیں۔ انہوں نے اطمینان ظاہر کیا کہ ان ٹیکنالوجیز کی منتقلی کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے، جو ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے ’’پوری حکومت، پورا معاشرہ‘‘ کے نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ مقامی حالات سے ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈمان و نکوبار خطے کی مخصوص سمندری انواع اور ساحلی خصوصیات اسے ایسے منصوبوں کے لیے نہایت موزوں بناتی ہیں۔

وزیر موصوف نے سمندری علوم کے ساتھ بایوٹیکنالوجی کے انضمام پر بھی تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس بایوٹیکنالوجی پالیسی ’بایو-ای3‘ (بایوٹیکنالوجی فار اکانومی، انوائرمنٹ اینڈ ایمپلائمنٹ) موجود ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سمندری حیاتی وسائل پلاسٹک کے متبادل، نئی ادویاتی ترکیبات اور اعلیٰ قدر کے بایو پروڈکٹس فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، ماحولیات کے تحفظ اور حیاتیاتی معیشت کو مضبوط بنانے میں بیک وقت معاون ثابت ہوں گے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے غیر حیوانی خوراکی مصنوعات، متبادل سمندری غذائیت، ویسٹ ٹو ویلتھ ٹیکنالوجیز اور برآمدات پر مبنی سمندری پیداوار جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کا بھی ذکر کیا، اور بتایا کہ بالخصوص یورپ میں ان مصنوعات کی بین الاقوامی منڈی تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیلف ہیلپ گروپس اور خواتین کی شمولیت میں اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ یہ اقدامات گھریلو آمدنی میں اضافہ کریں اور ’’ووکل فار لوکل‘‘ اور ’’لوکل فار گلوبل‘‘ کے وژن کو تقویت ملے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر موصوف نے سائنس دانوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے جوش و خروش اور وابستگی کو سراہا، اور کہا کہ ادارہ جاتی تعاون—جس میں سی ایس آئی آر اور بایوٹیکنالوجی ریسرچ مراکز کی ممکنہ شمولیت بھی شامل ہے—کے ذریعے انڈمان و نکوبار جزائر ہندوستان کے بلیو اکانومی اقدامات کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ انہوں نے جزائر کے ساتھ مسلسل رابطے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ کوششیں خطے کے لیے طویل مدتی سائنسی، ماحولیاتی اور سماجی و اقتصادی فوائد فراہم کریں گی۔

 

 

***


 

UR-721

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2215657) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil