ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ نے ابو ظہبی میں منعقدہ ‘‘آئی یو سی این ورلڈ کنزرویشن کانگریس’’ کے دوران اعلی سطحی گول میز مذاکرات میں بھارت کا مؤقف پیش کیا


سائنس اور روایتی علم ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کر رہے ہیں۔ بھارت کا ماحولیاتی تحفظ کا ماڈل ایک شواہد پر مبنی، انصاف پر مبنی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم پالیسی فریم ورک کی وکالت کرتا ہے: ایم او ایس (ای ایف سی سی) جناب سنگھ

प्रविष्टि तिथि: 10 OCT 2025 2:08PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مملکت برائے ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی، جناب کیرتی وردھن سنگھ نے آج ابو ظہبی میں آئی یو سی این ورلڈ کنزرویشن کانگریس کے دوران آئی یو سی این کی صدر عزت مآب رزان خلیفہ المبارک کے ساتھ اعلی سطحی گول میز مذاکرات میں بھارت کی نمائندگی کی۔پروگرام کے موضوع ‘‘ماحولیاتی اور انسانی فلاح کے لیے قدرت کا وعدہ: بیلم اور اس کے بعد کنزرویشن کمیونٹی کی اپیل اور عزم’’ پر غور و خوض کرتے ہوئے وزیر مملکت نے سائنس کے علم اور روایتی حکمت کو بہتر طریقے سے یکجا کرنے کے ذریعے ماحولیاتی بحران کے حل پر گفتگو کی۔

اپنے کلمات کا آغاز کرتے ہوئے جناب کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ قدرتی وسائل کا تحفظ اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں زندگی گزارنا بھارتی ثقافت اور روایات میں گہرائی سے رچا بسا ہے۔ ان روایات کے مرکز میں مقامی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت اور قدرتی دنیا کے ساتھ گہرا ثقافتی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘جبکہ جدید سائنس اصطلاحات جیسے پائیداری اور ماحولیاتی تبدیلی استعمال کرتی ہے، بھارت طویل عرصے سے ان اصولوں کو عملی طور پر، قدرت کے مطابق زندگی گزار کر اپناتا آیا ہے۔’’

وزیر مملکت نے اجلاس کو بتایا کہ بھارت نے اس آبا و اجداد کی حکمت کو سائنسی طریقوں کے ساتھ یکجا کر کے ایک مضبوط اور تاب آور مستقبل کی بنیاد رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے شروع کیا گیا ‘مشن لائف’  ایک عوامی قیادت میں عالمی تحریک ہے جو لازوال حکمت کو عمل میں تبدیل کر رہی ہے تاکہ ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ جیسے فوری چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ وزیراعظم کا لائف وژن ماحول دوست رویوں کی ترغیب دیتا ہے جو بھارت کی روایتی اقدار اور علم کی بنیاد پر ہے۔ جناب کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ بھارتی ماڈل برائےماحولیاتی تحفظ ایک ایسی پالیسی فریم ورک کی وکالت کرتا ہے جو شواہد پر مبنی، انصاف پر مبنی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہے۔

وزیر مملکت نے اس تصور کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی اقدار یہ یقین رکھتی ہیں کہ سائنس اور روایتی علم ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ لہٰذا، اس میدان میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں جہاں سائنس ،ثقافت سے ملتی ہے اور روایت، جدت سے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ بھارت مقامی روایتی طریقوں کو دستاویزی شکل دینے، تصدیق کرنے اور انہیں ماحولیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے رسمی نظاموں میں ضم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر مملکت نے روایتی مہارتوں کی مثالیں دیں جیسے نلگیریس کے تودا قبیلے چیونٹیوں کے بامبی بنانے کے رویے کو دیکھ کر مانسون کی پیش گوئی کرتے ہیں، یا انڈمان کے جاراوا قبیلے مچھلیوں کے کم گہرے پانیوں کی طرف حرکت سے سائیکلون کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ انہوں نے راجستھان میں پانی کے پائیدار تحفظ کے طریقے بھی بیان کیے، جیسے سیڑھی دار کنویں اور ‘راجستھان کے سلور ڈراپس’۔

جناب کیرتی وردھن سنگھ نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں بھارت کے وژن کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں سائنس،  روایت کو تقویت دیتی ہے اور روایت ، سائنس کے ساتھ ضم ہو جاتی ہے۔ جیسے جیسے آئی یو سی این قدرتی بنیادوں پر حل کو فروغ دیتا رہے گا، آگے کا اہم کام اس گفتگو کو مزید گہرا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘جدید سائنس اور روایتی علم کے دھاگوں کو یکجا کر کے ہم نظریاتی تصورات سے عملی اقدامات کی طرف قدم بڑھا سکیں گے۔’’

*********

ش ح۔ش ت ۔م الف

U. No-7380


(रिलीज़ आईडी: 2177342) आगंतुक पटल : 34
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Malayalam