نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ نے چنئی میں رام ناتھ گوئنکا ساہتیہ سمّان کے تیسرے ایڈیشن میں شرکت کی
ادب اور بے خوف اظہار جمہوریت کے لیے ازحد ضروری : نائب صدر جمہوریہ
प्रविष्टि तिथि:
02 JAN 2026 6:47PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھاکرشنن نے آج چنئی میں رام ناتھ گوئنکا ساہتیہ سمّان کے تیسرے ایڈیشن میں شرکت کی۔
مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ رام ناتھ گوئنکا ساہتیہ سمّان ادب، خیالات، اور بے خوف اظہار کی لازوال قوت کا جشن مناتا ہے۔
جناب رام ناتھ گوئنکا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے انہیں بے خوف صحافت کی ایک بلند پایہ شخصیت قرار دیا جس نے دیانتداری، فکری جرأت اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھا اور انہیں ’’بھارتی جمہوریت کے ضمیر کا محافظ‘‘ قرار دیا جس کی میراث نسلوں کو متاثر کر رہی ہے۔
جناب جے پرکاش نارائن کی قیادت میں کلی انقلاب کے دور کے ساتھ اپنی ذاتی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے، جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران، جناب رام ناتھ گوئنکا نے صحافتی اقدار کو برقرار رکھا اور بغیر کسی خوف کے پریس سنسرشپ کی مخالفت کی۔ انہوں نے ایمرجنسی کے دوران شائع ہونے والے مشہور خالی اداریے کو خاموشی کی طاقت اور صحافت کی اخلاقی قوت کے ایک طاقتور مظاہرے کے طور پر اجاگر کیا۔
نائب صدر جمہوریہ نے اخبارات پر زور دیا کہ وہ قومی ترقی کے موضوعات کوزیادہ سے زیادہ جگہ دیں۔انہوں نے تجویز دی کہ کم از کم دو صفحات باقاعدگی سے تعمیری گفتگو کے لیے وقف کیے جائیں جو قومی شعور اور باخبر شہریت کو تقویت بخشے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جب سچائی کو پختہ یقین کے ساتھ قائم رکھا جاتا ہے، تو اس میں اپنی اخلاقی قوت ہوتی ہے۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کی ترقی سبھی زبانوں اور ثقافتی روایات کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے ساتھ شامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے ہندوستان کی ثقافتی، لسانی اور فکری وراثت کو قومی گفتگو کے مرکز میں رکھنے میں وزیر اعظم کی قیادت کا اعتراف کیا۔ نائب صدر نے ہندوستانی زبانوں اور روایات کو فروغ دینے کے اقدامات کا ذکر کیا، جن میں مراٹھی، پالی، پراکرت، آسامی اور بنگالی کو کلاسیکی زبان کا درجہ دینا بھی شامل ہے۔ ثقافت کی وزارت کے گیان بھارتم مشن کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ پہل ڈیجیٹل اور اے آئی کے تابع ٹولز کے ذریعے ہندوستان کے مخطوطات اور علمی نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے روایت کو ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔
اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ ادب نے ہمیشہ معاشرے کے آئینہ اور تہذیبی اقدار کے مشعل بردار کے طور پر کام کیا ہے، جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ تیز رفتار اقتصادی، تکنیکی اور سماجی تبدیلی کے دور میں ادیبوں اور دانشوروں کی ذمہ داری اور بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کردار تخلیقی صلاحیتوں سے بڑھ کر سماجی ہم آہنگی، آئینی اقدار اور اخلاقی گفتگو پر محیط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے اور جب ذمہ داری، ہمدردی اور جوابدہی کے ساتھ استعمال کی جائے تو یہ سب سے بہتر پنپتی ہے۔
ویدوں اور اپنشدوں سے لے کر مہاکاوی، بھکتی اور صوفی شاعری، اور جدید ادب تک ہندوستان کے بھرپور ادبی ورثے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ تکثیریت، بحث و مباحثہ اور آزادانہ اظہار کا احترام ہندوستان کی تہذیبی اخلاقیات میں گہرا ہے۔
اس امر کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعریف نہ صرف معاشی طاقت اور تکنیکی ترقی سے ہوتی ہے بلکہ سماجی شمولیت، ثقافتی اعتماد اور اخلاقی اقدار سے بھی ہوتی ہے، جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ وکشت بھارت کی طرف سفر کے لیے روشن ذہن، تخلیقی اظہار اور ایک مضبوط اخلاقی کمپاس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادب اور صحافت باخبر بحث، تعمیری اختلاف رائے اور جمہوری چوکسی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ان کی شراکتیں ہندوستان کے فکری منظر نامے کو تقویت بخشتی ہیں اور خیالات اور سماج کے درمیان بندھن کو مضبوط کرتی ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ان کی تحریریں قارئین خصوصاً نوجوان نسل کو گہرائی سے سوچنے، ذمہ داری سے کام کرنے اور دنیا کے ساتھ تخلیقی انداز میں مشغول ہونے کی ترغیب دیں گی۔
تقریب کے دوران، کنڑ زبان کے مشہور مصنف اور بھارت کی قابل احترام ادبی شخصیت ڈاکٹر چندشیکھر کمبارا کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بہترین فکشن ایوارڈ اروناچل پردیش کی سوبی تابا کو دیا گیا؛ بہترین غیر فکشن ایواڑڈ سوبھانشی چکروتی کو دیا گیا ؛ اور بہترین ڈیبیو ایوارڈ نیہا دیکشت کو دیا گیا۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:81
(रिलीज़ आईडी: 2210944)
आगंतुक पटल : 13