وزارات ثقافت
روس کے کالمیکیا میں بھگوان بدھ کے مقدس باقیات کی نمائش کے دوران ’’بودھیچت پر ناگارجن اور استھرمتی: کچھ جھلکیاں‘‘ کے موضوع پر پروفیسر ادراسوپلی نٹراجوکا خصوصی لیکچر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 OCT 2025 11:00AM by PIB Delhi
بھارت سے روسی فیڈریشن کے جمہوریۂ کالمیکیا میں بھگوان بدھ کے مقدس باقیات کی جاری نمائش کے حصے کے طور پر، بدھ مت کے فکر، فلسفہ، فن اور تاریخ کی تفہیم کو فروغ دینے کے لیے سلسلہ وار علمی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے گئے۔ اسی سلسلے میں، پروفیسرادراسوپلی نٹراجو، چیئرمین، مرکز برائے فلسفہ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، نئی دہلی نے “بودھیچت کی نوعیت پر ناگارجن اور استھرمتی: کچھ جھلکیاں” کے عنوان سے ایک خصوصی لیکچر پیش کیا۔
اس تقریب میں بدھ مت کے فلسفے اور بھارتی روحانی روایات میں دلچسپی رکھنے والے اسکالروں، طلبہ، راہبوں اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ یہ سیشن نئی دہلی کے نیشنل میوزیم کی جانب سے وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند کے زیرِ اہتمام اور ایلیستا کے نیشنل میوزیم آف کلمیک ریپبلک کے اشتراک سے منعقدہ مقدس باقیات کی نمائش کے ساتھ منسلک علمی مکالموں کے سلسلے کا حصہ تھا۔
اپنی عالمانہ گفتگو میں، پروفیسر نٹراجو نے بودھی چتّ — یعنی بیدار یا روشن شعور — کے بودھ تصور کا جائزہ لیا اور اس کے دھرمکایہ سے گہرے فلسفیانہ تعلق کو واضح کیا، جو طہارت، شفقت اور مطلق حقیقت کے آفاقی اصول کی نمائندگی کرتا ہے۔
کلاسیکی بدھ مت اور مہایان مآخذوں سے استفادہ کرتے ہوئے، پروفیسر نٹراجو نے اس بات پر اظہار خیال کیا کہ بودھی چتّ کو شعور کا ایک ماورائی یا مافوق الفطرت پہلو سمجھا جاتا ہے — جو تمام تجرباتی قیود سے آزاد اور انسانی عقل و فہم کی حدود سے ماورا ہے۔ بودھ فلسفی ناگارجن اور استھر مَتی کے گہرے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بودھی چتّ نہ تو پانچ اسکندھوں (عناصر وجود)، بارہ آیاتنوں (حواس کے مراکز) اور نہ ہی اٹھارہ دھاتوؤں (عناصرِ کائنات) میں شامل ہے، بلکہ یہ انسانی دل میں موجود آفاقی شعور کا انعکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ بودھی چتّ — جسے اکثر “روشن ضمیر” کہا جاتا ہے — بودھی ستو کے راستے کی بنیاد ہے، جو حکمت (پرجنا)اور شفقت (کرونا) کا امتزاج ہے۔ بودھی چتّ کے ادراک ہی کے ذریعے انسان انُتّرا سَمیک سمبودھی یعنی اعلیٰ ترین بیداری کی جانب پیش قدمی کرتا ہے۔
پروفیسر نٹراجو نے پرتیتیہ سمُتپاد (باہمی انحصار سے ظہور) کی تفہیم اور اس کے دوسرے اور تیسرے نوبل ٹرتھ— یعنی دکھ کے سبب اور اس کے خاتمے — کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، ’’باہمی انحصار‘‘ کا اصول ظاہر کرتا ہے کہ تمام مظاہر ایک دوسرے پر منحصر ہو کر پیدا ہوتے ہیں، جو وجود کی متحرک اور باہم جڑی ہوئی فطرت کو واضح کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’بدھ مت کے مفہوم میں امن کوئی جامد حالت نہیں بلکہ ایک متحرک عمل ہے، جو باہمی ربط کی مسلسل تفہیم سے پیدا ہوتا ہے۔ جب انسان یہ ادراک حاصل کرتا ہے کہ کچھ بھی تنہا وجود نہیں رکھتا اور زندگی کے تمام عناصرایک دوسرے پر منحصر ہیں، تو فطری طور پر مہاکرونا چتّ— یعنی عظیم شفقت پر مبنی شعور — جنم لیتا ہے، جو پُرامن بقائے باہمی کی اخلاقی بنیاد بنتا ہے۔”
کلاسیکی اور جدید تشریحات کا حوالہ دیتے ہوئے، پروفیسر نٹراجو نے تھیریسا ڈر-ایان یِہ کے خلاصے کو نقل کیا کہ “کچھ بھی اپنی ذات میں خود موجود نہیں ہو سکتا، ہر چیز کسی نہ کسی دوسری چیز پر منحصر ہے… وجود کے کسی ایک حصے میں تبدیلی پوری کائنات کو متاثر کرتی ہے۔” انہوں نے اس تصور کا موازنہ اوتَمسک سوترا میں مذکور اندرا کے جال کے اشارے سے کیا، جو تمام موجودات کے لامحدود باہمی تعلق کی علامت ہے۔
اپنے لیکچر کے اہم حصے میں، پروفیسر نٹراجو نے ناگارجن اور استھر مَتی کی بودھی چتّ کی فطرت سے متعلق تشریحات کا تجزیہ پیش کیا۔ ناگارجن کی تصنیف “بودھی چتّ کی ماورائیت پرمباحثہ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ بودھی چتّ “تمام خواہشات سے آزاد، غیر مخلوق، غیر-آتمانک، اور آفاقی” ہے۔ ناگارجن کے نزدیک، بودھی چتّ کے حقیقی مفہوم کا ادراک دل کو محبت اور مہربانی سے بھر دیتا ہے، کیونکہ کرونا—یعنی شفقت — اس کی اصل ہے۔
بعد ازاں انہوں نے استھر مَتی کے نظریے کو بیان کیا، جو ان کی تصنیف “مہایان دھرم دھاتو کی غیر دوئی پر مباحثہ‘‘میں پیش کیا گیا ہے۔ استھر مَتی کے مطابق، بودھی چتّ، دھرمکایہ، تتھاگت گربھ اور بھوتتتھتا سب ایک ہی مطلق حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں۔ پروفیسر نٹراجو نے وضاحت کی کہ بودھی چتّ دراصل انسانی دل میں دھرمکایہ کی تجلی ہے اور اسی کے پاکیزہ ہونے سے نروانکا ادراک ممکن ہوتا ہے۔
ڈی۔ ٹی۔ سوزوکی کی تصنیف “آؤٹ لائنز آف مہایانہ بدھزم(1908) میں پیش کردہ تشریح کا حوالہ دیتے ہوئے، پروفیسر نٹراجو نے کہا کہ استھرمَتی بودھی چتّ کو “بدھوں کی روحانی اصل، تمام ارضی اور ماورائی فضائل کا سرچشمہ” قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ کبھی کبھار لاعلمی یا خواہشات کی دھند میں یہ شعور دھندلا جاتا ہے، لیکن بودھی چتّ اپنی فطرت میں ہمیشہ پاکیزہ رہتا ہے — اس کی اصل دھرمکایہ کی حقیقت سے غیر متمایز ہے۔
پروفیسر نٹراجو نے بدھ مت اور ویدانتی فلسفوں کے مابین فکری و مابعدالطبیعی مماثلتوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ نظریاتی اختلافات کے باوجود دونوں میں کائناتی وجود کے بارے میں عمیق سوالات مشترک ہیں۔ انہوں نے بدھ مت کے دھرمکایہ کے تصور کا موازنہ اوپنشدی تصور رتا سے کیا — جو کائنات کے نظام کی نمائندگی کرتا ہے اور انسانی زندگی میں جس کا عکس دھرم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے ویدانتی نظریۂ انتہکرن یعنی “باطنی آلۂ ادراک” کی طرف اشارہ کیا، جو اپنے فعل کے لیے شعور پر انحصار کرتا ہے اور تجویز پیش کی کہ بودھی چتّ دراصل آفاقی شعور کے اصول کا ایک اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ بودھ مفکرین اکثر مابعدالطبیعی قیاس آرائی سے گریز کرتے ہیں، مگر بودھی چتّ اور دھرمکایہ پر ان کی عکاسی ناگزیر طور پر بدھ فلسفے میں ماورائی جہتوں کو دوبارہ متعارف کرواتی ہے۔ انہوں نے کہا“مابعدالطبیعی تحقیق سے مکمل اجتناب ممکن نہیں، کیونکہ ماورائی پہلو پر خاموشی — جیسا کہ خود بدھ نے اپنائی — بھی دراصل ایک گہری فلسفیانہ گفتگو کی صورت تھی۔”
پروفیسر نٹراجو نے بودھی چتّ کی اخلاقی اور عملی اہمیت پر بھی گفتگو کی، جس کے ذریعے فرد اور معاشرے دونوں میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بدھ مت کےمتون سے اخذ کردہ دس مراقبہ جاتی مراحل بیان کیے، جو روزمرہ زندگی میں بودھی چتّ کے ادراک میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ، جن کا آغاز انسانی دکھ اور تکلیف پر غور و فکر سے ہوتا ہے اور اختتام بودھی چتّ کے انات مَن یعنی غیر ذاتی اور آفاقی شعور کے طور پر ادراک پر ہوتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن محض تشدد کی عدم موجودگی کا نام نہیں، بلکہ یہ باہمی وابستگی کے زندہ اور متحرک ادراک کا اظہار ہے۔ ان کے انہوں نے کہا،“ہِنسَا (تشدد) کا خاتمہ دباؤ یا جبر سے نہیں، بلکہ پرتیتیہ سَمُتپاد کی گہری سمجھ سے پیدا ہوتا ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہماری زندگیاں نہایت باریک اور گہرے رشتوں میں بندھی ہوئی ہیں۔ جب انسانی دل فہم سے پیدا ہونے والی شفقت سے لبریز ہو جاتا ہے، تو امن خود بخود جنم لیتا ہے۔”
پروفیسر نٹراجو نے اپنے لیکچر کا اختتام اس پر کیا کہ بودھی چتّ کے ادراک سے انُتّرا سَمیاک سمبودھی چتّ یعنی اعلیٰ ترین بصیرت اور وجدان کا ظہور ہوتا ہے، جو دھرمکایہ کی فطرت کا عکس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھگوان بدھ کا مابعدالطبیعی سوالات پر سکوت دراصل ماورائیت کا انکار نہیں تھا، بلکہ یہ مہا کرونا چتّ یعنی لامحدود شفقت کا اظہار تھا۔
یہ لیکچر کلمیکیا میں بھگوان بدھ کے مقدس باقیات کی نمائش کے دوران منعقد ہونے والے متعدد علمی پروگراموں میں سے ایک تھا، جس کا مقصد بھارت کے عظیم بودھ ورثے اور اس کی عالمی فلسفیانہ فکر پر دیرپا اثرات کو اجاگر کرنا تھا۔ اس پروگرام نے بھارت اور روس کے درمیان تہذیبی رشتوں اور بین ثقافتی ہم آہنگی و امن کے فروغ میں بودھ فلسفے کی گونج کو نمایاں کیا۔
****
ش ح۔ک ح۔ ع ن
U. No. 106
(ریلیز آئی ڈی: 2181165)
وزیٹر کاؤنٹر : 27