PIB Headquarters
شمال مشرقی بھارت سے حاصل ہونے والا سبق: فضلے سے پائیدار ترقی تک
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 DEC 2025 3:58PM by PIB Delhi
شمال مشرقی بھارت کی بلند پہاڑیوں اور وادیوں میں، جہاں دریا اپنی کہانیاں خود تراشتے ہیں اور جنگلات قدیم طرز کے ساتھ سانس لیتے ہیں، ایک خاموش انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ یہاں تبدیلی بڑے اعلانات کے ساتھ نہیں آتی، بلکہ علیحدہ کیے گئے کوڑے دانوں کی ہلکی کھنک، دیہات کے زیرِ انتظام ری سائیکلنگ یونٹس کی گونج اور اُن شہریوں کے پُرعزم قدموں میں جلوہ گر ہے جو اپنی سرزمین کو کچرے میں ڈوبنے نہیں دینا چاہتے۔ پورے خطے میں،چاہے وہ مصروف بازاروں والے قصبے ہوں یا دور دراز بستیاں،برادریاں فضلہ انتظام کے بیانیے کو غیر معمولی عزم کے ساتھ ازسرِنو لکھ رہی ہیں۔ جو کبھی ایک ناقابلِ قابو مسئلہ تھا، آج وہ جدت کا میدان بن چکا ہے: پلاسٹک کی نئی صورت گری، کھاد کے گڑھے جو روزگار کے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں، ری سائیکلنگ کے نیٹ ورکس کی قیادت کرنے والے گروہاور بلدیاتی ادارے جو صاف ستھرے شہر کی نئی تشریح کر رہے ہیں۔
شمال مشرق میں تبدیلی کی کہانیاں
چاہے دہائیوں پرانی کچرا پھینکنے کی جگہوں کی باز آبادکاری ہو، دریاؤں کی صفائی، تہواروں کی ازسرِنو تشکیل یا شہریوں کو عوامی مقامات کے نگہبان بنانا،شمال مشرقی بھارت ایک وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے: فضلہ اب نظر سے اوجھل نہیں کیا جا رہا، بلکہ اسے ایسے ذمہ دار نظام میں شامل کیا جا رہا ہے جو دوبارہ استعمال، بازیافت اور فطرت کے احترام کو اہمیت دیتے ہیں۔ خطے میں جاری بے شمار متاثر کن اقدامات میں سے چند نمایاں مثالیں شمال مشرق کی اس صلاحیت کی گواہ ہیں کہ وہ رکاوٹوں کو مواقع اور فضلے کو مثبت تبدیلی کے محرک میں بدل سکتا ہے۔
شمالی لکھیم پور: آسام میں شہری سبز انقلاب کی قیادت کررہا ہے
آسام کا شمالی لکھیم پور سوچھ بھارت مشن-اربن 2.0 کے تحت سائنسی فضلہ انتظام کی ایک نمایاں مثال بن کر ابھرا ہے، جہاں دہائیوں کی ماحولیاتی غفلت کو شہری جدید کاری کے نمونے میں بدل دیا گیا۔ نارتھ لکھیم پور میونسپل بورڈ نے چاندماری ڈمپ سائٹ سے 79,000 میٹرک ٹن پرانا فضلہ صاف کیا، جس سے 16 بیگھہ زمین صاف ہوگئی۔ مزید برآں 10 بیگھہ زمین کو اب اربن فاریسٹ اور اربن ریٹریٹ زون میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ قریبی سمڈیری دریا کے احیاء نے مقامی حیاتیاتی تنوع کو بھی زندہ کر دیا ہے، جہاں پرندے، مچھلیاں اور آبی حیات دوبارہ لوٹ آئی ہیں۔

روزمرہ فضلہ انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے، شہر اب اپنے 36–42 ٹن یومیہ (ٹی پی ڈی) میونسپل فضلے کو جدید نظام کے ذریعے پروسیس کرتا ہے۔ جاپی ساجیا،آسام کا پہلا مربوط مرکز،میٹیریل ریکوری فیسیلٹی (ایم آر ایف) اور کچرے سے کھاد (ڈبلیو ٹی سی) پلانٹ کو یکجا کرتا ہے، جہاں کچرے کی ری سائیکلنگ، علیحدگی اور اس سے کھاد ایک ہی جگہ تیار ہوتی ہے۔ 7,000 مربع فٹ پر پھیلا ایم آر ایف روزانہ 100 ٹن کی صلاحیت کے ساتھ قابلِ بازیافت مواد کو سرکلر اکانومی میں واپس شامل کرتا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی سی یونٹ 25 ٹن یومیہ گیلا فضلہ نامیاتی کھاد میں بدل کر مقامی کسانوں کو فراہم کرتا ہے۔ یوں، پرانے فضلے کی صفائی، مربوط پروسیسنگ سہولیات اور ماحولیاتی احیاء نے “سوچھ لکھیم پور” کو آسام میں پائیدار شہری ترقی کا معیار بنا دیا ہے۔

مشترکہ ذمہ داری، صاف ستھری سڑکیں: میزورم کی مثال
آئزول نے اپنی صفائی مہم کو ایک تخلیقی اور عوامی شراکت پر مبنی اقدام کے ساتھ نئی جہت دی ہے: اڈاپٹ-اے-ڈسٹ بن اسکیم یعنی کوڑے دان کو اپنانے کی اسکیم۔ یہ پہل 5 جون 2025 کو عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر شروع کی گئی اور شہر کے جامع میونسپل ٹھوس فضلہ انتظامی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔

یہ خیال سادہ مگر مؤثر ہے: باشندے، دکاندار، ادارے، این جی اوز، نوجوانوں کے گروہ اور برادری کی تنظیمیں شہر بھر میں نصب عوامی کوڑے دانوں کو “گود” لے کر اس وقت تک اُن کی صفائی اور اطراف کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں، جب تک کہ بلدیاتی ٹیمیں فضلہ جمع نہ کر لیں۔ اس سلسلے میں لوگوں کا ردِعمل غیر معمولی رہا،75 مقامات پر 95 کوڑے دان گود لیے جا چکے ہیں، جن میں بازار، فٹ پاتھ، رہائشی اور ادارہ جاتی علاقے شامل ہیں۔ کئی شرکاء نے محض صفائی تک محدود نہ رہتے ہوئے سائن بورڈز لگائے، جگہوں کو خوبصورت بنایا اور لوگوں میں آگاہی پھیلائی۔ مشترکہ ملکیت کے ذریعے آئزول نے معمول کی صفائی کو ایک عوامی تحریک میں بدل دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر کی شہری روح اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
اروناچل پردیش میں برادری کی قیادت میں فضلہ کا بندوبست
لوئر دیبانگ ویلی، اروناچل پردیش کے شہر روئنگ نے بڑھتے ہوئے فضلہ بحران کو ایک کامیاب برادری قیادت کی کہانی میں بدل دیا ہے۔ 2022 میں روئنگ میونسپل کونسل نے مقامی اپنی مدد آپ گروپ گرین روئنگ کے ساتھ شراکت میں سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی) پر مبنی فضلہ انتظام ماڈل شروع کیا، جس کا مقصد صحت عامہ اور خطے کے نازک ماحول کا تحفظ تھا۔
ابتدا میں 12 رکنی ٹیم نے گھروں سے فضلہ جمع کرنا شروع کیا اور پلاسٹک سے بھرے ڈمپنگ مقامات کو نشانہ بنا کر مزید پھینکنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائیں۔ اسٹریٹ پلے، آگاہی مہمات اور تعلیمی سرگرمیوں نے شہریوں کو علیحدگی اور ذمہ دارانہ طور پر تلفی پر آمادہ کیا۔ جلد ہی یہ کوشش ایک نجی طور پر چلنے والی ایم آر ایف کے قیام کے ساتھ وسعت اختیار کر گئی، جو ماہانہ تقریباً تین ٹن فضلہ پروسیس کرتی ہے۔ گھروں، سڑکوں اور نالیوں سے جمع شدہ قابلِ ری سائیکل مواد فروخت کر کے اپنی مدد آپ گروپ کے اراکین کے لیے آمدنی پیدا کی جاتی ہے، جس سے نظام خود کفیل بن گیا ہے۔
روئنگ کی تبدیلی کی ایک نمایاں علامت ویسٹ ٹو ونڈر بٹر فلائی پارک ہے، جو ایزے پارک میں 10,000 پلاسٹک بوتلوں سمیت ری سائیکل شدہ مواد سے تعمیر کیا گیا۔ جدت طرازی، برادری کی شمولیت اور ماحولیاتی نگہداشت نے روئنگ کو اروناچل پردیش کے قصبات کے لیے ایک قابلِ تقلیدنمونہ بنا دیا ہے۔

آبی وسائل کا تحفظ: تریپورہ میں شروع میں ہی فضلہ روکنے کی کوشش

تریپورہ کے شہری مقامی بلدیاتی اداروں(یو ایل بی) نے مقامی آبی ذخائر کو ٹھوس فضلہ آلودگی سے بچانے کے لیے فیصلہ کن اور عملی اقدامات کیے ہیں۔ تمام نالوں پر جو پانی میں گرتے ہیں، تاروں کی جالی اور دستی صفائی کے نظام نصب کیے گئے تاکہ فضلہ پانی میں جانے سے پہلے ہی پکڑا جا سکے۔ اس بنیادی ڈھانچے کے ساتھ بھرپور عوامی رابطہ بھی کیا گیا۔ وارڈ سطح کی مہمات، کمیونٹی میٹنگز اور ہدف پر مبنی پروگراموں کے ذریعے شہریوں کو کچرے کے ذمہ دارانہ بندوبست، مورتیوں کو نذر آب کرنے کے اصولوں اور آبی آلودگی کے طویل مدتی اثرات سے آگاہ کیا گیا۔

آبی ذخائر میں براہِ راست کچرا پھینکنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مسلسل صفائی مہمات اور گھر گھر آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے۔ شہریوں کی سرگرم شرکت کے ساتھ، ان مستقل کوششوں نے آلودگی میں نمایاں کمی کی ہے، جو اس بات کی مثال ہے کہ بلدیاتی نظام اور عوامی شمولیت مل کر شہری آبی ایکونظام کا تحفظ کیسے کر سکتے ہیں۔
روایت سے تبدیلی تک:
ناگالینڈ کا صفر کچرا والا ہورن بل فیسٹیول
ناگالینڈ کے 26ویں ہورن بل فیسٹیول نے بڑے اجتماعات کے لیے نئے اصول قائم کیے اور ایک صفر فضلہ، صفر پلاسٹک قومی ماڈل بن کر ابھرا۔ واحد استعمال والےپلاسٹک-اسٹرا، پلیٹس، کپ اور بیگ،پر مکمل پابندی عائد کی گئی اور ان کی جگہ کیلے کے پتوں کی پلیٹس، بانس کے اسٹرا اور بیگاس کے برتن نے لے لی۔ اس اقدام سے دس لاکھ سے زیادہ پلاسٹک اشیاء کے استعمال سے بچا جاسکا اور تقریباً 50 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوا۔

وینڈر کی سخت چیکنگ نے پابندیوں پر عملدرآمد یقینی بنایا، جبکہ علیحدہ کوڑے دان، واضح سائن بورڈز اور تربیت یافتہ رضاکاروں نے کچرے کے ذمہ دارانہ بندوبست کو آسان بنا دیا۔ خشک فضلہ ری سائیکلنگ کے لیے بھیجا گیا، جبکہ گیلا فضلہ موقع پر ہی کھاد بنا کر کے مقامی کسانوں میں تقسیم کیا گیا۔ پانی بھرنے کےاسٹیشنز نے بوتل بند پانی کی جگہ لی، آنے والے افراد کو اپنا برتن ساتھ لانے کی ترغیب دی گئی اور 42 صاف ستھرے بیت الخلاء فراہم کیے گئے۔ مقامی ذرائع سے مواد حاصل کر کے اور وسائل کو گردش میں رکھ کر، ہورن بل فیسٹیول نے ثابت کیا کہ پائیداری کوئی سمجھوتہ نہیں،بلکہ خود ایک جشن ہے۔

شمال مشرقی بھارت کی کامیابیاں ایک مضبوط حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں: پائیدار فضلہ انتظام صرف بنیادی ڈھانچے سے نہیں بنتا، بلکہ اعتماد، شمولیت اور استقامت سے تشکیل پاتا ہے۔ شہروں نے زمین اور آبی ذخائرکا احیاء کیا، برادریوں نے سڑکوں اور نالیوں کی ذمہ داری سنبھالی، تہواروں نے روح برقرار رکھتے ہوئے صفر کچرے کا نمونہ پیش کیا اور چھوٹے قصبات نے فضلے کو روزگار اور عوامی فخر میں بدل دیا۔ یہ تمام کوششیں انفرادی کامیابیوں سے آگے بڑھ کر ایک ایسا ماڈل تشکیل دیتی ہیں جسے دیگر شہر بھی اپنا سکتے ہیں۔ نفاذ کے بجائے تعاون اور ضابطوں کی تعمیل کے بجائے شراکت کا انتخاب کر کے، شمال مشرق یہ دکھاتا ہے کہ صفائی کوئی وقتی شے نہیں، بلکہ ایک مشترکہ عادت ہے،جو آہستہ آہستہ، سب کی شرکت اور مستقل مزاجی کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔
ہاؤسنگ اور شہری امورکی وزارت
پی ڈی ایف میں دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
پی آئی بی ریسرچ
***********
Urdu-232
(ش ح۔م ع۔ش ہ ب)
(ریلیز آئی ڈی: 2212141)
وزیٹر کاؤنٹر : 16