وزارت دفاع
اصلاحات کا سال 2025: وزارت دفاع نے وسیع پیمانے پر اصلاحات کے نفاذ میں نمایاں پیش رفت درج کی
प्रविष्टि तिथि:
01 JAN 2026 5:51PM by PIB Delhi
اصلاحات کا سال 2025،کے اختتام کے ساتھ، وزارتِ دفاع نے وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں مشترکہ نظام کو مضبوط بنانے، دفاعی تیاری میں اضافہ کرنے، خود کفالت کو فروغ دینے اور فلاحی خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کے نفاذ میں قابلِ ذکر پیش رفت درج کی ہے۔ وزارت کے مختلف شعبوں میں کی جانے والی یہ اصلاحات ایک جدید، مربوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ دفاعی ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لیے حکومت کے ہمہ جہتی نقطۂ نظر کی عکاس ہیں۔
حصولی منظوریوں کی پیش رفت:
دفاعی حصولِ منظوری کونسل نے جنوری 2025 سے اب تک ملک کی دفاعی تیاری کو مستحکم بنانے کے لیے، مقامی تیاری کے ذریعے جدیدیت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے، مجموعی طور پر 3.84 لاکھ کروڑ سے زائد لاگت کی سرمایہ جاتی حصولی تجاویز کی منظوری دی ہے۔
معاہدوں پر دستخط:
مالی سال 2025-26 میں دسمبر 2025 کے اختتام تک، وزارتِ دفاع نے مسلح افواج کی جدیدیت کے لیے 1.82 لاکھ کروڑ مالیت کے سرمایہ جاتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
اخراجات کی صورتِ حال:
وزارتِ دفاع نے دسمبر 2025 کے اختتام تک سرمایہ جاتی حصولی بجٹ کے تحت 80 فیصد (تقریباً 1.2 لاکھ کروڑ) اخراجات مکمل کر لیے ہیں، جو مسلح افواج کی جدیدیت پر صرف کیے گئے ہیں۔ وزارتِ دفاع کے مجموعی سرمایہ جاتی اخراجات بھی 76 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، جن میں سرمایہ جاتی حصولی کے علاوہ بنیادی ڈھانچے، زمین، تحقیق و ترقی اور دیگر مدّات پر ہونے والے اخراجات شامل ہیں۔
دفاعی صنعت اور اختراع کی حوصلہ افزائی:
دفاعی شعبے میں زیادہ مقامی شمولیت اور محفوظ سپلائی چین کے قیام کے لیے نجی شعبے کی شرکت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت دفاعی مینوفیکچرنگ کے لائسنسوں کو سہل بنایا گیا ہے، چھوٹے اور متوسط درجے کی صنعتوں کی صلاحیتوں کی نقشہ بندی کی گئی ہے، اور دفاعی خریداری میں طلب و رسد کے بہتر تجزیے کے لیے مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹس تیار کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ جانچ اور آزمائشی لیبارٹری سہولیات نجی شعبے کے لیے دستیاب کرائی جا رہی ہیں۔ دفاعی تحقیقاتی گرانٹس کا 25 فیصد حصہ نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور چھوٹے و متوسط درجے کے صنعتی اداروں کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ اختراع کو فروغ دیا جا سکے اور دفاعی شعبے میں باہمی تعاون مضبوط ہو۔
حصولی و خریداری اصلاحات:
خریداری کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے طریقۂ کار کو سادہ بنایا گیا ہے، جس میں اختراعی دفاعی منصوبوں کے رہنما کتابچے کی سادہ کاری، دفاعی برآمدی اجازت ناموں کی معقولیت، دفاعی برآمد و درآمد پورٹل کی از سرِ نو تشکیل، ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق پالیسی کی سادہ کاری، اور مالی اختیارات کی نظرِ ثانی شدہ تفویض کے ذریعے مرکزیت میں کمی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دفاعی خریداری رہنما کتابچہ 2025 نافذ کیا گیا ہے، جو یکم نومبر 2025 سے مؤثر ہے۔
دفاعی پالیسی اور بین الاقوامی روابط:
دفاعی حصولی طریقۂ کار 2020 کے جائزے اور نظرِ ثانی، دفاعی شعبے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ، بھارت مِتری شکتی سمیت دفاعی قرضہ جاتی سہولیات، اور دفاعی تنصیبات کے قریب محدود فاصلے کے ضوابط کی معقولیت جیسے اقدامات پر پیش رفت جاری ہے۔
دفاعی پیداوار اور معیار میں بہتری:
دفاعی برآمدات کے فروغ کے لیے ایک خصوصی ادارے کی تشکیل، دفاعی سرکاری اداروں میں معیارِ یقین دہانی 4.0 اور صنعتی نظام 4.0 کے نفاذ، اور دفاعی پلیٹ فارمز کے لیے قومی مربوط آزمائشی تجربہ گاہ کے قیام کے اقدامات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مشترکہ نظام اور مستقبل کی تیاری:
مشترکہ کارروائیوں کے کنٹرول مرکز کا قیام، مسلح افواج کے لیے وژن 2047 کا اجرا، مستقبل کی کارروائیوں کے تجزیاتی گروپ کی تشکیل، مشترکہ تربیتی پروگراموں کا فروغ، اور مربوط صلاحیتی ترقیاتی منصوبے کی تکمیل مختلف مراحل میں ہے۔ اس سمت میں اٹھائے گئے اقدامات کے ثمرات آپریشن سندور کی منصوبہ بندی اور کامیاب عمل درآمد کے دوران نمایاں طور پر سامنے آئے۔
عملی انضمام اور صلاحیت میں اضافہ:
تینوں افواج پر مشتمل جغرافیائی معلوماتی نظام کی تعیناتی، پالیسیوں، معیاری عملی طریقۂ کار اور حربی حکمتِ عملیوں کا جائزہ اور ہم آہنگی تاکہ تینوں افواج میں یکسانیت پیدا ہو، خواتین کے کردار کو جنگی اور قیادی مناصب میں وسعت دینا، فوجی سیاحت کو فروغ دینا، اور عملی بنیادی ڈھانچے و رہائش کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔
سابق فوجیوں کی فلاحی اصلاحات:
سابق فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے طبی سہولتوں کی فراہمی کو بہتر بنانے کی غرض سے، 70 سال یا اس سے زائد عمر کے معذور سابق فوجیوں کو ملک بھر میں گھروں تک ادویات کی فراہمی شروع کی گئی ہے، مجاز مقامی کیمسٹ کی حد دوگنی کر دی گئی ہے، ٹیلی میڈیسن مشاورت متعارف کرائی گئی ہے اور اس کا ملک گیر نفاذ جاری ہے۔ آیوروید، یوگا اور دیگر متبادل طریقۂ علاج کو بھی طبی نظام میں شامل کیا گیا ہے، ذہنی دباؤ کے انتظام کی سہولیات قائم کی گئی ہیں، مشترکہ ادویات کی فہرست میں توسیع کی گئی ہے، بعض پولی کلینکس کو اپ گریڈ کیا گیا ہے اور نئے پولی کلینکس کے قیام پر کام جاری ہے۔ سابق فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے غربت، تعلیم اور شادی سے متعلق فلاحی گرانٹس میں اضافہ نافذ کیا گیا ہے۔
اسپارْش پنشن پورٹل:
31.69 لاکھ دفاعی پنشنرز کو اسپارش پنشن پورٹل پر شامل کیا جا چکا ہے، جو بھارت کا سب سے بڑا ڈیجیٹل پنشن پلیٹ فارم ہے۔ سابقہ نظاموں سے منتقل ہونے والے 6.43 لاکھ اختلافی معاملات میں سے 6.07 لاکھ معاملات پنشنرز کے حقوق متاثر کیے بغیر حل کر دیے گئے ہیں۔
اصلاحات کا سال 2025،کے دوران اصلاحات کی مسلسل رفتار نے بھارت کی دفاعی تیاری اور ادارہ جاتی کارکردگی کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ یہ اصلاحات الگ تھلگ اقدامات نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کا حصہ ہیں، جن کا مقصد آنے والی دہائیوں میں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک جدید، مربوط اور خود کفیل دفاعی نظام کی تشکیل ہے۔
***
UR-36
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2210593)
आगंतुक पटल : 22