ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
پونہ میں منعقد ہونے جا رہی پی ایم – سیتو صنعتی ورکشاپ بھارت کے ہنرمندی کے مستقبل کو نئی سمت دے گی
प्रविष्टि तिथि:
17 JAN 2026 12:02PM by PIB Delhi
ہنرمندی ترقیات اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای)، حکومت مہاراشٹر کے ساتھ شراکت داری میں پی ایم – سیتو (پردھان منتری اسکلنگ اینڈ امپلائبلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈیڈ آئی ٹی آئیز) متعارف کرانے کے حصے کے طور پر 19 جنوری 2026 کو، پونہ میں ایک اہم صنعتی مشاورت کا اہتمام کرے گی۔ پی ایم سیتو وکست بھارت کی تصوریت سے ہم آہنگ ،وزیر اعظم کے ذریعہ اعلان کردہ ایک اہم پہل قدمی ہے، جس کا مقصد مستقبل کے لیے تیار، اور عالمی سطح پر مسابقی افرادی قوت تیار کرنا ہے۔یشونت راؤ چَون اکیڈمی آف ڈیولپمنٹ ایڈمنسٹریشن (وائی اے ایس ایچ اے ڈی اے) میں منعقد کی جارہی اس مشاورتی میٹنگ کا مقصد صنعتی شراکت داری کو فعال بنانا اور اسکیم صنعت کے زیر قیادت نفاذ کے فریم ورک کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ 50 سے زائد اہل کمپنیاں اس میٹنگ میں شرکت کریں گی، جو تعمیرات، کپڑے کی صنعت، موٹر گاڑی، ایف ایم سی جی، الیکٹرانکس، تیل اور گیس، اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ہنرمندی ترقیات اور صنعت کاری کی وزارت، حکومت ہند کی سکریٹری محترمہ دیباشری مکھرجی اس مشاورتی میٹنگ کی صدارت کریں گی۔ ان کے علاوہ اس میٹنگ میں ہنرمندی، روزگار، صنعت کاری اور اختراع کے محکمے ، حکومت ہند کی ایڈشنل چیف سکریٹری محترمہ منیشا ورما بھی شرکت کریں گی اور خطے میں موجود آئی ٹی آئی اداروں اور صنعتوں کا دورہ بھی کریں گی۔
پی ایم – سیتو اسکیم ہب اور اسپوک نقطہ نظر کے ذریعہ ملک بھر میں 1000 سرکاری آئی ٹی آئی اداروں کی جدیدکاری کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے تحت 200 ہب آئی ٹی آئی اداروں کو جدید بنیادی ڈھانچہ اور جدید تربیتی سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے مدد فراہم کی جائے گی، اور 800 اسپوک آئی ٹی آئی ادارے اپنی تربیتی رسائی تمام تراضلاع تک بڑھائیں گے۔ یہ اسکیم آئی ٹی آئی اداروں کو سرکاری ملکیت والے لیکن صنعت کے زیر انتظام اداروں کے طور پر پیش کرتی ہے، اور مطالبات پر مبنی تربیت، کار آموزی، اور رہنما صنعت کے ساتھ کلسٹر پر مبنی شراکت داریوں کے ذریعہ روزگار کے مضبوط مواقع فراہم کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مشاورتی میٹنگ میں اس امر کو اجاگر کیا جائے گا کہ پی ایم -سیتو کس طرح حکمرانی اور فیصلہ سازی میں شراکت داری کے ذریعہ ہنرمندی ماحولیاتی نظام میں ایک مضبوط کردار ادا کرنے اور وقتاً فوقتاً رابطہ کاری سے آگے بڑھنے کے معاملے میں صنعت کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم تیار کرتی ہے۔کلسٹر ماڈل کے ذریعہ، صنعتی شراکت دار ادارہ جاتی حکمرانی میں راست طو رپر تعاون دے سکیں گے، تربیت کو ریئل ٹائم مزدور منڈی کی ضرورتوں سے اہم آہنگ کر سکیں گے، نصاب اور تدریسی اصلاحات میں تعاون دے سکیں گے، اساتذہ کی ہنرمندی میں اضافہ کریں گے، اور اپرنٹس شپ اور روزگار بہم رسانی کے نظام کو مضبوط کرسکیں گے۔ اس طرح کرائے پر خدمات کی لاگت میں تخفیف رونما ہوگی، پیداواریت میں بہتری آئے گی، صنعتی معیارات کے مطابق روزگار کے لیے تیار باصلاحیت افراد کی دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔
اب جبکہ اسکیم زمینی سطح پر نفاذ کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، ایسے میں ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے تیاریوں سے متعلق سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں 29 ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں شروعاتی کلسٹرس کی شناخت کی جا رہی ہے اور 25 ریاستیں / مرکز کے زیر انتظام علاقے اپنی ریاستی اسٹیرنگ کمیٹیوں کو نوٹیفائی کر رہے ہیں۔
مشاورت کے حصے کے طور پر، ریاست میں پیشہ وارانہ تربیتی تعلیم کو مضبوط کرنے اور قابل ملازمت ہونے کی صلاحیت کے نتائج کو بہتر بنانے کے مقصد سے صنعتی اور ادارہ جاتی شراکت داریوں کے قیام کے لیے مفاہمتی عرضداشتوں کاتبادلہ بھی عمل میں آئے گا۔ مفاہمتی عرضداشتوں کے تبادلے میں پیشہ وارانہ تعلیم اور تربیت کے ڈائرکٹوریٹ (ڈی وی ای ٹی)، حکومت مہاراشٹر اور ایف آئی اے ٹی انڈیا، شنائیڈر الیکٹرک انڈیا اور انودیپ فاؤنڈیش کے ساتھ ساتھ ڈی وی ای ٹی اور ایس ڈی این / وادھوانی کے درمیان شراکت داری بھی شامل ہے۔
پی ایم – سیتو بھارت کے ہنرمندی کے سفر میں ایک اہم لمحہ بننے کے لیے تیار ہے- جو یہ دکھائے گا کہ اعلیٰ معیاری پیشہ وارانہ اداروں کی تعمیر کے لیے، مستقبل کے لحاظ سے نصاب تیار کرنے، اور ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے باصلاحیت افراد کا ایک مضبوط گروپ تیار کرنے کے لیے حکومت اور صنعت کس طرح اشتراک قائم کرتی ہیں۔ اس اسکیم سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ ادارہ جاتی حکمرانی کو مضبوطی فراہم کرکے، تربیتی ماحولیاتی نظام کو جدید بناکر، اور مزدور منڈی کے مطالبات کے مطابق ہنرمندیاں پیداکرکے، وکست بھارت کے مواقع کے لیے بھارت کے نوجوانوں کو تیار کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:708
(रिलीज़ आईडी: 2215567)
आगंतुक पटल : 16