سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تمل ناڈو کی ایک جھیل سے دریافت ہونے والے موسمیاتی ریکارڈز تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کی حکمتِ عملیوں کو ممکن بنا سکتے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 15 JAN 2026 4:26PM by PIB Delhi

ایک نئی تحقیق نے جزیرہ نما ہندوستان سے حاصل ہونے والے موسمیاتی ریکارڈز میں سے ایک نہایت مفصل اور جامع ریکارڈ دریافت کیا ہے، جو تمل ناڈو کے ضلع سیواگنگا کے مضافات میں واقع سادہ سے کونڈاگئی اندرونی جھیل کے نیچے محفوظ تھا۔

اندرونی تمل ناڈو میں، شمال مشرقی مانسون کے لیے حساس ہونے کے باوجود، اچھی طرح تاریخ بند(ویل ڈیٹڈ) کثیر اشاری (ملٹی پروکسی) جھیلوں کے ریکارڈز تقریباً ناپید ہیں۔ کونڈاگئی جھیل، جو ایک اہم آثارِ قدیمہ کے مقام کیلادی کے قریب واقع ہے، غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ کیلادی اس وجہ سے مشہور ہے کہ وہاں سنگم دور کی ایک ترقی یافتہ شہری تہذیب کے شواہد دریافت ہوئے ہیں، جن کی ممکنہ تاریخ چھٹی صدی قبل مسیح (یا اس سے بھی پہلے) تک جاتی ہے، اور یوں تمل تاریخ کو کئی صدیوں پیچھے لے جاتی ہے۔ محققین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ قدیم آبادیاتی علاقوں میں واقع یہ جھیل ماضی کے مانسون میں تغیر پذیری، ماحولیاتی نظام کے ردِ عمل، اور انسانی آبادی کے ساتھ ان کے تعلق کو سمجھنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے۔

لکھنؤ میں واقع برِبل ساہنی انسٹی ٹیوٹ آف پیلیوسائنسز (بی ایس آئی پی)، جو محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کا ایک خود مختار ادارہ ہے، کے محققین نے ایک میٹر سے کچھ زیادہ گہرائی تک تلچھٹی پروفائل کی کھدائی کی اور 32 باہم قریب نمونے جمع کیے، جن میں سے ہر ایک وقت کے ایک مختلف مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ مستحکم آئسوٹوپ تجزیے، زرِگل (پولن) مطالعات، دانوں کے حجم کی پیمائش، اور ریڈیو کاربن تاریخ نگاری سمیت طاقتور تکنیکوں کے امتزاج کے ذریعے انہوں نے ماضی کی بارش، نباتات، جھیل کی سطحوں اور سیلابی واقعات کی غیر معمولی طور پر اعلیٰ درستی کے ساتھ تشکیلِ نو کی۔

جریدہ ہولوسین میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے ذریعے، اندرونی تمل ناڈو سے لیٹ ہولوسین دور کی آب و ہوا اور جھیل۔ماحولیاتی نظام کی حرکیات کی پہلی اعلیٰ ریزولوشن، کثیر اشاری تشکیلِ نو پیش کی گئی، جس میں گزشتہ تقریباً 4,500 برسوں کے دوران تین واضح موسمیاتی مراحل کی نشاندہی کی گئی۔ اس میں 4.2 ہزار سال قبل کے خشک واقعے، 3.2 ہزار سال قبل کے خشک مرحلے، اور رومن گرم دور(رومن وارم پیریڈ) کو دستاویزی شکل دی گئی، اور انہیں خطے میں مانسون کی تغیر پذیری، جھیل کی آبیات اور انسانی سرگرمیوں سے براہِ راست منسلک ثابت کیا گیا۔

شکل 1: مقالے کا گرافیکل خلاصہ

4,500 برس پر محیط مانسون کے رویّے کی تشکیلِ نو کے ذریعے، یہ تحقیق ایک طویل المدتی موسمیاتی بنیاد فراہم کرتی ہے جو علاقائی موسمی پیش گوئی کو مضبوط بناتی ہے اور مستقبل میں ممکنہ خشک سالیوں، شدید بارشوں یا سیلابی واقعات کی پیش بینی میں مدد دیتی ہے۔ تمل ناڈو جیسے موسمیاتی طور پر حساس خطے میں مانسون کی پیش گوئی کے ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے ایسا تاریخی پس منظر نہایت اہم ہے۔

یہ نتائج سیواگنگا اور مدورئی جیسے خشک سالی سے متاثرہ اضلاع میں آبی وسائل کے انتظام کی بھی براہِ راست حمایت کرتے ہیں۔ جھیل کی سطح میں ماضی کے اتار چڑھاؤ، تلچھٹ کے بہاؤ اور آبی تبدیلیوں سے متعلق بصیرتیں ذخائر کی پائیدار بحالی، زیرِ زمین پانی کے ریچارج کی منصوبہ بندی، ٹینکوں کی مرمت و بحالی، اور موسمیاتی طور پر ہوشمند زرعی آبی استعمال کی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ یہ اُن علاقوں کے لیے نہایت اہم ہے جو مانسون پر مبنی آبی نظاموں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

قدیم سیلابی ذخائر، زمینی تلچھٹ کے بہاؤ، اور زمین کے عدم استحکام کے مراحل کی نشاندہی کے ذریعے، یہ مطالعہ خطرات کی نقشہ بندی اور آفات سے نمٹنے کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حکام ان اشاروں کی مدد سے وائیگئی طاس میں سیلاب، دریا کے دھارے کی تبدیلی، اور زمین کے بگاڑ کے لیے حساس علاقوں کی شناخت کر سکتے ہیں۔

شکل 2:(الف) کونڈاگئی جھیل (کے ایل ڈی)، تمل ناڈو کا مطالعاتی نقشہ، جس میں مطالعہ گاہ کے اطراف زمین کے استعمال اور زمینی غلاف کے ساتھ پروفائل کے مقام کو دکھایا گیا ہے۔(ب) کونڈاگئی ضلع، تمل ناڈو میں 1901 سے 2020 عیسوی کے دوران اوسط ماہانہ بارش، جو آن لائن کے این ایم آئی کلائمیٹک ایکسپلورر سے حاصل کی گئی ہے: https://climexp.knmi.nl/start.cgi
(ج) گوگل ارتھ کی تصاویر جن میں مطالعہ گاہ، قدیم دریاوی دھاروں (پیلیو چینلز) کے مقامات، اور وائیگئی دریا کے طاس میں آکسبو جھیلوں کو دکھایا گیا ہے۔(د) کے کے’ کے ساتھ کراس سیکشن، جس میں ٹی0 کو فعال دھارا اور ٹی1 کو دریا کا نشان اور وائیگئی دریا کے قدیم دھاروں کے مقامات کے طور پر دکھایا گیا ہے۔(ہ) کونڈاگئی تدفینی مقام۔

یہ تحقیق آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے لیے بھی نمایاں فوائد رکھتی ہے۔ کیلادی آبادی کے قریب واقع ہونے کے باعث، کونڈاگئی جھیل کی ماحولیاتی تاریخ اس بات کے اہم اشارات فراہم کرتی ہے کہ قدیم معاشروں نے موسمیاتی تغیر پذیری، پانی کی قلت، اور ماحولیاتی دباؤ کے ساتھ کس طرح خود کو ہم آہنگ کیا۔ اس سے آثارِ قدیمہ کی تعبیر، تحفظ کی حکمتِ عملیوں، اور علاقائی ورثہ جاتی منصوبہ بندی کو تقویت ملتی ہے۔

ماحولیاتی نقطۂ نظر سے، یہ کام آبی دلدلی علاقوں اور جھیلوں کی بحالی کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے، کیونکہ اس میں آبی پیداواری صلاحیت، آکسیجن کی حالتوں، اور نامیاتی مادّے کے ذرائع میں طویل المدتی تبدیلیوں کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ اس سے شواہد پر مبنی تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کی حکمتِ عملیوں کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔

اشاعت کا ربط(لنک):
https://doi.org/10.1177/09596836251378011

***

UR-643

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2215048) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil