الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

علاقائی اوپن ڈیجیٹل ہیلتھ سمٹ 2025 کے دوسرے دن ممالک نے باہمی قابلِ ربط اور معیاری بنیادوں پر قائم صحت کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ مستقبل کا راستہ متعین کیا


کھلے معیارات اور ایف آئی ایچ آر پر مبنی قومی ڈیجیٹل صحت کے ڈھانچے کی ضرورت پر گہرا علاقائی اتفاق

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 NOV 2025 1:00PM by PIB Delhi

ریجنل اوپن ڈیجیٹل ہیلتھ سمٹ (آر او ڈی ایچ ایس) 2025 کے دوسرے دن نئی دہلی میں بہتر تکنیکی تبادلے اور ممالک کی جانب سے عملی مظاہرے دیکھنے میں آئے، جہاں جنوبی ایشیا کے خطے کے مختلف ممالک کے صحت کے قائدین نے کھلے معیارات اور اوپن سورس ٹیکنالوجیز پر مبنی باہمی قابلِ ربط اور توسیع پذیر ڈیجیٹل صحت کے ڈھانچے کی تعمیر میں قومی پیش رفت پیش کی۔

دوسرے دن کا محور وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا تھا اور نشستوں میں قومی ڈیجیٹل صحت کے ڈھانچے، فاسٹ ہیلتھ کیئر اِنٹرآپریبلٹی ریسورسز (ایف ایچ آئی آر) پر مبنی انٹرآپریبلٹی، اوپن سورس صحت کے حل، بیماری کی نگرانی کے نظام اور الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز جیسے موضوعات کا جائزہ لیا گیا۔ بنگلہ دیش، بھوٹان، ہندوستان، مالدیپ، نیپال، سری لنکا، تھائی لینڈ اور تیمور لیست کے شرکاء نے عوامی ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچےکے قیام میں حقیقی تجربات، چیلنجز اور اختراعات کا اشتراک کیا۔

دن کے پہلے سیشن کا ایک اہم نتیجہ کے طور پر صحت کےاعدادوشمار کے تبادلے کے لیے فاسٹ ہیلتھ کیئر انٹرآپریبلٹی ریسورسز (ایف ایچ آئی آر) کو بنیادی معیار کے طور پر اپنانے پر علاقائی اتفاق رائے قائم ہوا۔ نمائندگان نے پرانے نظاموں کو جدید بنانے اور آئی ٹی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ایڈیپٹرز اور متعدد بار ہونے والے ٹیسٹ کے طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے فاسٹ ہیلتھ کیئر انٹرآپریبلٹی ریسورسز میں تدریجی تبدیلی کی تجویز پیش کی۔ مقررین نے وینڈر کے زیرِ اثر انتشار کو روکنے اور پیمائش کی صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ کے ڈھانچوں میں مضبوط حکمرانی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ضروری قومی خدمات جیسے اصطلاحات، مریضوں کی رجسٹری، رضامندی کا انتظام، صحت کی معلومات کا تبادلہ اور معیاری فارمیٹس زیادہ تر ممالک میں اب بھی ترقی کے مراحل میں ہیں۔

پورے دن کے سیشنز کے دوران ممالک کی پریزنٹیشنز نے ڈیجیٹل ہیلتھ ٹرانسفارمیشن کے مختلف طریقوں کو اجاگر کیا۔ ہندوستان نے ایچ ایم آئی ایس، کیئر ایکسپرٹ اور کیئر3.0کی کامیابی کا ذکر کیا جو قابل ترتیب صنعت کے نظام کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ سری لنکا نےایچ ایل7 ایف ایچ آئی آر، ایس این او ایم ای ڈی، سی ٹی، آئی سی ڈی-11 اور ڈی آئی سی او ایم پیمانے پر مبنی نگرانی کے نظام اور الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کو اپنانے میں نمایاں پیش رفت کی رپورٹ پیش کی۔ بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور مالدیپ نے دکھایا کہ کس طرح کھلے، ماڈیولر ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے، جس میں ڈیجیٹل شناختی کارڈز، کلاؤڈ سروسز اور مشترکہ رجسٹریز کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہے۔ تھائی لینڈ نے بیماری کی نگرانی کو اپنانے اور عمودی صحت کے پروگراموں کو ڈیجیٹل نظام کے ساتھ ضم کرنے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے اپنے تجربات پر تبادلہ خیال کیا۔ اسی دوران، تیمور-لیست نے ایک قومی ڈیجیٹل ہیلتھ آرکیٹیکچر تیار کرنے کی اپنی حکمت عملی اشتراک کیا، جو کھلےمعیارات اور خطے کی بہترین مشقوں کے مطابق ہو۔

اوپن سورس ڈیجیٹل ہیلتھ حل کے نفاذ کے پروگرام کے تناظر پر مقررین نے مختلف پائلٹ پروجیکٹس سے ایک مربوط، پروگرام پر مبنی ڈیجیٹل ہیلتھ ایکو سسٹم کی طرف ایک مثالی تبدیلی پر زور دیا۔ ماہرین نے دکھایا کہ کس طرح جدید فرنٹ لائن ٹیکنالوجیز، ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم، ڈیجیٹل طور پر فعال اموات کے اسباب کے ورک فلو، تشخیص اور دوا کی تقسیم کے لیے ڈرون نیٹ ورک اور قابل ترتیب نگرانی کے پلیٹ فارم کو ایک واحد ذہین عوامی صحت کے نظام میں ضم کیا جا سکتا ہے۔

’ڈیجیٹل نگرانی کو فروغ دینا‘ کے موضوع پر ہونے والے سیشن میں اعداد وشمار کے ٹکڑوں میں بٹ جانے، غیر متناسق معاملوں کی تعریفوں اور مختلف ممالک میں محدود انٹرآپریبلٹی جیسے مستقل چیلنجز پر روشنی ڈالی گئی۔ عالمی ادارہ صحت کےایس ایم اے آر ٹی گائیڈ لائنز، ڈیجٹل ایڈپشن کٹس(ڈی اے کے) اورایچ ایل 7، ایف ایچ آئی آر اسٹینڈرڈز کو اپنانا ایک مربوط، ذمہ دار اور مستقبل کے لیے محفوظ نگرانی کے ایکو سسٹم کی تعمیر کے لیے بنیادی تسلیم کیاگیا۔

’الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز‘ پر ، پینلسٹوں نے تجویز پیش کی کہ ای ایچ آر کو اپنانا اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب حل ماڈیولر ، اسکیل ایبل اور موافقت پذیر ہوتے ہیں-چاہے وہ مقامی طور پر بنائے گئے پلیٹ فارمز ، اوپن سورس ماحولیاتی نظام ، یا ترتیب دینے کے قابل انٹرپرائز سسٹم کے طور پر تیار کیے گئے ہوں۔

دن کے آخری دو سیشنز میں ذیلی قومی اور قومی سطح پر حکمرانی اور قانونی ماحولیاتی نظام پر بات کی گئی۔ ذیلی قومی سطح پر سیشن میں حکمرانی، قانونی نظام اور پائیدار ڈیجیٹل ہیلتھ ٹرانسفارمیشن کے لیے اخلاقی فریم ورک جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ پینلسٹ نے ترغیبات، عوامی-نجی شراکت داری، کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی(سی ایس آر) فنڈنگ اور کمیونٹی کی شرکت جیسی حکمت عملیوں کی تجویز دی۔ سیشن میں یہ امید ظاہر کی گئی کہ صحت کےڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو بدلنے اور زندگیوں میں نمایاں بہتری لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ڈیجیٹل ادائیگیوں نے مالی شمولیت کو فروغ دیا ہے۔

قومی سطح پرسیشن نے واضح پیغام دیا کہ صرف ٹیکنالوجی عالمی صحت کے کوریج فراہم نہیں کر سکتی۔ اعتماد،حکمرانی اور قانون سازی کو آگے فروغ دینا ہوگا۔ہندوستان، سری لنکا اور تھائی لینڈ کے ماہرین نے بتایا کہ اعدادوشمار کے تحفظ مضبوط قوانین، شہریو ں پر مرکوز فریم ورک اور ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈز کی قانونی پہچان اعتماد قائم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ سیشن میں  ایچ ایل 7 ایف ایچ آئی آر جیسے اوپن اسٹینڈرڈز کے ساتھ پلیٹ فارم پر مبنی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی جانب منتقلی پر زور دیا گیا، تاکہ بغیر وینڈر لاک ان کے انٹرآپریبلٹی اور جدت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومتوں کو صحت کے لیے اے آئی اور سافٹ ویئر بطور میڈیکل ڈیوائس جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو ریگولیٹ کرنا چاہیے، جبکہ سائبرسیکورٹی اور ڈیجیٹل خواندگی کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ پینل نے نتیجہ اخذ کیا کہ پائیدار ڈیجیٹل ہیلتھ صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں، بلکہ حکمرانی کے ذمہ دار اور مضبوط نظام کا معاملہ ہے، جس میں  شہریوں کو اولین ترجیح حاصل ہو۔

*****

( ش ح ۔م  ع ن۔ ش ب ن)

U. No. 1591


(ریلیز آئی ڈی: 2192550) وزیٹر کاؤنٹر : 29
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali , Tamil