سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حیاتیاتی (بایومیڈیکل) اور پہننے کے قابل سینسرز کے لیے لچکدار پائیزو الیکٹرک نینو کمپوزٹس تیار کر لیے گئے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 NOV 2025 12:05PM by PIB Delhi

ایک اختراعی پیش رفت کے طور پر، محققین نے پائیزو الیکٹرک ڈیوائس تیار کیا ہے  ، جس میں پھول نما ٹنگسٹن ٹرائی آکسائیڈ ( ڈبلیو او تین ) نینو ذرات کو پولی وینائلائیڈین فلورائیڈ ( پی وی ڈی ایف  )  پولیمر میٹرکس میں شامل کرتے ہوئے ایک جدید پولیمر نینو کمپوزٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ کامیابی لچکدار، پہننے کے قابل، انتہائی مؤثر، توانائی پیدا کرنے اور دباؤ محسوس کرنے والے آلات کی ترقی کی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔

میکانیکی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کرنے کا تصور ہمیشہ سے تحقیق سے متعلق عالمی برادری کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے کیونکہ یہ روزمرہ کی حرکات کو قابلِ استعمال توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ، سینٹر فار نینو اینڈ سافٹ میٹر سائنسز ( سی ای این ایس ) ، بنگلورو  ،  جو سائنس و ٹیکنالوجی  کے محکمے ( ڈی ایس ٹی  ) کے تحت ایک  خود مختار ادارہ ہے  ،  اس کے سائنس دانوں نے پولیمر اور نینو مواد کے درمیان تعاملات کو سمجھنے کے لیے ایک منظم تجرباتی مطالعہ انجام دیا۔

محققین نے مختلف ساختوں، کرسٹل پیٹرنز اور سطحی چارج کے ساتھ اسی نینو فلر کے اثرات کا جائزہ لیا۔ چار مختلف ساختوں میں سے، پھول نما نینو ساخت  ، جس کی خصوصیت تین غیر مساوی محوروں، تین غیر مساوی زاویوں اور سب سے زیادہ سطحی چارج (زیٹا پوٹینشل: ایم  58.4 ایم وی ) سے تھی  ، اس نے پی وی ڈی ایف میٹرکس کے ساتھ سب سے مضبوط تعامل ظاہر کیا، جس کے نتیجے میں سب سے زیادہ پائیزو الیکٹرک کارکردگی سامنے آئی۔ توانائی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار  کو یقینی بنانے کے لیے، پی وی ڈی ایف میٹرکس میں نینو فلر کی مثالی مقدار کے تعین کے لیے مزید جانچ اور خود کار توانائی پیدا کرنے والے آلات کی تیاری کی گئی۔

یہ تحقیق پائیزو الیکٹرک پولیمر اور نینو ذرات کے امتزاج کے ذریعے مکینیکل توانائی کو زیادہ مؤثر برقی توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور اس سے یہ شناخت ممکن ہوتی ہے کہ کون سے نینو ذرات پائیزو الیکٹرک خصوصیات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ مطالعہ، جو اے سی ایس   ایپلائیڈ الیکٹرانک  مٹیریلس میں شائع ہوا ہے، جو اس بات کا بھی مظاہرہ کرتا ہے کہ تیار کردہ پروٹوٹائپ حقیقی وقت کے بایومیڈیکل استعمال  ،  خاص طور پر مریضوں کی نگرانی   کے لیے  اسے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

image001X3QM.png

تصویر میں تحقیق کے نتائج کی گرافیکل  شکل دکھائی گئی ہے

اس نینو انجینیئرڈ نظام کی انتہائی حساسیت اور اعلیٰ توانائی  والی کارکردگی اسے بایومیڈیکل استعمال کے لیے نہایت موزوں بناتی ہے۔ خاص طور پر، اسے ایسے پہننے کے قابل ہیلتھ مانیٹرنگ سسٹمز میں شامل کیا جا سکتا ہے جو دل کی دھڑکن، نبض، سانس لینے ، چلنے پھرنے اور جسم کی چھوٹی بڑی حرکات سے بایومکینکل توانائی حاصل کر کے اسے برقی سگنلز میں تبدیل کرتے ہیں۔ انہی سگنلز کی بنیاد پر مختلف جسمانی اور طبیعاتی  معیارات کو بیرونی  توانائی کے وسیلے کے بغیر حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔

جناب انکور ورما، محترمہ  پرِتھا دتّا، مسٹر نلے اوستھی، ڈاکٹر آشوتوش کمار سنگھ اور ڈاکٹر سی کے سُباش پر مشتمل تحقیقی ٹیم کا یہ کام ذہین، کمپیکٹ اور پائیدار حفظانِ صحت ٹیکنالوجیز کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ تحقیق توانائی کے حصول اور اسمارٹ ٹیکسٹائلز جیسے شعبوں میں وسیع تر استعمال کی راہیں ہموار کرتی ہے۔ سی ای این ایس کی ٹیم کا ماننا ہے کہ ایسے جدید نینو کمپوزٹ پر مبنی آلات اگلی نسل کی بایومیڈیکل ویریبل ٹیکنالوجیز کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے میں اہم رول ادا کریں گے۔

اشاعت کی تفصیلات : ڈی او آئی :  https://doi.org/10.1021/acsaelm.5c00962

 

******

U.No. 1594

(ش ح۔ ش ب ۔ ع ا)


(ریلیز آئی ڈی: 2192477) وزیٹر کاؤنٹر : 29
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil