نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
کیوڑیا میں اسٹیچو آف یونٹی پر سردار @ 150 پدیاترا کی تاریخی تکمیل کے موقع پر ملک متحد ہوا
قومی اتحاد پدیاترا میں 10 دنوں کے دوران ہندوستان کے 717 اضلاع سے 3.5 لاکھ نوجوانوں نے شرکت کی
بھارت ہمیشہ سردار پٹیل کا مقروض رہے گا، جن کی قیادت نے 560 سے زائد شاہی ریاستوں کو متحد کیا اور اکھنڈ بھارت کی بنیاد رکھی: نائب صدر جمہوریہ ہند سی پی رادھاکرشنن
سردار @150 پد یاترا آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کی تصوریت سے ترغیب یافتہ ہے
ملک کے کونے کونے سے نوجوان ہندوستان کے مردآہن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اکٹھا ہوئے ہیں: ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ
ملک 2047 تک وکست بھارت بننے کی جانب آگے بڑھ رہا ہے، اور اس سلسلے میں سردار پٹیل کا وِژن ہندوستان کی رہنمائی کر رہا ہے
گجرات کے گورنر نے باردولی کی بہادری اور قومی یکجہتی کو اجاگر کیا، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سردار پٹیل کے نظریات کو زندہ کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 DEC 2025 6:18PM by PIB Delhi
تاریخی سردار @ 150 اتحاد مارچ، جو 26 نومبر 2025 کو ہندوستان کے مرد آہن کو پرعزم خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے کرمساد سے شروع ہوا تھا، آج گجرات کے کیوڑیہ میں اسٹیچو آف یونٹی میں ایک شاندار تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، اور یہ حالیہ دنوں کی سب سے بڑی عوامی قیادت والی تحریکوں میں سے ایک میں تبدیل ہوگیا۔ نوجوانوں کے امور اور کھیل کود اور محنت و روزگار کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ اور نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی مرکزی وزیر محترمہ رکشا کھڈسے نے آج پدیاترا کے آخری مرحلے میں شرکت کی، اور شرکاء کے ساتھ گروڈیشور دت مندر سے اسٹیچو آف یونٹی تک پیدل یاترا کی، اور اس طرح تاریخی پد یاترا کے آخری دن اس یاترا کو زبردست ترغیب اور قوت فراہم کی۔

دن کی تقریبات کے حصے کے طور پر، پروگرام کا آغاز اسمرتی وَن میں ایک پیڑ ماں کے نام پہل قدمی سے ہوا، جو کہ ماحولیاتی ذمہ داری کے تئیں پدیاترا کی عہدبستگی کی علامت ہے۔ بعد ازاں، ایکتا نگر کی کیوڑیہ کالونی میں ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر چوک میں پریرنا استھل پر، جناب منسکھ منڈاویہ نے مہاپرینروان دیوس کے موقع پر ’پرتِما سمان‘ کرتے ہوئے آئین ساز ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔سردار@150 یونٹی مارچ حکومت ہند کی دو سالہ ملک گیر تقریبات کے اہم حصے کے طور پر اجاگر ہے جن کا اہتمام سردار ولبھ بھائی پٹیل کی پیدائش کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر کیا جا رہا ہے۔

اسٹیچو آف یونٹی پر سردار @ 150 یونٹی مارچ کی اختتامی تقریب میں ریاستی اور قومی سطح کے قائدین نے شرکت کی۔ نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے تقریب کی صدارت کی، ان کے ساتھ ساتھ اس تقریب میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب دیویندر فڈنویس؛ گجرات کے گورنر جناب آچاریہ دیوورت؛ نوجوانوں کے امور اور کھیل کود اور محنت و روزگار کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ؛ جناب بھوپندر بھائی پٹیل، گجرات کے وزیر اعلیٰ؛ ہاؤسنگ اور شہری امور کے مرکزی وزیر مملکت جناب توکھن ساہو؛ پنچایتی راج اور ماہی پروری، مویشی پروری اور دودھ کی صنعت کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ؛ نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ رکشا کھڈسے اور دیگر اہم قائدین اور سینئر افسران بھی موجود تھے، جس سے اس تقریب کی قومی اہمیت اجاگر ہوتی ہے اور ان کی موجودگی نے اس اختتامی تقریب کی کشش میں مزید اضافہ کیا۔

مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ سردار@150 پد یاترا وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت سے متاثر تھی جنہوں نے ملک بھر میں پروگراموں کی ایک سیریز کے ذریعے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی دو سالہ تقریبات کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کی پد یاترا میں لاکھوں شہریوں نے شرکت کی، جو ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے اور ’آتم نر بھر بھارت‘ اور ’وکست بھارت‘ کی تعمیر کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، جس میں یووا شکتی اس قومی امنگ کو پورا کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔

ڈاکٹر منڈاویہ نے روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’ملک کے ہر کونے سے نوجوانوں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراج عقیدت پیش کرنے اور بھارت کے مردِ آہن کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے سردار @ 150 کے موقع پر پدیاترا میں حصہ لیا۔‘‘
ڈاکٹر منڈاویہ نے کہا، ’’ یہ 182 کلومیٹر طویل پد یاترا مائی بھارت پلیٹ فارم پر درج رجسٹر نوجوانوں کی فعال شرکت کے ساتھ کامیابی کے ساتھ منعقد کی گئی ہے۔ گزشتہ 10 دنوں میں 717 اضلاع کے 3.5 لاکھ نوجوانوں نے قومی مارچ میں شمولیت اختیار کی اور سردار پٹیل کی زندگی اور نظریات سے تحریک حاصل کی۔‘‘ انہوں نے عمدہ انتظامات کے لیے وزیر اعلیٰ گجرات کو مبارکباد پیش کی اور تمام نوجوانوں کی پرجوش شرکت کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پد یاترا کا کامیاب اختتام قومی اتحاد کی ایک طاقتور مثال ہے۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، گجرات کے وزیر اعلیٰ، جناب بھوپیندر بھائی پٹیل نے کہا کہ تعمیر ملک میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کا بے مثال تعاون ہندوستان کی رہنمائی کر رہا ہے، اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے غیر متزلزل عزم کے ساتھ سردار جی کے راستے پر چل کر ان کے ورثے کا احترام کیا ہے۔ سردار پٹیل کے اس عقیدے کو یاد کرتے ہوئے کہ ملک کو ہمیشہ ترجیح دی جانی چاہئے، انہوں نے کہا کہ یہ پد یاترا اِسی جذبے کو مجسم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارچ نے لوگوں کو ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے لیے متحد کیا ہے، اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہی اجتماعی عزم ملک کو وکست بھارت @ 2047 کے وژن کی جانب لے جائے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، گجرات کے گورنر، جناب آچاریہ دیوورت نے کہا کہ سردار @ 150 یونٹی مارچ کا غیر معمولی اثر ہوا ہے، جس میں ہندوستان بھر سے لوگ اتحاد کے شاندار مظاہرہ کے لیے اکٹھا ہوئے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس دور میں جب چند لوگوں نے برطانوی راج کی مخالفت کرنے کی ہمت کی تھی، اس وقت باردولی میں سردار ولبھ بھائی پٹیل غیر منصفانہ ٹیکس کے خلاف بہادری سے کھڑے ہوئے، گاؤں گاؤں جا کر، گاندھی جی کی تعلیمات سے متاثر ہو کر، کاشتکاروں کے تحفظ کے لیے، ایک ایسی جدوجہد شروع کی جس کے نتیجے میں ٹیکس میں 6.5 فیصد تک تاریخی تخفیف کی گئی اور انہیں سردار کا باوقار خطاب حاصل ہوا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے نظریات کے ذریعے قومی یکجہتی کے سردار پٹیل کے وژن کو زندہ کیا ہے۔

ہندستان کے نائب صدر جناب سی پی رادھا کرشنن نے سردار @150 یونٹی مارچ کے اختتام کو "ہندوستان کے اتحاد، فرض اور قوم کی تعمیر کے پائیدار جذبے کا جشن" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے پدیاتریوں کی شرکت یہ ثابت کرتی ہے کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جانب سے جلائی گئی اتحاد کی آگ آج بھی زندہ ہے اور جلتی رہے گی۔ سردار پٹیل کو اکھنڈ بھارت کی تعمیر کے لیے 560 سے زیادہ شاہی ریاستوں کو یکجا کرنے والا معمار قرار دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ قوم ہمیشہ ان کی مقروض ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان ہمیشہ سردار پٹیل کا شکر گزار رہے گا، جن کی قیادت نے ایک بکھری ہوئی زمین کو متحد کیا اور ایک حقیقی متحد قوم کی بنیاد رکھی۔ نائب صدر جمہوریہ نے مزید کہا کہ سردار پٹیل کا مضبوط اور خود کفیل ہندوستان کا خواب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں تیزی سے پورا ہو رہا ہے، جن کی اصلاحات اور نوجوانوں پر مبنی اقدامات ملک کو وکست بھارت 2047 کی جانب لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد، نظم و ضبط اور قومی جذبے کے ساتھ ملک کی تعمیر میں روزانہ اپنا تعاون دیں۔ جناب رادھا کرشنن نے کہا کہ پد یاترا پراعتماد، نئے ہندوستان کے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اپنے تبصرے کے اختتام پر، انہوں نے تصدیق کی کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا اتحاد ہے، اور کہا کہ "ہندوستان ایک تھا، ایک ہے، اور ہمیشہ ایک رہے گا۔"

علامتی قومی پد یاترا کے طور پر شروع ہوئی یہ یاترا ایک وسیع، ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر گئی جو امرت پیڑھی کی یووا شکتی، شہریوں اور 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی برادریوں کے ذریعے چلائی گئی۔ ملک بھر میں، 1,527 ضلعی سطح کی پد یاتراؤں کا اہتمام کیا گیا، جس میں 450 سے زیادہ لوک سبھا حلقوں اور 640 سے زیادہ اضلاع کا احاطہ کیا گیا، جس میں ضلع اور اسمبلی حلقہ کی سطح پر 15 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اکٹھا کیا گیا۔ ان اضلاع سے، 717 اضلاع کی نمائندگی کرنے والے 3.5 لاکھ نوجوان قومی پد یاترا میں شامل ہوئے۔ گروڈیشور دت مندر سے اختتامی جلوس جیسے ہی دنیا کے سب سے اونچے مجسمے پر پہنچا، ماحول حب الوطنی کے جذبے اور اجتماعی فخر سے لبریز ہوگیا۔ اس موقع پر پیش کی گئیں ثقافتی کارکردگی میں بھارت کی وسیع گوناگونیت کی بازگشت سنائی دی۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سمیت متعدد مشہور قومی شخصیات کو خراج عقیدت پیش کیے گئے، اور ایک خصوصی شجرکاری مہم کا اہتمام کیا گیا جو بھارت کے پائیدار مستقبل کی علامت ہے۔ اس طرح یہ مارچ قومی بیداری کے ایک لمحے کے طور پر اختتام پذیر ہوا- جس میں ایک بھارت آتم نربھر بھارت کا جشن منایا گیا اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی لازوال وراثت کی ازسر نو تصدیق کی گئی جن کی اتحاد سے متعلق تصوریت ملک کو مسلسل رہنمائی فراہم کر رہی ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:2557
(ریلیز آئی ڈی: 2199891)
وزیٹر کاؤنٹر : 54