بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
بھارت – عمان کے درمیان 5000 سالہ بحری تعلقات کی بحالی کی کوشش کے تحت آئی این ایس وی کونڈنیہ مسقط پہنچا
مرکزی وزیر سربانند سونووال نے مسقط میں بندرگاہ سلطان قابوس میں آئی این ایس وی کونڈنیہ کے عملے کا استقبال کیا
سربانند سونووال نے بحری تعاون کے موضوع پر عمان کے نقل و حمل اور آئی ٹی کے وزیر کے ساتھ باہمی بات چیت کا اہتمام کیا
سونووال نے بحری تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت – عمان سبز جہاز رانی گلیارے کی تجویز پیش کی
प्रविष्टि तिथि:
14 JAN 2026 7:11PM by PIB Delhi
ہندوستانی بحریہ کا بحری جہاز آئی این ایس وی کونڈنیہ، پوربندر سے اپنا پہلا سفر کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد عمان کی دارالحکومت مسقط پہنچا، جو ہندوستان اور عمان کے مشترکہ سمندری ورثے میں ایک اہم لمحہ ہے۔ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے آج یہاں پورٹ سلطان قابوس پر جہاز کے عملے کا استقبال کیا۔
روایتی طور پر بنائے گئے سلے ہوئے جہاز کا سفر دونوں ممالک کے درمیان گہرے سمندری، ثقافتی اور تہذیبی تعلقات کو اجاگر کرتا ہے جو 5,000 سال سے زیادہ پر محیط ہیں۔ یہ سمندروں کے کردار کو مربوط کرنے والی راہداریوں کے طور پر بھی اجاگر ہے جس نے صدیوں سے ہندوستان اور عمان کے درمیان پائیدار تعامل کو قابل بنایا ہے۔ اس مہم کو مزید اہمیت حاصل ہے کیونکہ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے 70 برس مکمل ہو چکےہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا، ’’یہ تقریب نہ صرف ایک سفر کا، بلکہ ایک مضبوط تہذیبی بندھن کا بھی جشن ہے۔ مسقط میں اس سلے ہوئے جہاز کی آمد اُس پائیدار بھارت – عمان دوستی کی علامت ہے جو وقت کی کسوٹی پر کھری اتری ہے، جو تاریخ میں مضبوطی کے ساتھ موجود ہے، جسے تجارت سے فروغ اور باہمی احترام سے تقویت حاصل ہوئی ہے۔ آئی این ایس وی کونڈنیہ وزیر اعظم مودی جی کی بصیرت افروز قیادت کی درخشاں مثال ہے۔ بھارت کی قدیم جہاز سازی کی مہارت کی بحالی اور اسے فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا عزم وزیر اعظم ہی کا تھا۔‘‘
مشہور ہندوستانی بحری جہاز کونڈنیہ کے نام سے منسوب یہ جہاز ہندوستان کے مقامی سمندری علم، دستکاری اور پائیدار جہاز سازی کے طریقوں کی نمائش کرتا ہے۔ اس منصوبے کا تصور وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا اور اسے ہندوستانی بحریہ نے بحریہ کے معماروں، آثار قدیمہ کے ماہرین، روایتی جہاز سازی کے ڈیزائنرز اور ماسٹر شپ رائٹ کے تعاون سے انجام دیا تھا۔ اجنتا غار کی پینٹنگز میں دکھائے گئے پانچویں صدی عیسوی کے جہاز سے متاثر ہو کر، آئی این ایس وی کونڈنیہ کی تعمیر قدیم ہندوستانی جہاز سازی کی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی تھی، جس میں جدید کیلوں یا دھاتی بندھنوں کے بغیر سلے ہوئے تختے کی تعمیر بھی شامل ہے۔
بندرگاہ پر منعقدہ استقبالیہ تقریب میں عزت مآب اذان البوسعیدی، انڈر سیکریٹری، سیاحت، وزارت ثقافتی ورثہ اور عمان کی سیاحت کے علاوہ ہندوستانی بحریہ، عمان کی رائل نیوی، رائل عمان پولیس کوسٹ گارڈ اور دیگر وزارتوں کے سینئر معززین موجود تھے۔ طلباء سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی ہندوستانی برادری نے جہاز کا پرجوش استقبال کیا۔ سرکاری استقبالیہ تقریب کے دوران روایتی ہندوستانی اور عمانی ثقافتی پرفارمنس کا انعقاد کیا گیا۔
اپنے دورے کے دوران مرکزی وزیر سربانند سونووال نے عمان کے ٹرانسپورٹ، مواصلات اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر عزت مآب انجینئر سعید بن حمود بن سعید المولی کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ بھی کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے دونوں ملکوں کے درمیان سمندری تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
سربانند سونووال نے عمانی کمپنیوں کے لیے ہندوستان کی تیزی سے پھیلتی ہوئی بندرگاہ اور سمندری شعبے میں حصہ لینے کے اہم مواقع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے فلیگ شپ بندرگاہ کی زیر قیادت بنیادی ڈھانچے کے منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) فریم ورک کے تحت سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان میں مہاراشٹر میں وادھاون پورٹ پروجیکٹ شامل ہے، جس میں 9 بلین امریکی ڈالر کی تخمینہ سرمایہ کاری اور 23 ملین بیس فٹ مساوی یونٹس (ٹی ای یوز) کی منصوبہ بندی کی گنجائش ہے، اور تمل ناڈو میں توتیکورن آؤٹر ہاربر پروجیکٹ، جس کی قیمت 40 لاکھ ٹی ای یوز کی صلاحیت کے ساتھ 1.3 بلین امریکی ڈالر کے بقدر ہے۔
سونووال نے ہندوستان کے 8.4 بلین ڈالر کے سمندری ترقیاتی پیکیج کا بھی خاکہ پیش کیا جس کا مقصد جہاز سازی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ پہل قدمی جہاز سازی کے کلسٹرز کی تخلیق، جہاز سازی کی قیادت میں صنعت کاری، تحقیق اور ترقی کے لیے وقف امداد، اور میری ٹائم ڈیولپمنٹ فنڈ کے قیام پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ انہوں نے مستقبل کے تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر ہندوستان اور عمان کے درمیان گرین شپنگ کوریڈور کے قیام کی بھی تجویز پیش کی۔
وزیر نے ہندوستان اور عمان کے درمیان سمندری ورثے اور عجائب گھروں کے بارے میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا مزید خیرمقدم کیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ تعاون کو مزید گہرا کرے گا اور دونوں ممالک کی مشترکہ سمندری تاریخ کو مزید تقویت بخشے گا۔
ہندوستان اور عمان بندرگاہوں، جہاز سازی اور سمندری سفر کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے رابطے، پائیدار شپنگ اقدامات اور بڑھتے ہوئے تعاون کے ذریعے بحری تعلقات کو مستحکم کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔





مرکزی سربانند سونووال نے ایکس پر مقسط میں آئی این ایس وی کونڈنیہ کی آمد سے متعلق تفصیلات بھی ساجھا کیں۔
لنک: https://x.com/i/status/2011397081412587910
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:602
(रिलीज़ आईडी: 2214738)
आगंतुक पटल : 5