صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریۂ ہند کی گرو نانک دیو یونیورسٹی کےجلسۂ تقسیم اسناد میں شرکت
تعلیم محض ذریعۂ معاش نہیں ہے بلکہ یہ معاشرے اور قوم کی خدمت کا ذریعہ بھی ہے: صدر دروپدی مرمو
प्रविष्टि तिथि:
15 JAN 2026 1:53PM by PIB Delhi
صدر جمہوریۂ ہند، محترمہ دروپدی مرمو نے آج (15 جنوری 2026) پنجاب کے امرتسر میں گرو نانک دیو یونیورسٹی کے جلسۂ تقسیم اسناد میں شرکت کی اور خطاب کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ رسمی تعلیم مکمل کرنے کے بعد طلباء مختلف سمتوں میں اپنے سفر کا آغاز کریں گے۔ کچھ سرکاری یا نجی شعبے میں خدمات انجام دیں گے، دوسرے اعلیٰ تعلیم یا تحقیق کو آگے بڑھائیں گے، جبکہ بہت سے اپنے کاروبار قائم کریں گے یا درس و تدریس میں اپنا کیریئر بنائیں گے۔ اگرچہ ہر شعبے میں مختلف قسم کی قابلیت اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم کچھ خصوصیات یکساں طور پر ضروری ہوتی ہیں اور ہر شعبے میں ترقی کے لیے مددگار ہوتی ہیں۔ یہ خصوصیات ہیں-سیکھنے کی مسلسل خواہش اور رغبت، دشوار اور مشکل حالات میں بھی اخلاقی اقدار، دیانتداری اور ایمانداری کی سختی سے پابندی، تبدیلی کو قبول کرنے کی ہمت، ناکامیوں سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کا عزم، ٹیم ورک اور تعاون کا جذبہ، وقت اور وسائل کا نظم و ضبط سے استعمال اور علم اور صلاحیتوں کا استعمال انفرادی فائدے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے اور قوم کی بھلائی کے لیے کرنا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوبیاں نہ صرف انہیں ایک اچھا پیشہ ور بلکہ ایک ذمہ دار شہری بھی بنائیں گی۔
صدر جمہوریہ نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ یہ یاد رکھیں کہ تعلیم محض ذریعۂ معاش نہیں ہے۔ یہ معاشرے اور قوم کی خدمت کا ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اُس معاشرے کے مقروض ہیں جس نے ان کی تعلیم میں حصہ ڈالا ہے۔ ترقی کے اس سفر میں پیچھے رہ جانے والوں کی ترقی کے لیے کوششیں کرنا قرضوں کی ادائیگی کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ پچھلی دہائی میں ہندوستان نے ٹیکنالوجی کی ترقی اور صنعت کاری کے شعبوں میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ آج نوجوانوں کے لیے زراعت سے لے کر مصنوعی ذہانت اور دفاع سے لے کر خلا تک کاروباری مواقع دستیاب ہیں۔ ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے تحقیق کو فروغ دے کر، صنعتی و تعلیمی تعاون کو مضبوط بنا کر اور سماجی طور پر متعلقہ اختراعات کی حوصلہ افزائی کر کے اس پیش رفت کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پنجاب میں منشیات کے استعمال کا مسئلہ ایک سنگین چیلنج کے طور پر ابھرا ہے، جس سے نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف صحت بلکہ معاشرے کے سماجی، اقتصادی اور اخلاقی تانے بانے کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ صحت مند معاشرے کے لیے اس مسئلے کا پائیدار حل ضروری ہے۔ اس تناظر میں گرو نانک دیو یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں کا کردار اہم ہے۔ اس یونیورسٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو نوجوانوں کو صحیح سمت میں رہنمائی کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ’وکست بھارت‘ بنانے میں اگلی دو دہائیاں بہت اہم ہیں۔ ہندوستان کا مستقبل ان نوجوانوں پر منحصر ہے جو سائنسی مزاج رکھتے ہیں، ذمہ داری سے کام کرتے ہیں اور بے لوث خدمات انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے زور دے کر کہا کہ وہ اپنے طلباء میں ان اقدار کو شامل کریں۔ انہوں نے نوجوان طلباء سے زور دے کر کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ جو بھی پیشہ منتخب کریں، ان کا تعاون ملک کو مضبوط کرے اور انسانی اقدار کو تقویت بخشے۔
صدر جمہوریہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ گرو نانک دیو یونیورسٹی سری گرو نانک دیو جی کے 500 ویں یوم پیدائش کے موقع پر قائم کی گئی تھی اور ان کی تعلیمات اور اقدار اس یونیورسٹی کے رہنما اصول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرو نانک دیو جی کی تعلیمات ہمارا مشترکہ ورثہ ہیں اور ان کے خیالات اور نظریات پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ ان کے نظریات کو اپنی زندگیوں میں شامل کر کے ہم معاشرے کو درپیش بہت سے مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ گرو نانک دیو جی نے ہمیں سکھایا کہ خواتین کو معاشرے میں مساوی حقوق دیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا کہ گرو نانک دیو یونیورسٹی گرو نانک دیو کی تعلیمات کے مطابق خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کوشاں ہے، جو تقسیم اسناد کی تقریب میں ڈگریاں اور تمغے حاصل کرنے والوں میں طالبات کی اکثریت سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاشرے اور قوم کے مفاد میں ہے کہ خواتین کو پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع ملیں اور ہر ایک کو اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
صدر جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے براہ کرم یہاں کلک کریں -
-******
(ش ح۔ک ح۔ت ح(
U. No. 620
(रिलीज़ आईडी: 2214906)
आगंतुक पटल : 17