بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
بھارت سمندری طاقت والے سرفہرست ملک کے طور پر
Posted On:
04 APR 2025 4:56PM by PIB Delhi
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے لوک سبھا میں سوال نمبر 5735کے ایک تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت کے اسٹریٹجک اقدامات کا مقصد 2047 تک ملک کی بندرگاہ کی صلاحیت کو تقریباً 2,600 ملین ٹن سالانہ (ایم ٹی پی اے) سے 10,000 ایم ٹی پی اے تک بڑھا کر ملک کو ایک سرکردہ بحری طاقت کے طور پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت اہم مسودوں کے ساتھ نئی بندرگاہوں کو تعمیر و ترقی ، موجودہ بندرگاہوں کی نقل و حمل کے مسودے میں اضافہ کرنا اور موجودہ بندرگاہوں کی تعداد کو بڑھانا ، نیز خودکار بندرگاہوں کی ترقی، نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ، اور پالیسی سپورٹ میں اضافہ کرنا ہے ۔
مرکزی حکومت نے ہندوستان کی بحری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے کئی قانون سازی کی اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن میں میجر پورٹ اتھارٹیز ایکٹ 2021، میرین ایڈز ٹو نیویگیشن ایکٹ 2021، ان لینڈ ویسلز ایکٹ 2021، کیبوٹیج کے ضابطوں میں نرمی 2018، جہازوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے سے متعلق ایکٹ 2021 ،قومی آبی گزرگاہوں سے متعلق ایکٹ 2016، پورٹ پر منحصر صنعتوں کو واٹر فرنٹ اور اس سے منسلک زمین الاٹ کئے جانے سے متعلق پالیسی (کیپٹیو پالیسی) 2016، اور بڑی بندرگاہوں پر دباؤ والے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پروجیکٹس سے نمٹنے کے لیے رہنما اصول شامل ہیں ۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) نے گرین ٹگ ٹرانزیشن پروگرام (جی ٹی ٹی پی) شروع کیا ہے، جس کا مقصد کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور ماحولیاتی طور پر پائیدار ٹگ بوٹ آپریشنز کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرکے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا ہے۔ مزید برآں، حکومت نے بڑی بندرگاہوں کے لیے ہریت ساگر گائیڈ لائن اور اندرون ملک جہازوں کے لیے ہریت نوکا گائیڈ لائنز شروع کی ہیں ،جن کا مقصد سبز ٹیکنالوجی کو اپنانے کو فروغ دینا ہے۔
ایم او پی ایس ڈبلیو عالمی میری ٹائم انڈیا سمٹ، ساگرماتھن، چنتن شیویر، پوسٹ بجٹ انڈ سٹری میٹس، اور اسٹیک ہولڈر کی مشاورت، پالیسی سازوں، صنعت اور بنیادی سطح کی برادریوں کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے جیسے اعلیٰ سطحی پروگراموں کے ذریعے سمندری پالیسیوں کو بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ عالمی بحری رہنماؤں کے ساتھ باقاعدہ مصروفیات اور بین الاقوامی فورمز میں شرکت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہندوستان کی پالیسیاں عالمی معیارات پر پورا اترتی ہیں، جو ملک کو سمندری شعبے میں ایک کلیدی حیثیت فراہم کرتی ہیں ۔
******
U.No:9530
ش ح۔ش ب ۔ق ر
(Release ID: 2118946)
Visitor Counter : 11