وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے آج نئی دہلی میں آئی آئی ایس ای آرز کی قائمہ کمیٹی کی تیسری میٹنگ کی صدارت کی


آئی آئی ایس ای آرز نئی نسل کے سائنس دانوں اور اختراع کاروں کو فروغ دیگا : جناب  دھرمیندر پردھان

प्रविष्टि तिथि: 13 JAN 2026 6:07PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے آج نئی دہلی میں سائنسی تعلیم اور ریسرچ  کے بھارتی انسٹی ٹیوٹس(آئی آئی ایس ای آرز) کی قائمہ کمیٹی کی تیسری میٹنگ کی صدارت کی۔

وزیر موصوف نے تمام سات آئی آئی ایس ای آرز کی تعلیمی اور تحقیقی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے مستقبل کے منصوبوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے باصلاحیت نوجوانوں کی مکمل صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے طلبہ مرکوز طریقۂ کار اپنانے اور عوامی سہولت (ایز آف لیونگ) اور سماجی ترقی کو فروغ دینے کے لیے نتائج پر مبنی تحقیق میں سرگرم شمولیت کی تجویز پیش کی۔

 

وزیرموصوف نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی نے تعلیمی و تحقیقی امتیاز (ایکسی لینس) کے حصول کے لیے آئندہ کے لائحۂ عمل، طلبہ کے تجربے کو مزید بہتر بنانے اور عالمی معیار کی سائنسی تعلیم و تحقیق فراہم کرنے کے بنیادی مشن کو مضبوط بنانے پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا۔

جناب دھرمیندر پردھان نے کہا کہ آئی ایس ای آر بھارت میں اعلیٰ تعلیم کے تاج کے بیش قیمت جواہرات ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ہمارے ہر آئی ایس ای آر میں تعلیمی اور تحقیقی امتیاز کی ایک نئی ثقافت قائم ہوگی، جو سائنس دانوں، اختراع کاروں اور کاروباری ذہن رکھنے والی نئی نسل کو پروان چڑھائے گی۔ یہ نسل قومی اور عالمی سائنسی چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھے گی اور عالمی سطح پر بھارت کی علمی برتری کو مزید مضبوط کرے گی۔

 

اجلاس میں کئی معزز شخصیات نے شرکت کی، جن میں پروفیسر انیل ڈی سہاسرابدھے، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی، ناک (این اے اے سی ) اور چیئرمین، این ای ٹی ایف؛ پروفیسر ایم۔ جگدیش کمار، سابق چیئرمین، یو جی سی؛ جناب چامو کرشن شاستری، چیئرمین، بھارتیہ بھاشا سمیتی؛ محترمہ دیبجنی گھوش، ممتاز فیلو، نیتی آیوگ؛ ڈاکٹر وِنیِت جوشی، سکریٹری، محکمۂ اعلیٰ تعلیم؛ پروفیسر ابھیے کرندیکر، سکریٹری، محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی؛ ڈاکٹر شیکھر سی۔ مانڈے، سابق سکریٹری، ڈی ایس آئی آر؛ پروفیسر گووندن رنگاراجن، ڈائریکٹر، آئی آئی ایس سی بنگلورو؛ آئی ایس ای آر کے چیئرپرسنز اور ڈائریکٹران؛ سی ایس آئی آر–سی ایم ای آر آئی، درگاپور کے ڈائریکٹر؛ اور وزارتِ تعلیم کے سینئر افسران شامل تھے۔

اجلاس کے دوران درج ذیل نکات پر تبادلۂ خیال کیا گیا:

تعلیمی لچک

آئی ایس ای آر ایک لچکدار، سیکھنے والے پر مرکوز اعلیٰ تعلیمی نظام نافذ کریگا، جو تعلیم میں داخلے اور خارج کے لچکدار لائحہء عمل (آئی فلیکس) کے تحت ہوگا، جبکہ تعلیمی معیار اور آئی ایس ای آر پروگراموں کی تحقیقی نوعیت کو برقرار رکھا جائے گا۔ اس میں متعدد داخلہ اور متعدد اخراج، دوبارہ داخلہ اور تکمیل کے اختیارات شامل ہوں گے۔ طلبہ کو یہ سہولت بھی دی جائے گی کہ وہ روایتی کلاس روم سمسٹر کے بجائے ایک سمسٹر پر مشتمل تجرباتی انٹرن شپ اختیار کریں، جو تحقیق، اختراع، صنعت یا کاروبار پر مرکوز ہو۔ تکمیل اور جانچ کے بعد اس کے تعلیمی کریڈٹس بھی دیے جائیں گے۔

پی ایچ ڈی اصلاحات

آئی ایس ای آر کے ڈائریکٹران نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے پی ایچ ڈی پروگراموں کا جامع مطالعہ کریں گے تاکہ اس سے وابستہ خامیوں اور چیلنجوں، عالمی منظرنامے اور بہترین طریقۂ کار کی نشاندہی کی جا سکے، اور پی ایچ ڈی پروگراموں میں ہمہ گیر اصلاحات کے لیے سفارشات پیش کی جائیں، تاکہ کورسز کو صنعتوں کی ضروریات اور قومی ترجیحی مشنوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔

تحقیق اور اختراع

آئی ایس ای آر نے اختراع کو فروغ دینے اور تحقیق کو سماجی افادیت کی سمت ڈھالنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ ہر آئی ایس ای آر میں ریسرچ پارکس اور انکیوبیٹرز(تعاون کے مراکز) قائم کیے جائیں گے تاکہ تعلیمی اداروں، اسٹارٹ اپس، صنعت کی تحقیق و ترقی   اور ترسیلی سہولیات کو ایک ہی جگہ پر لا کر پائیدار اختراع کو فروغ دیا جا سکے۔ ہر آئی ایس ای آر کے لیے ایک مخصوص شعبہ مقرر کیا گیا ہے، جیسا کہ ذیل میں درج ہے۔ ہر آئی ایس ای آر میں مراکزِ امتیاز  قائم کیے جائیں گے، اور ہر ادارہ اپنے متعین کردہ شعبے پر توجہ مرکوز کرے گا۔ یہ اقدامات وکست بھارت اور میک اِن انڈیا کے وسیع تر مشن سے ہم آہنگ ہیں، جن کا مقصد اختراع، انسانی سرمایہ اور پائیداری سے استفادہ کرتے ہوئے علم پر مبنی معیشت کو فروغ دینا ہے، اور مختلف شعبوں میں مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے اس ہدف کو حاصل کرنا ہے، جیسا کہ اوپر نشاندہی کی گئی ہے۔

 

 

.

آئی ایس ای آر پونے

اعلی درجے کی کمپیوٹنگ (بشمول کوانٹم)

آئی ایس ای آر کولکاتا

بائیو ٹیکنالوجی

آئی ایس ای آر موہالی

حفظان صحت اور میڈٹیک

آئی ایس ای آر بھوپال

اعلی درجے کے مواد

آئی ایس ای آر ترواننت پورم

توانائی/پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی

آئی ایس ای آر تروپتی

زراعت اور فوڈ ٹیکنالوجیز

آئی ایس ای آر برہم پور

 

نایاب زمین اور نازک معدنیات

 

سیکشن 8 کمپنی کا قیام

ہر آئی ایس ای آر اپنی ایک سیکشن 8 کمپنی قائم کرے گا، جس کا مقصد قومی اور بین الاقوامی ترجیحی تحقیق کو حکمتِ عملی کے تحت فروغ دینا، تعلیمی تحقیق کی صلاحیت کو صنعتی شراکت داروں سے جوڑنا، اور مخیر حضرات، سی ایس آر، سرکاری اور نجی فنڈنگ کو راغب کرنا ہوگا۔ اس کمپنی کی رہنمائی ایک بورڈ کرے گا جس میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، کارپوریٹ قائدین، ٹیکنالوجی ٹرانسفر آفس  کے نمائندے، صنعت کار، اور اختراعی ماحولیاتی نظام کے دیگر شراکت دار شامل ہوں گے۔کمپنی کے عملی امور کی نگرانی کے لیے ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کیا جائے گا، جن کی معاونت ایک سیکریٹریٹ کرے گا، جس میں دانشورانہ املاک  اور ٹیکنالوجی کے تبادلے، ضابطوں کے امور، فنڈنگ رابطہ کاری اور صنعتی شراکت داری کے ماہرین شامل ہوں گے۔

قابل طلبہ کی شمولیت

آئی ایس ای آر نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وہ بین الاقوامی اولمپیاڈز میں حصہ لینے والے باصلاحیت طلبہ کو راغب کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کے تحت اولمپیاڈز میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر آئی ایس ای آر میں داخلوں کے لیے ایک مخصوص کوٹہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انڈرگریجویٹ داخلوں میں اسپورٹس کوٹہ متعارف کرانے کی سمت بھی کوششیں کی جائیں گی، جیسا کہ آئی آئی ٹی مدراس اور آئی آئی ٹی اندور میں رائج ہے۔

آخر میں، قائمہ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ آئی ایس ای آر بھارتیہ بھاشا (بھارتی زبان) میڈیم پس منظر سے آنے والے طلبہ کو آئی ایس ای آر میں ذریعۂ تعلیم کے مطابق ڈھلنے میں مدد دینے کے لیے اقدامات کریں گے۔

تقریب کا اختتام آئی ایس ای آر کے 5 سالہ اور 10 سالہ وژن کے تحریری بیان کے اجرا اور بایوٹیک کنسورشیم انڈیا لمیٹڈ اور آئی ایس ای آر کے درمیان، نیز آئی آئی ٹی مدراس اور آئی ایس ای آر، اور آئی آئی ایس سی بنگلورو اور آئی ایس ای آر کے درمیان مفاہمت نامہ پر دستخط کے ساتھ ہوا، جن کا مقصد تعلیمی، تحقیقی اور اختراعی اشتراک کو مضبوط بنانا ہے۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :533    )


(रिलीज़ आईडी: 2214288) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil