الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
سی ای آر ٹی – اِن نے بھارت کی سائبر سلامتی کے فریم ورک پر بات چیت کے لیے مہمان صحافیوں کو مدعو کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 DEC 2025 9:34AM by PIB Delhi
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کے ماتحت بھارتی کمپیوٹر ہنگامی ردعمل ٹیم (س ای آر ٹی - اِن) نے وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے تعاون سے ، 12 دسمبر 2025 کو، یوروپ، امریکہ اور وسطی ایشیا کے ممالک سے آئے صحافیوں کے لیے سائبر سلامتی سے متعلق باہمی تفہیم کے دورے اور بات چیت پر مبنی سیشن کا اہتمام کیا۔
اس سیشن کی صدارت سی ای آر ٹی- ان کے ڈائرکٹر جنرل اور الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کی وزارت میں کنٹرولر آف سرٹیفائینگ اتھارٹیز (سی سی اے) ڈاکٹر سنجے بہل نے کی۔ الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب کرشن کمار سنگھ نے وفد کے لیے خیرمقدمی کلمات پیش کیے اور انڈیا اے آئی امپیکٹ سربراہ اجلاس سمیت وزارت کی مختلف پہل قدمیوں کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر بہل نے سائبر سیکورٹی، بحران سے نمٹنے، خطرے کی تشخیص، معلومات کے تبادلے، اور سائبر واقعات پر مربوط ردعمل، آڈیٹرز کی فہرست سازی، ہندوستان میں خصوصی تربیتی پروگراموں میں ای سی آر ٹی – اِن کے کردار اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ سی ای آر ٹی – اِن کے تحقیقی تعاون، عوامی –نجی شراکت داری ، اور بین الاقوامی فورموں میں شرکت کے ذریعے، سی ای آر ٹی – اِن ڈیجیٹل انڈیا کے وژن کے ساتھ منسلک ایک مضبوط اور قابل بھروسہ سائبر ڈیفنس فن تعمیر کر رہا ہے۔
ڈاکٹر بہل نے اس بات پر زور دیا کہ ای ای آر ٹی – اِن ابھرتے ہوئے خطرات کے خلاف تنظیموں اور شہریوں کو بروقت الرٹس اور موزوں مشورے جاری کرتا ہے، غیر ضروری گھبراہٹ کے بغیر فعال تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ ڈاکٹر بہل نے 400 سے زیادہ اسٹارٹ اپس اور 6.5 لاکھ سے زیادہ پیشہ ور افراد کی ہنرمند افرادی قوت کے ذریعہ چلائے جانے والے ایک عالمی سائبر سیکورٹی مرکز کے طور پر ہندوستان کے تیزی سے ابھرنے پر بھی روشنی ڈالی، جس سے 20 بلین امریکی ڈالر کی سائبر سیکورٹی صنعت کو تقویت ملی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ اختراع کرنے والے خطرات کا پتہ لگانے، سائبر فرانزک اور AI پر مبنی نگرانی کے نظام کے لیے جدید حل تیار کر رہے ہیں، جو ایک محفوظ اور لچکدار ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کے لیے ہندوستان کے عزم کو تقویت دے رہے ہیں۔
ابھرتے ہوئے خطرے کے منظر نامے پر زور دیتے ہوئے، ڈاکٹر بہل نے مشاہدہ کیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک دو دھاری تلوار کے طور پر کام کرتی ہے — جو محافظوں اور مخالفوں دونوں کو قابل بناتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ کس طرح سی ای آر ٹی – اِن اے آئی سے چلنے والے تجزیات اور آٹومیشن کو حقیقی وقت میں سائبر واقعات کا پتہ لگانے، روکنے اور ان کا جواب دینے کے لیے فائدہ اٹھاتا ہے، جبکہ اے آئی کے تابع نقصان دہ حملوں کے خلاف انسدادی اقدامات بھی تیار کرتا ہے۔
مہمان صحافیوں کو سی ای آر ٹی – اِن کی مسلسل کوششوں، صلاحیت سازی سے متعلق پہل قدمیوں، اور بین الاقوامی اشتراک کے بارے میں بتایا گیا۔ انہیں ، سی ای آر ٹی – اِن سمیت دیگر قومی اتھارٹیوں کے ساتھ شراکت داری میں ’سائبر خطرات پر مبنی نقطہ نظر کے ذریعہ اے آئی کو لے کر اعتماد سازی‘ کے موضوع پر اے آئی کی ایک مشترکہ اعلیٰ سطحی خطرے کی جائزہ رپورٹ شائع کرنے کے لیے فرانس کی قومی سائبر سیکورٹی ایجنسی (اے این ایس ایس آئی) کے ساتھ کام کرنے، اور سائبر سیکورٹی میں بین الاقوامی شراکت داروں اور عالمی و علاقائی فورموں کے ساتھ مشترکہ مشقوں کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ بھارتی کو آپریٹیو بینکوں میں سائبر سلامتی کو مضبوط بنانے اور بوٹس اور مالویئر سے بھارتی شہریوں کے ڈیجیٹل آلات کی حفاظت کرنے سے متعلق سی ای آر ٹی-اِن کی پہل قدمیوں کو بھی اجاگر کیا گیا، جنہیں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کے ذریعہ عالمی سائبر سیکورٹی آؤٹ لک جنوری 2025 کی رپورٹ میں اجاگر کیا گیا تھا۔ڈاکٹر بہل نے کہا کہ بھارت نے 2024 میں 147 سے زائد نقصان دہ سافٹ ویئر کے معاملات درج کیے ۔ انہوں نے کہا کہ سی ای آر ٹی – اِن کی مربوط کارروائیوں نے ریئل ٹائم انٹیلی جینس کے تبادلے اور فارنسک مداخلت کے ذریعہ ان کے اثرات کو قابل ذکر حد تک زائل کیا۔
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب کرشن کمار سنگھ نے انڈیا اے آئی مشن، فروری 2026 میں منعقد ہونے والے اے آئی امپیکٹ سربراہ اجلاس، مقامی سائبر سیکورٹی حل تیار کرنے والے اسٹارٹ اپس کے لیے پالیسی سپورٹ، سائبر سیکیورٹی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ، مختلف قومی سطح کے اقدامات اور الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کی وزارت کے پروجیکٹوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
یہ سیشن باہم اثر پذیر سوال و جواب کے پروگرام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جس میں مندوبین نے سائبر معاملات کے حل میں سرحد پار تعاون اور معلومات کے اشتراک جیسے موضوعات پر خیالات کا باہم تبادلہ کیا۔




**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:3099
(ریلیز آئی ڈی: 2203401)
وزیٹر کاؤنٹر : 46