وزارات ثقافت
’’بھارت کی زبانیں متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں‘‘:نائب صدر جناب سی پی رادھا کرشنن
تیسری بین الاقوامی بھارتیہ زبانوں کی کانفرنس 2026 کا افتتاح نئی دہلی میں کیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
09 JAN 2026 8:48PM by PIB Delhi
تیسری بین الاقوامی بھارتیہ زبانوں کی کانفرنس 2026 کے افتتاحی اجلاس کا انعقاد اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس(آئی جی این سی اے) ، جن پتھ، نئی دہلی میں کیا گیا۔ یہ کانفرنس اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس، وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند، انترراشٹریہ سہیوگ پریشد، ویشوک ہندی پریوار اور شعبہ ہندوستانی زبانیں اور ادبی علوم ، دہلی یونیورسٹی کے اشتراکِ عمل سے منعقد ہوئی۔کانفرنس کا باضابطہ افتتاح عزت مآب نائب صدرِ جمہوریہ ہند، جناب سی پی رادھا کرشنن نے کیا۔

اس موقع پر مرکزی وزیر تعلیم اور اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت آئی جی این سی اے کے صدر اور ممتاز اسکالر پدم بھوشن شری رام بہادر رائے نے کی ۔ انتر راشٹریہ سہیوگ پریشد کے سکریٹری جنرل جناب شیام پرانڈے اور معروف جاپانی ماہر لسانیات پدم شری ٹومیو میزوکامی نے بھی خصوصی مہمانوں کے طور پر شرکت کی ۔ ڈاکٹر سچدانند جوشی ، ممبر سکریٹری ، آئی جی این سی اے اور شعبہ ہندوستانی زبانیں اور ادبی علوم ، دہلی یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر روی پرکاش ٹیک چندانی بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ اس اجلاس کا انعقاد انٹرنیشنل بھارتیہ لینگویجز کانفرنس کے ڈائریکٹر انل جوشی نے کیا ۔

تیسری بین الاقوامی بھارتیہ زبانوں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ زبانیں تہذیب کا زندہ ضمیر ہوتی ہیں، کیونکہ وہ محض اظہار و ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ یادداشت، ثقافت، روایت اور اقدار کی امین ہوتی ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی وحدت کبھی بھی یکسانیت پر قائم نہیں رہی، بلکہ مختلف زبانوں کے درمیان باہمی احترام کے ذریعے برقرار رہی ہے، جو ایک مشترکہ تہذیبی شعور اور دھرم کے رشتے میں بندھی ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتیہ زبانیں ایک دوسرے کی متضاد نہیں بلکہ مسلسل ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں اور اس طرح فلسفے، علم اور ثقافتی اظہار کو مزید خوشحال بناتی ہیں۔

قدیم کتبوں اور کھجور کے پتوں پر لکھی تحریروں سے لے کر جدید ڈیجیٹل شکلوں تک، زبانوں نے انسانی فکر کو تشکیل دیا، علم کو محفوظ رکھا اور اجتماعی تخیل کو پروان چڑھایا ہے۔ چونکہ زبانیں ہمیشہ سرحدوں سے باہر بھی سفر کرتی رہی ہیں اور یہ سفارت کاری سے بھی پہلے کا عمل ہے، آج ہمارا فرض صرف لسانی تنوع کا تحفظ کرنا نہیں بلکہ خطرے میں پڑی زبانوں کی حمایت کرنا اور انہیں تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اعتماد کے ساتھ مستقبل تک لے جانا بھی ہے۔یوں، ہر زبان کا جشن مناتے ہوئے ہم ہر بھارتی کی عزت کو برقرار رکھتے ہیں، کیونکہ بھارت ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔

اس موقع پر ڈاکٹر رمیش پوکھریال ’نشنک‘ نے بھارتی زبانوں کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی زبانیں محض ابلاغ کے آلات نہیں بلکہ ثقافت، علم، فلسفہ اور سماجی اقدار کی امین ہیں۔
ڈاکٹر نشنک نے مزید بتایا کہ ہماری زبانوں نے انسانی شعور اور روایات کو محفوظ رکھا ہے اور دنیا بھر میں بھارت کی تہذیب اور حکمت کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ انمول خزانے جیسے یوگا، آیوروید، ادب اور فلسفہ ہماری زبانوں کے ذریعے عالمی سطح پر پھیلے ہیں۔
زبانوں کی گہری اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی زبانیں اختلاف نہیں سکھاتیں بلکہ ساتھ رہنے، مساوات اور ہم آہنگی کے اسباق دیتی ہیں۔ یہ محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی اور شخصی ترقی کی بنیاد بھی ہیں۔ ڈاکٹر نشنک نے واضح کیا کہ بھارتی زبانیں اتحاد اور علم کو فروغ دیتی ہیں، تقسیم نہیں کرتیں، اور یہی ان کی طاقت اور فخر کا سبب ہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں جناب رام بہادر رائے نے کہا کہ یہ کانفرنس زبانوں پر غور و فکر کرنے اور ان کی ترقی کے لیے کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ مبہم خیالات رکھنے والے اسکالر اور ماہر ین لسانیات نے یہ رائے دی کہ بھارتی زبانیں چار الگ خاندانوں میں تقسیم ہیں، لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ تمام بھارتی زبانیں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے مصنوعی تقسیم ختم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے بھارتی زبانوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جیسے جیسے یہ مکالمہ بڑھے گا، ایک لہر پیدا ہوگی—زبانوں کی لہر، لسانی اتحاد کی لہر، اور ثقافتی اتحاد کی لہر۔ یہ لہر وہ جذبہ ہوگی جو زبانوں کو آپس میں جوڑتی ہے اور زبان بولنے والی برادریوں کو قریب لاتی ہے۔ بطور خصوصی مہمان پدم شری ٹومیو میزوکامی نے سامعین سے ہندی میں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ‘‘لوگ کہتے ہیں کہ میں بھارتی ہوں، حالانکہ میں غلطی سے جاپان میں پیدا ہوا۔‘‘
یہ تین روزہ کانفرنس ایک اہم علمی اور ثقافتی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی، جو بھارتی زبانوں کے عالمی فروغ، موجودہ چیلنجز اور مستقبل کے امکانات پر مرکوز ہے۔ اس تقریب میں 70 سے زائد ممالک جیسے برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، سنگاپور، سری لنکا، نیپال، نیدرلینڈز، فرانس، ماریشس، تھائی لینڈ اور جاپان سے 100 سے زائد بین الاقوامی نمائندگان شریک ہوئے ۔ اس کے علاوہ بھارت کی مختلف ریاستوں، زبانوں اور بولیوں کی نمائندگی کرنے والے 100 سے زائد ممتاز اسکالر، ادیب اور لسانی کارکنوں نے کانفرنس کی وقعت اور اثر و رسوخ کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
*****
(ش ح ۔ م م ۔م ذ)
U.No: 456
(रिलीज़ आईडी: 2213806)
आगंतुक पटल : 6