وزارت دفاع
بھارت کی خودمختاری سے متعلق امور پر واضح اور مضبوط پالیسی کے لیے آنجہانی لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا جیسی شخصیات حکومت کے لیے ایک تحریک ہیں: وزیر دفاع
प्रविष्टि तिथि:
07 JAN 2026 6:09PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راجناتھ سنگھ نے آج لیفٹیننٹ جنرل سنہا کی صد سالہ پیدائش کی یاد میں منعقدہ یادگاری لیکچر کے دوران ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ‘‘جس طرح ملک اپنی خودمختاری سے متعلق امور پر واضح اور مضبوط پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، آنجہانی لیفٹیننٹ جنرل سرینیواس کمار سنہا جیسی شخصیت حکومت کے لیے ایک تحریک ہیں۔’’ انہوں نے مزید کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل سنہا بھارتی فوج کے ایک ممتاز افسر تھے، جنہوں نے بعد میں نیپال میں سفیر کے طور پر اور بعد ازاں آسام اور جموں و کشمیر کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وزیر دفاع نے لیفٹیننٹ جنرل سنہا کو شاندار خراج تحسین پیش کیا اور ان کی ملک کے تئیں غیر متزلزل وفاداری اور لگن کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل سنہا ایک عظیم فوجی، سفارتکار اور ملک کے ایگزیکیوٹیوسربراہ تھے، جنہوں نے ہمیشہ ملک کو ہر چیز پر فوقیت دی۔
9QW1.jpeg)
جناب راجناتھ سنگھ نے اس وقت کو یاد کیا جب لیفٹیننٹ جنرل سنہا، جو 1926 میں پیدا ہوئے، نے دوسری جنگ عظیم کے دوران برما فرنٹ پر مشکل حالات میں ملک کی نمائندگی کی، اور 1947 میں جب انہوں نے بھارتی فوج کے پہلے ایئرلفٹ کو سری نگر میں مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ پاکستان کی حمایت یافتہ فورسز کشمیر کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ لیفٹیننٹ جنرل سنہا کی پیشہ ورانہ مہارت اور بھارتی اور برطانوی اسٹاف کالجز میں شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے، وزیر دفاع نے انہیں غیر معمولی ذہانت کے حامل ایک بہادر افسر کے طور پر بیان کیا۔
وزیر دفاع نے لیفٹیننٹ جنرل سنہا کی تعریف اس بات کے لیے کی کہ انہوں نے بھارتی فوج کو جدید سوچ اور ادارہ جاتی مضبوطی فراہم کرنے کی کوشش کی، جب وہ ڈائریکٹر آف ملٹری انٹیلیجنس، ایڈجوٹنٹ جنرل اور مختلف کمانڈ عہدوں پر فائز تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘ان کی خدمات ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہیں۔ بھارت کے نیپال میں سفیر کے طور پر، انہوں نے ہمارے تعلقات کو مضبوط بنایا۔ آسام اور جموں و کشمیر کے گورنر کے طور پر، انہوں نے سلامتی اور ترقی کے لیے کام کیا۔’’ انہوں نے عوام سے کہا کہ اگر بھارت ایک محفوظ، خودمختار اور خوشحال ملک بننا چاہتا ہے تو اسے لیفٹیننٹ جنرل سنہا کے نظریات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
اپنے خطاب میں، چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انل چوہان نے لیفٹیننٹ جنرل سنہا کو ایک ‘‘ایک قدآور سپاہی، اسکالر وارئیر اور ممتازشخصیت کے حامل انسان’’ کے طور پر بیان کیا۔ مسلح افواج کے اہلکاروں پر زور دیتے ہوئے کہ وہ اس افسر کے شہری اور فوجی خدمات سے سبق حاصل کریں، سی ڈی ایس نے کہا، ‘‘سینیئر قیادت کو ایک ایسا ماحول قائم کرنا چاہیے جہاں پیشہ ورانہ فوجی تعلیم، بحث و مباحثہ اور دیانتداری کو بہادری کے برابر اہمیت دی جائے۔ درمیانی سطح کے افسران کو اپنی ذہانت پر اتنی ہی توجہ دینی چاہیے جتنی وہ اپنے جسم کی تربیت میں دیتے ہیں۔ نوجوان افسران اور دیگر رینکس کو سخت مشق کرنی چاہیے، نظم و ضبط کو اہمیت دینی چاہیے؛ لیکن غور و فکر کو بھی فروغ دینا چاہیے؛ مضبوط قیادت کرنی چاہیے، مگر ہمدردی کے ساتھ؛ اور یاد رکھیں کہ ہمت صرف لڑائی میں نہیں بلکہ اخلاقی وضاحت میں بھی ہوتی ہے۔ سابق فوجیوں اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ مسلح افواج کی ساکھ کو محفوظ رکھنے میں مدد کریں، نہ صرف جنگ میں فتح کو جشن بنا کر بلکہ پیشہ ورانہ صبر، اخلاقیات اور امن کے دوران قومی تعمیر میں خاموش کوششوں کو بھی سراہ کر۔’’
سائبر، اسپیس، معلومات اور علمی میدان میں بڑھتی ہوئی پیچیدہ جنگوں کے حوالے سے، جنرل انل چوہان نے ایسے ‘‘سپاہی-اسکالرز’’ کی اہمیت پر زور دیا جو فکر اور تجزیہ کر سکیں۔ انہوں نے فوجیوں سے کہا کہ وہ کوشش کریں اور لیفٹیننٹ جنرل سنہا کی یونیفارم میں ہمت، ذہن کی تجسس، اور آئین کے مستقل احترام کو کامیابی سے ملا سکیں۔ سی ڈی ایس نے کہا کہ صرف اسی صورت میں،بھارتی فوج نہ صرف سرحد اور عوام کا تحفظ کرے گی بلکہ بھارت کی تقدیر کو بھی تشکیل دینے میں مدد کرے گی۔
V98P.jpeg)
تقریب میں دفاعی عملے کے تین سابق سربراہ - جنرل این سی وج، جنرل دیپک کپور اور جنرل دلبیر سنگھ کے ساتھ فوجی عملے کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پی پی سنگھ بھی موجود تھے۔ تقریب میں تقریباً 300 حاضر سروس اور ریٹائرڈ اہلکاروں کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل سنہا کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔
**********
ش ح۔۔ ع ح۔ ر ب
U-243
(रिलीज़ आईडी: 2212178)
आगंतुक पटल : 12