صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بڑی متعدی بیماریوں کو ختم کرنے اور ان پر قابو پانے میں بھارت کی کامیابیاں


2015 اور 2023 کے درمیان ٹی بی کے واقعات میں 17.7 فیصد کمی (237 سے 195 فی لاکھ) اور اموات میں 21.4 فیصد کمی (28 سے 22 فی لاکھ) درج کی گئی

 ملیریا کے معاملات میں 78.1 فیصد کمی اور 2015 سے 2024 کے درمیان اموات میں 77.6 فیصد کمی درج کی گئی؛  سالانہ پیراسائٹ انسیڈنٹ (اے پی آئی) 0.92 سے گھٹ کر 0.18 رہ گئے

کالا آزر کے خاتمے کے لیے فی ہزار میں ایک سے کم کا ہدف ہے جو 2030 ایس ڈی جی ہدف سے پہلے ہی 54 اضلاع کے 633 بلاکس میں میں حاصل کیا جاچکا ہے

سال 2008 سے ڈینگی سے ہونے والی اموات کی شرح (فی 100 کیسز میں اموات) ایک فیصد سے بھی کم ہے (2024 میں 0.13 فیصد)

ماس ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایم ڈی اے) لمفیٹک فلائیریاسس کے لیے کوریج 2014 میں 75 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 85 فیصد ہو گئی ہے
2010 اور 2024 کے درمیان ماں سے بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی میں 84 فیصد کمی اور منتقلی کی شرح میں 74.5 فیصد کمی رپورٹ کی گئی، جو عالمی سطح پر 56.5 فیصد کی کمی سے کہیں زیادہ ہے

Posted On: 22 JUL 2025 4:06PM by PIB Delhi

 بھارت سرکار نے مندرجہ ذیل اہم سنگ میل کے ساتھ بڑی متعدی بیماریوں کو ختم کرنے اور ان پر قابو پانے میں کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں:

  • عالمی ادارہ صحت کی گلوبل ٹی بی رپورٹ 2024کے مطابق بھارت میں تپ دق (ٹی بی) کے واقعات کی شرح 2015 میں 237 فی لاکھ آبادی سے 17.7 فیصد کم ہو کر 2023 میں فی لاکھ آبادی پر 195 رہ گئی ہے، جو عالمی سطح پر ہونے والی کمی سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے، جبکہ ٹی بی کی وجہ سے ہونے والی اموات 2015 میں 28 فی لاکھ آبادی سے 21.4 فیصد کم ہو کر 2023 میں 22 ہو گئی ہیں۔
  • ملک میں 2015 اور 2024 کے درمیان ملیریا کی بیماری میں 78.1 فیصد اور ملیریا سے ہونے والی اموات میں 77.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سالانہ پیراسائٹ انسیڈنٹ (اے پی آئی) 2015 میں 0.92 کے مقابلے میں 2024 میں کم ہوکر 0.18 رہ گیا ہے۔
  • 2023 میں متاثرہ ریاستوں کے 54 اضلاع کے 633 بلاکس میں ہر 10،000 آبادی پر ایک سے بھی کم کیس کے کالا آزار کے خاتمے کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے، جو 2030 کے عالمی پائیدار ترقیاتی ہدف (ایس ڈی جی) کے ہدف سے بہت آگے ہے اور یہ حیثیت آج تک برقرار ہے۔
  • جاپانی دماغی بخار کی شرح اموات (سی ایف آر) 2014 میں 17.6 فیصد سے کم ہوکر 2024 میں 7.1 فیصد ہوگئی ہے۔
  • سال 2008 کے بعد سے ڈینگی سے ہونے والی اموات کی شرح (فی 100 کیسز میں اموات) ایک فیصد سے بھی کم ہے (2024 میں 0.13 فیصد)۔
  • 348 لمفیٹک فیلیریا سے متاثرہ اضلاع میں سے 143 (41 فیصد) نے ماس ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایم ڈی اے) کو روک دیا ہے اور ٹرانسمیشن اسسمنٹ سروے (ٹی اے ایس 1) کو منظوری دے دی ہے، جو 2014 میں 15 فیصد تھی۔ ماس ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایم ڈی اے) کی کوریج 2014 میں 75 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں مجموعی آبادی کے مقابلے میں 85 فیصد ہوگئی ہے۔
  • انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام (آئی ڈی ایس پی) کے تحت انٹیگریٹڈ ہیلتھ انفارمیشن پلیٹ فارم (آئی ایچ آئی پی) کے ذریعے پیپر لیس، کیس بیسڈ رپورٹنگ کے ذریعے 50 سے زائد کورونا وبا کے دور کی نگرانی کی جاتی ہے۔ آئی ایچ آئی پی گرمی کے نقشے کے ساتھ بصری جغرافیائی تجزیے کے لیے وبا میں رپورٹ ہونے والے انفرادی کیسز کی جیو ٹیگنگ فراہم کرتا ہے۔ اس سے ابتدائی تشخیص اور فوری ردعمل کے لیے ریاستوں کی صحت کی تیاری میں مدد ملتی ہے۔
  • 2010 اور 2024 کے درمیان ایچ آئی وی کی عمودی (ماں سے بچے) منتقلی کی تعداد میں تقریبا 84 فیصد کمی آئی ہے جبکہ عمودی منتقلی کی شرح میں تقریبا 74.5 فیصد کمی آئی ہے جبکہ اسی حوالہ کی مدت میں عالمی سطح پر یہ شرح تقریبا 56.5 فیصد تھی۔

یہ معلومات صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

***

(ش ح – ع ا)

U. No. 3069


(Release ID: 2147022)
Read this release in: English , Hindi , Marathi , Tamil