راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
azadi ka amrit mahotsav

انسان کا ادارہ جاتی علم پارلیمنٹ کے لیے جوابدہ مصنوعی ذہانت کی تیاری میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے:ڈپٹی چیئرمین جناب ہری ونش


جناب  ہری ونش نے کہا کہ قیدوبند کے بغیر اختراع خطرات کو جنم دیتے ہیں جبکہ اختراع کے بغیراحتیاط جمود کا باعث بن سکتی ہے

ڈپٹی چیئرمین نے زور دیا کہ پارلیمنٹ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال سچائی پر مبنی ہو، اخلاقی اصولوں کا پابند ہو، انسانی بصیرت و فیصلہ سازی کی رہنمائی میں ہو اور جمہوری اقدار کے سامنے جوابدہ ہو

प्रविष्टि तिथि: 15 JAN 2026 5:57PM by PIB Delhi

راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین جناب ہری ونش نے قانون ساز اداروں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے  نفاذ  کو تشکیل دینے میں انسانی ادارہ جاتی یادداشت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر اے آئی کو قانون ساز اداروں میں متعارف کرایا جانا ہے تو اسے جوابدہ، سیاق و سباق سے ہم آہنگ اور قابلِ اعتماد بننا ہوگا۔ جناب  ہری ونش نے یہ باتیں نئی دہلی میں منعقد دولت مشترکہ ممالک  کے اسپیکرز اور پریزائڈنگ آفیسرز کی 28ویں کانفرنس کے موقع پر پارلیمنٹ میں اے آئی کے نفاذ سے متعلق ایک ورکشاپ میں کہیں۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے ہندوستانی پارلیمنٹ کے مؤثر کام کاج کے لیے تیار کیے جا رہے مختلف ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات کا بھی ذکر کیا۔

اے آئی کی تیاری میں ہائبرڈ نقطۂ نظر کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا“جب کوئی انسان کسی نئی تنظیم میں داخل ہوتا ہے تو وہ اپنے ساتھ دو بنیادی خصوصیات:مہارت اور علم لے کر آتا ہے۔ مہارت حاصل کی جا سکتی ہے، منتقل کی جا سکتی ہے یا آؤٹ سورس کی جا سکتی ہے، لیکن علم سیاق و سباق سے جڑا ہوتا ہے اور ادارے کے اندر گہرائی سے پیوست ہوتا ہے۔ پارلیمانی علم منفرد ہے۔ یہ دہائیوں پر محیط مباحث، فیصلہ سازی، روایات اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔ یہی اصول مصنوعی ذہانت پر بھی یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ انسان کا ادارہ جاتی علم پارلیمنٹ کے لیے جوابدہ اے آئی کی تیاری میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا، “انسانی نگرانی اور حل پیش کرنے کی صلاحیت کو نظام کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ قیدوبند  کے بغیر اختراع  خطرات کو جنم دیتے ہیں، جبکہ اختراع کے بغیر احتیاط جمود کا باعث بن سکتے ہیں۔” لہٰذا، انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کو ان دونوں کے درمیان ایک محتاط اور سوچ -سمجھ کر توازن برقرار رکھنا چاہیے۔

پارلیمنٹ میں پہلے ہی جاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے عملی استعمال کی وضاحت کرتے ہوئے جناب ہری ونش نے بتایا کہ کاروباری دستاویزات کے ترجمے، پارلیمانی مباحث کے تجزیے اور 22 زبانوں میں سوالات کی تیاری کے لیے مختلف اے آئی ماڈلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،“ہم نے تقریباً 48 ہزار اصطلاحات پر مشتمل ایک پارلیمانی لغت تیار کی ہے، جسے خاص طور پر پارلیمانی استعمال کے لیے تیار کردہ ایک کسٹم اے آئی ماڈل میں ضم کیا گیا ہے۔ اس سے اندرونی صارفین میں اس کی قبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کی درستگی بھی بہتر ہوئی ہے۔ انسانی مترجم بدستور مکمل کنٹرول میں ہیں جبکہ اے آئی صرف ایک معاون آلے کے طور پر کام کر رہی ہے۔”تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قانون سازی کے تناظر میں “پارلیمنٹ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال سچائی پر مبنی ہونا چاہیے، اخلاقی اصولوں کا پابند ہونا چاہیے، انسانی فیصلے کی رہنمائی میں ہونا چاہیے اور جمہوری اقدار کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔”

اپنے اختتامی کلمات میں انہوں نے دولتِ مشترکہ  ممالک کے درمیان پارلیمنٹ میں اے آئی کے نفاذ کے حوالے سے مزید تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ دو روزہ کانفرنس چوتھی مرتبہ ہندوستان کی میزبانی میں منعقد ہو رہی ہے، اس سے قبل یہ کانفرنس ہندوستان میں 1971، 1986 اور 2010 میں منعقد کی جا چکی ہے۔ کانفرنس کا افتتاح اس سے قبل معزز وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں پارلیمنٹ کے مرکزی ہال (سمویدھان سدن) میں کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔  م ش ۔ع ن)

U. No. 657


(रिलीज़ आईडी: 2215202) आगंतुक पटल : 19
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu