وزارات ثقافت
ساہتیہ اکیڈمی نے نئی دہلی ورلڈ بک فیئر 2026 میں رو برو تبادلہ خیال اور کہانی پڑھنے کے پروگراموں کا اہتمام کیا
प्रविष्टि तिथि:
16 JAN 2026 1:13PM by PIB Delhi
ساہتیہ اکیڈمی نے 15 جنوری 2026 کو ہال نمبر 2 ، بھارت منڈپم نئی دہلی میں، عالمی کتاب میلہ 2026 کے دوران ہندوستان کی دانشورانہ روایات سے متعلق رو برو پروگرام اور ایک پینل مباحثہ کا انعقاد کیا ۔
رو برو بات چیت کے پروگرام میں معروف ملیالم مصنف اور ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ جناب سری کے پی رامانونی نے شرکت کی اور اپنی ادبی زندگی اور کام سے متعلق بصیرت افروز معلومات کا اشتراک کیا ۔ انہوں نے بات چیت میں ذکر کیا کہ ان کا تعلق کوژی کوڈ سے ہے ، جسے یونیسکو نے ہندوستان کے ادب کے پہلے اور واحد شہر کے طور پر تسلیم کیا ہے ۔ اجلاس کے دوران ، انہوں نے اپنی ملیالم مختصر کہانی 'ایم ٹی پی' کے اقتباسات پڑھ کر لوگوں کو سنائے – ایم ٹی پی حمل کے خاتمے کے لیے ایک طبی اصطلاح ہے، اس کہانی کا انگریزی میں ترجمہ ابو بکر کبا نے کیا ہے۔ اس کہانی کو ایک ڈرامے کی شکل میں لکھا گیا ہے اور اسے سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، یہ کہانی حمل کے طبی خاتمے کے ارد گرد شدید انسانی ڈرامے کی کھوج کرتی ہے ، جو مصنف کے اپنے زندگی کے تجربات سے ماخوذ ہے ۔ اپنے ادبی سفر کی عکاسی کرتے ہوئے ، سری رامانونی نے اپنے ابتدائی سالوں کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نوعمری میں وہ بیک وقت روحانی اور کمیونسٹ ادب کا ایک ساتھ مطالعہ کررہے تھے ، جس کی وجہ سے ان میں اندرونی تنازع اور نفسیاتی مشاورت کے ماحول نے جنم لیا ۔ اگرچہ یہ علاج بے سود ثابت ہوا ، لیکن اس تجربے نے انہیں تحریر کے ذریعے سکون اور اظہار تلاش کرنے کی ترغیب دی۔
رو بروبات چیت کرنے کے پروگرام کے بعد ہندوستان کی دانشورانہ روایات سے متعلق ایک پینل مباحثہ کا انعقاد کیاگیا ، جس میں پروفیسر راول سنگھ ، پروفیسر ہرے کرشنا ستپتی اور پروفیسر بسوراج کالگوڈی پینلسٹ کے طور پر شامل تھے ۔ جناب راول سنگھ نے پنجاب کے دانشورانہ ورثے پر تبادلہ خیال کیا ، جس میں تکشلا میں قدیم تعلیمی مرکز سے لے کر ناتھ یوگی ، صوفی ازم اور سکھ مت تک کا سراغ لگانے کی کوشش کی گئی ۔ پروفیسر ہرے کرشنا ستپتی نے قدیم اور عصری تعلیمی نظام کا موازنہ کرتے ہوئے برہما ، وشنو اور مہیش کو آدی گرو قرار دیا اور ویدوں سے ایک شلوک پڑھ کر لوگوں کے سامنے پیش کیا ۔ پروفیسر بسوراج کالگوڈی نے حاشیائی اور وضاحتی علمی نظام پر بات چیت کی ، انہیں زبانی اور تحریری روایات میں درجہ بند کیا اور قدیم ہندوستان میں قبائلی اور زرعی حکمت کی روایات کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔
طلباء ، اساتذہ ، مصنفین اور ادب کے شوقین افراد ،سامعین کے طور پر پروگرام میں موجود تھے اور ان لوگوں نے دونوں پروگراموں کو خوب سراہا اور بامعنی بات چیت اور مباحثے سے بحرہ ور ہوئے ۔ اسسٹنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر سندیپ کور نے ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے شکریہ کی تحریک پیش کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح –م م ع۔ ق ر)
U. No.671
(रिलीज़ आईडी: 2215296)
आगंतुक पटल : 14