امور داخلہ کی وزارت
بایاں محاذکی انتہا پسندی کے اثرات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 DEC 2025 3:33PM by PIB Delhi
ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کے مطابق ، پولیس اور پبلک آرڈر کے مضامین ریاستی حکومتوں کے ذمے ہیں ۔ تاہم ، حکومت ہند (جی او آئی) بایاں محاذکی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ ریاستوں کی کوششوں کی تکمیل کر رہی ہے ۔ ایل ڈبلیو ای کی لعنت سے کلی طور پر نمٹنے کے لیے ، 2015 میں ’’ایل ڈبلیو ای سے نمٹنے کی قومی پالیسی اور ایکشن پلان‘‘ کو منظوری دی گئی تھی ۔ اس میں ایک کثیر جہتی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس میں سلامتی سے متعلق اقدامات ، ترقیاتی مداخلت ، مقامی برادریوں کے حقوق اور استحقاق کو یقینی بنانا وغیرہ شامل ہیں ۔ قومی پالیسی اور ایکشن پلان 2015 کے پختہ نفاذ کے نتیجے میں تشدد کے واقعات میں مسلسل کمی آئی ہےاور اس کاجغرافیائی پھیلاؤ محدود ہوا ہے۔ ایل ڈبلیو ای ملک کی داخلی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج رہا ہے ، جسے حالیہ دنوں میں نمایاں طور پر روکا گیا ہے اور اسے صرف چند علاقوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ایل ڈبلیو ای کے تشدد کے واقعات کی تعداد سال 2010 میں 1936 کی اعلیٰ سطح سے 89فیصد گھٹ کر 2025 میں 222 ہو گئی ہے۔ شہری اور سلامتی دستوں کی اموات کی تعدادبھی سال 2010 میں 1005 سے 91فیصد سے گھٹ کر سال 2025 میں 95 رہ گئی ہے۔ ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ اضلاع کی تعداد اپریل 2018 میں 126 سے گھٹ کر 90 ، جولائی 2021 میں 70 ، اپریل 2024 میں 38 ، اپریل 2025 میں 18 اور اکتوبر 2025 میں صرف 11 رہ گئی ہے۔ قبائلی اور دور افتادہ علاقوں میں ترقی پر حکومت کی توجہ سے نکسل ازم کا بنیادی مسئلہ حل ہوا ہے۔ بہتر امن و امان اور سلامتی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے سرکاری/نجی سرمایہ کاری میں اضافے سمیت بہتر اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہواہے ۔
سکیورٹی کے محاذ پر ، حکومت ہند سنٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) بٹالین ، ہیلی کاپٹر سپورٹ ، کیمپ کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، تربیت ، ریاستی پولیس فورسز کی جدید کاری کے لیے فنڈ، آلات اور اسلحہ، انٹیلی جنس کا اشتراک، قلعہ بند تھانوں کی تعمیر اور انڈیا ریزرو بٹالین کی منظوری وغیرہ فراہم کرتی ہے ۔
- ریاستوں کی صلاحیت سازی کے لیے، سکیورٹی سے متعلق اخراجات (ایس آر ای) اسکیم کے تحت ،ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ ریاستوں کو مالی سال 21-2020 سے 25-2024 تک سیکورٹی فورسز کے آپریشنل اخراجات اور تربیت کی ضروریات ، خود سپردگی کرنے والے ایل ڈبلیو ای کیڈر کی بازآبادکاری، ایل ڈبلیو ای کےتشدد سے متاثرہ شہریوں/ سیکورٹی فورس کے شہید اہلکاروں وغیرہ کے اہل خانہ کو معاوضے کے طور پر کل 1643 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اسپیشل انفراسٹرکچر اسکیم (ایس آئی ایس) کے تحت،ریاست کی اسپیشل فورس ، اسٹیٹ انٹیلی جنس برانچ (ایس آئی بی) اورضلع پولیس کو مضبوط بنانے اور قلعہ بند تھانوں(ایف پی ایس) کی تعمیر کے لیے ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ ریاستوں کو 1757 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے ۔
- ایل ڈبلیو ای کو مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے لیے ، حکومت ہند اور ریاستی حکومتوں نے خود سپردگی اور باز آبادکاری کی جامع پالیسیاں وضع کی ہیں۔ حکومت ہند سلامتی سے متعلق اخراجات (ایس آر ای) اسکیم کے حصے کے طور پر ’سرینڈر-کم-ری ہیبلیٹیشن‘ پالیسی کے ذریعے ریاستوں کی اس کوشش میں بھی مدد کرتی ہے ۔
حکومت ہند ایس آر ای اسکیم کے تحت خود سپردگی کرنے والوں کی باز آبادکاری پر بایاں محاذکی انتہا پسندی سے متاثرہ ریاستوں کے اخراجات کی ادائیگی کرتی ہے ۔ باز آبادکاری پیکج میں دیگر فوائد کے ساتھ اعلیٰ رینک والے ایل ڈبلیو ای کیڈروں کے لیے 5 لاکھ روپے اور دیگر ایل ڈبلیو ای کیڈروں کے لیے 2.5 لاکھ روپے کی فوری گرانٹ بھی شامل ہے ۔ اس اسکیم کے تحت ہتھیاروں/گولہ بارود کے ہتھیار ڈالنے کے لیے مراعات بھی فراہم کی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ، ان کی پسند کی تجارت/پیشے کی تربیت کے لیے تین سال تک ماہانہ 10,000/-روپےدینے کا بھی التزام موجود ہے ۔ متاثرہ ریاستوں نے اپنی خود سپردگی اور بازآبادکاری کی پالیسیوں میں مزید ترمیم کی ہے تاکہ انہیں پُر کشش اور عصری بنایا جا سکے۔
- اپنے پولیس دستوں کو لیس کرنے اور جدید بنانے کی ریاستوں کی کوششوں کو ’’پولیس کی جدید کاری کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مدد‘‘اسکیم کے تحت پورا کیاجاتا ہے ۔ اس اسکیم کے تحت ریاستی حکومتوں کو اسلحہ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آلات، مواصلات، تربیت، پولیس اسٹیشنوں کی تعمیر، نقل و حرکت اور پولیس ہاؤسنگ اور دیگر پولیس انفراسٹرکچر کی تعمیر وغیرہ کے لیے مرکزی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
- ایل ڈبلیو ای کی مالی رکاوٹ اور سی پی آئی (ماؤنواز) اور اس کے مالی معاونین کے درمیان گٹھ جوڑ کا پتہ لگانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ ایل ڈبلیو ای کے فنڈ اور دیگر وسائل کو روکنے کی سمت میں مؤثر کارروائی کے لیے، ریاستی پولیس کے ذریعے مرکزی ایجنسیوں کے تعاون سے مختلف سطح پرمربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔
- سکیورٹی کے بنیادی ڈھانچے پر حکومت ہند کی توجہ اہم رہی ہے ۔ پچھلی دہائی میں 656 قلعہ بند تھانے بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ چھ سالوں میں ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں میں 377 نئے حفاظتی کیمپ قائم کیے گئے ہیں ۔
ترقی کے محاذ پر ، حکومت ہند (جی او آئی) کی اہم اسکیموں کے علاوہ سڑک نیٹ ورک کی توسیع ، ٹیلی مواصلات رابطے کی بہتری، تعلیم ، ہنر مندی کے فروغ اور مالی شمولیت پر خصوصی زور دینے کے ساتھ متعدد ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں کے لیے مخصوص اقدامات کیے گئے ہیں ۔ مالی سال 21-2020 کے بعد سے نافذ ہونے والان میں سے کچھ پروگرام درج ذیل ہیں:
- سڑک نیٹ ورک کی توسیع کے لیے ، ایل ڈبلیو ای پرمرکوز 2اسکیموں یعنی روڈ ریکوائرمنٹ پلان (آر آر پی) اور ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں کے لیے روڈ کنکٹیویٹی پروجیکٹ (آر سی پی ایل ڈبلیو ای اے) کے تحت 8301 کلومیٹر روڈتعمیر کیے گئے ہیں ۔
- ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ علاقوں میں ٹیلی کام کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے لیے 6775 ٹاور نصب کیے گئے ہیں ۔
- ہنر مندی کے فروغ کے لیے 19 انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (آئی ٹی آئی) اور ہنر مندی کے فروغ کے 05مراکز (ایس ڈی سی) کام کر رہے ہیں ۔
- قبائلی علاقوں میں معیاری تعلیم کے لیے 95 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس) قائم کئے گئے ہیں۔
- مالیاتی شمولیت کے لیے، محکمہ ڈاک نے بایاں محاذسے متاثرہ اضلاع میں بینکنگ خدمات والے 4,262 ڈاک خانے کھولے ہیں ۔ بایاں محاذکی انتہا پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں 719 بینک برانچ اور 204 اے ٹی ایم کھولے گئے ہیں ۔
- ترقی کو مزید فروغ دینے کے لیے ، خصوصی مرکزی امداد (ایس سی اے) اسکیم کے تحت بایاں محاذسے متاثرہ زیادہ تر اضلاع میں عوامی بنیادی ڈھانچے میں اہم خلا کو پر کرنے کے لیے فنڈ فراہم کیے جاتے ہیں ۔ مالی سال 21-2020 سے 25-2024 تک کل 1576 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں ۔
- 2020-2025 کے دوران ملک میں ایل ڈبلیو ای سے شہید ہونے شہریوں ، سکیورٹی فورسز کی تفصیلات مندرجہ ذیل ضمیمہ میں دی گئی ہیں ۔
حکومت ہند ملک سے بایاں محاذکی انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے ساتھ ساتھ بایاں محاذکی انتہا پسندی سے آزاد ہونے والے علاقوں کی مجموعی ترقی کے لیے پابند عہد ہے ۔
*****
ضمیمہ
ایل ڈبلیو ای: تشدد کا ڈیٹا
|
سال
|
شہریوں کی موت
|
شہید ہونے والے سکیورٹی فورسز
|
|
2020
|
140
|
43
|
|
2021
|
97
|
50
|
|
2022
|
82
|
16
|
|
2023
|
106
|
32
|
|
2024
|
131
|
19
|
|
2025
01.12.2025) تک)
|
61
|
32
|
|
کل
|
617
|
192
|
یہ معلومات وزارت داخلہ کے وزیر مملکت جناب نتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی ہیں ۔
*****
) ش ح –م ش ع- ش ہ ب )
U.No. 3358
(ریلیز آئی ڈی: 2205503)
وزیٹر کاؤنٹر : 16