جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے صاف توانائی میں سرمایہ کاری اور تعاون پر توجہ کے ساتھ ابو ظہبی کا دورہ مکمل کیا
اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور سرمایہ کاری پر تبادلۂ خیال کے ذریعے صاف توانائی میں اشتراک کو فروغ ملا
مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے متحدہ عرب امارات میں بی اے پی ایس ہندو مندر اور دیگر ثقافتی مقامات کا دورہ کیا، عوامی روابط (پیپل ٹو پیپل ٹائز) کو اجاگر کیا
प्रविष्टि तिथि:
14 JAN 2026 6:02PM by PIB Delhi
نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے متحدہ عرب امارات کے شہر ابو ظہبی کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کر لیا۔ اس دورے میں بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی (آئی آر ای این اے) کی 16ویں اسمبلی میں شرکت اور دیگر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں شامل تھیں، جن کا مقصد بھارت کے تیزی سے فروغ پاتے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری کو مضبوط بنانا تھا۔

مرکزی وزیر جوشی نے ابو ظہبی میں متحدہ عرب امارات میں قائم اور عالمی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبہ سازوں کے ساتھ قابلِ تجدید توانائی سرمایہ کاری گول میز اجلاس کی صدارت کی۔ ان مباحث میں صاف توانائی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کیا گیا، جن میں تقسیم شدہ شمسی توانائی، ای پی سی، صاف توانائی کی تیاری، توانائی ذخیرہ، آلودگی سے پاک ہائیڈروجن، کچرے سے توانائی کی پیداوار اور پائیدار مالیات شامل ہیں۔
جناب جوشی نے بھارت میں قابلِ تجدید توانائی کی ترقی کے بارے میں تفصیلات پیش کیں اور میک اِن انڈیا اقدام کے تحت منصوبہ جاتی ترقی، مالی اعانت اور تیاری کے شعبوں میں دستیاب وسیع مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بھارت کو طویل مدتی صاف توانائی سرمایہ کاری کے لیے دنیا کے پُرکشش ترین مقامات میں سے ایک کے طور پر پیش کیا۔
جناب جوشی نے ابو ظہبی سسٹین ایبلٹی ویک میں بھی شرکت کی، جو متحدہ عرب امارات کا ایک عالمی پلیٹ فارم ہے اور حکومت، کاروبار، مالیات اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں کو ایک ساتھ لاتا ہے تاکہ پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور باہم مربوط شعبوں میں مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ حل پیش کیے جا سکیں۔تقریب کے موقع پر انہوں نے عالمی صاف توانائی کے ماحولیاتی نظام سے وابستہ مختلف شراکت داروں سے ملاقاتیں بھی کیں اور منصفانہ، جامع اور قابلِ توسیع توانائی منتقلی کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔
متحدہ عرب امارات میں اپنی مصروفیات کے دوران مرکزی وزیر نے وہاں موجود بھارتی تارکینِ وطن سے ملاقات کی، جن میں متحرک کنڑ برادری بھی شامل تھی۔ انہوں نے کنڑ پاٹھ شالے جیسے اقدامات کے ذریعے زبان اور ثقافت کے تحفظ کی ان کی کوششوں کو سراہا، جن کا ذکر وزیر اعظم نریندر مودی کے پروگرام من کی بات میں بھی کیا جا چکا ہے۔
دورے کے دوران جناب جوشی نے اہم ثقافتی اور روحانی مقامات کا بھی دورہ کیا، جن میں ابو ظہبی میں بی اے پی ایس ہندو مندر، دبئی کے جبل علی گاؤں میں ہندو مندر اور دبئی میں گرو نانک دربار گردوارہ شامل ہیں، جہاں انہوں نے دعائیں کیں۔ یہ دورے بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مضبوط عوامی روابط اور ہم آہنگی، شمولیت اور باہمی احترام جیسی مشترکہ اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس سے قبل ابو ظہبی میں بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی (آئرینا) کی 16ویں اسمبلی کے مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جوشی نے اس امر کا اعادہ کیا کہ بھارت کی توانائی منتقلی کا رہنما اصول وسودھیو کٹمبکم — ایک کرہءعرض، ایک خاندان، ایک مستقبل — ہے، جو انصاف، شمولیت اور طویل مدتی پالیسی کے استحکام پر مبنی ہے۔ بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی اور خوراک و زراعت کی تنظیم کے اشتراک سے منعقدہ زرعی خوراکی نظام میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ سے متعلق بین الوزارتی مکالمے میں جناب جوشی نے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت اور دیہی روزگار کو مضبوط بنانے میں سبھی کو حاصل ہونے والی (ڈی سینٹرلائزڈ) قابلِ تجدید توانائی کے کردار کو اجاگر کیا۔
مرکزی وزیر جوشی نے عالمی قابلِ تجدید توانائی کے شعبے سے وابستہ سینئر رہنماؤں اور اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں، تاکہ بھارت کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ اس دورے نے قابلِ تجدید توانائی، پائیدار ترقی اور صاف بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھارت–متحدہ عرب امارات کے تعاون کو مزید مضبوط کیا، اور جدت، سرمایہ کاری اور طویل مدتی شراکت داری کے ذریعے عالمی توانائی منتقلی کو تیز کرنے کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے بھارت کے عزم کو واضح کیا۔
****
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U 595 )
(रिलीज़ आईडी: 2214740)
आगंतुक पटल : 7