اقلیتی امور کی وزارتت
وقف ترمیمی بل 2025: ہندوستان میں وقف کی تاریخ
Posted On:
03 APR 2025 6:55PM by PIB Delhi
‘وقف’ کی تعریف: کسی بھی شخص کی طرف سے کسی بھی منقولہ یا غیر منقولہ جائیدادکو کسی بھی مقصد کے لیے مستقل طور پر وقف کیا گیا ہوجسے مسلم قانون نے مذہبی حکم بجا لانے والا یا خیراتی ادارے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔1
تعارف
ہندوستان میں وقف قانون سازی کا ارتقاء وقف املاک کو ریگولیٹ کرنے اور ان کے تحفظ کے لیے ملک کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، جن کی سماجی، مذہبی اور اقتصادی اہمیت ہے۔ 1954 کے وقف ایکٹ سے شروع ہونے والے وقف املاک کو کنٹرول کرنے والے قانونی فریم ورک میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے اور بہتر انتظام کو یقینی بنانے کے لیے کئی برسوں ں میں کئی ترامیم کی گئی ہیں۔ حالیہ وقف ترمیمی بل- 2025 کا مقصد شفافیت کو بڑھانا، گورننس کے ڈھانچے کو بہتر بنانا اور وقف کے اثاثوں کو غلط استعمال سے بچانا ہے۔ ان قانونی اصلاحات نے وقف املاک کی انتظامیہ کو تشکیل دیا ہے اور عالمی سطح کے بہترین طریقوں سے ہم آہنگ کیا ہے۔
ہندوستان میں وقف املاک کا نظم و نسق اس وقت وقف ایکٹ 1995 کے تحت چلایا جاتا ہے، جسے مرکزی حکومت نے نافذ اور منظم کیا ہے۔ وقف انتظامیہ میں شامل اہم ایڈمنسٹریٹیو ادارے شامل ہیں:
- سینٹرل وقف کونسل (سی ڈبلیو سی) – اقلیتی امور کی وزارت کے تحت ایک مشاورتی ادارہ ہےجو پورے ملک میں وقف انتظامیہکی رہنمائی اور نگرانی کرتا ہے۔ اس کا وقف املاک پر براہ راست کنٹرول نہیں ہوتا ہے لیکن وہ حکومت اور ریاستی وقف بورڈ کو پالیسی معاملات پر مشورہ دیتا ہے۔
- ریاستی وقف بورڈ ( ایس ڈبلیو بی)-یہ بورڈ وقف املاک کے رکھوالوں کے طور پر کام کرتا ہے اور وقف ایکٹ کے مطابق ان کے انتظام، تحفظ اور استعمال کے ذمہ دار ہے۔ ہر ریاست کا اپنا وقف بورڈ ہوتا ہے، جو اپنے دائرہ اختیار میں وقف املاک پر انتظامی کنٹرول کا استعمال کرتا ہے۔
- وقف ٹربیونلز – وقف املاک سے متعلق تنازعات، سوالات اور دیگر معاملات کے تعین کے لیے خصوصی عدالتی ادارے قائم کیے گئے ہیں۔
یہ منظم انتظامی سیٹ اپ وقف املاک کی بہتر حکمرانی کو یقینی بناتا ہے اور وقف سے متعلق تنازعات کے فوری حل میں سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے نظام زیادہ موثر اور شفاف ہوتا ہے۔
ہندوستان میں وقف کی تاریخ کا ایک جائزہ
کئی برسوں کے دوران، وقف املاک کو کنٹرول کرنے والا ہندوستان کا قانونی اور انتظامی ڈھانچہ شفافیت، کارکردگی اور مالی جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف قانون سازی کے ذریعے تیار ہوا ہے۔
ہندوستان میں وقف املاک کی حکمرانی کو کئی قانون سازی کے ذریعے منظم کیا گیا ہے جس کا مقصد انتظامیہ کو بہتر بنانا اور بدانتظامی کو روکنا ہے:
1. مسلمان وقف کی توثیق کرنے والا ایکٹ-1913: اس ایکٹ نے مسلمانوں کے اس حق کو واضح اور تسلیم کیا کہ وہ اپنے خاندان اور اولاد کے فائدے کے لیے وقف قائم کر سکتے ہیں، جس کا حتمی مقصد فلاحی ہوگا۔
وقف کے انتظام کو مزید موثر اور شفاف بنانے کا مقصد۔
• تاہم، ایکٹ کے نفاذ کے دوران یہ محسوس کیا گیا کہ یہ ایکٹ وقف کی انتظامیہ کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت نہیں ہوا۔
2. مسلمان وقف ایکٹ-1923: وقف املاک کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے ان کے انتظام میں مناسب حساب وکتاب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا۔
3. مسلمان وقف توثیق ایکٹ- 1930: خاندانی وقف کی قانونی حیثیت کو تقویت دیتے ہوئے 1913 کے ایکٹ کوسیع تر کیا گیا۔
4. وقف ایکٹ، 1954: پہلی بار ریاستی وقف بورڈز ( ایس ڈبلیو بیز) قائم کیے گئے، جو وقف املاک کے منظم انتظام، نگرانی اور تحفظ کے لیے فراہم کرتے ہیں:
• وقف کو صرف آزادی کے بعد مضبوط کیا گیا ہے۔
• 1954 کے وقف ایکٹ نے وقف کی مرکزیت کی طرف ایک راستہ فراہم کیا۔
• سنٹرل وقف کونسل آف انڈیا- 1954 کے اس وقف ایکٹ کے تحت حکومت ہند نے 1964 میں ایک قانونی ادارہ قائم کیا تھا۔
•یہ مرکزی ادارہ مختلف ریاستی وقف بورڈز کے تحت کام کی نگرانی کرتا ہے جو وقف ایکٹ 1954 کے سیکشن 9(1) کے تحت قائم کیے گئے تھے۔
5. وقف ایکٹ-1954 (1959، 1964، 1969، اور 1984) میں ترامیم: ان ترامیم کا مقصد وقف املاک کے انتظام کو مزید بہتر بنانا ہے۔
6. وقف ایکٹ-1995: اس جامع ایکٹ نے- 1954 کے ایکٹ اور اس کی ترامیم کو منسوخ کر دیا۔
• وقف ایکٹ-1995 ہندوستان میں وقف املاک (مذہبی اوقاف) کی انتظامیہ کو چلانے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔
•یہ وقف کونسل، ریاستی وقف بورڈ اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے اختیارات اور افعال اور متولی کے فرائض بھی فراہم کرتا ہے۔
|
- یہ ایکٹ وقف ٹریبونل کے اختیارات اور پابندیوں کی بھی وضاحت کرتا ہے ، جو اپنے دائرہ اختیار میں دیوانی عدالت کے متبادل کے طور پر کام کرتا ہے۔
• وقف ٹربیونلز کو ایک دیوانی عدالت سمجھا جاتا ہے اور ان کو کوڈ آف سول پروسیجر- 1908 کے تحت سول عدالت کے ذریعے استعمال کیے گئے تمام اختیارات اور افعال استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
• ٹریبونل کا فیصلہ حتمی اور فریقین پر پابند ہوگا۔ کسی بھی سول عدالت کے تحت کوئی مقدمہ یا قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔ اس طرح وقف ٹربیونل کے فیصلے کسی بھی سول عدالت سے بالاتر ہوتے ہیں۔
7. وقف (ترمیمی) ایکٹ- 2013 میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں جن میں شامل ہیں:
• تین رکنی وقف ٹربیونلز کی تشکیل، جس میں مسلم قانون اور فقہ کا علم رکھنے والا شخص، شامل ہیں۔
• ریاستی وقف بورڈ میں دو خواتین اراکین کی شمولیت
• وقف جائیدادوں کی فروخت اور ہبہ کی ممانعت، ملکیت کی منتقلی کے امکانات کو محدود کرنا۔
- وقف املاک کے لیے لیز کی مدت میں 3 سال سے 30 سال تک توسیع، بہتر استعمال کی حوصلہ افزائی۔
8. وقف (ترمیمی) بل- 2025، اور مسلمان وقف (منسوخ) بل- 2024
• مجوزہ بل ایک جامع قانون سازی کی کوشش ہے جس کا مقصد وقف انتظامیہ کو جدید بنانا، قانونی چارہ جوئی کو کم کرنا اور وقف املاک کے موثر انتظام کو یقینی بنانا ہے۔
• مجوزہ ترامیم کا مقصد وقف ایکٹ- 1995 کی خامیوں کو دور کرنا اور 2013 (ترمیمی) ایکٹ کے ذریعے متعارف کرائی گئی بے ضابطگیوں کو دور کرنا ہے۔2
|
اقلیتی امور کی وزارت کی اسکیمیں
قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم (کیو ڈبلیو بی ٹی ایس) اور شہری وقف سمپتی وکاس یوجنا (ایس ڈبلیو ایس وی وائی) کو اقلیتی امور کی وزارت ( ایم او ایم اے) حکومت ہند کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں اسکیمیں ریاستی وقف بورڈ کے آٹومیشن اور جدید کاری کے لیے ہیں۔
•کیو ڈبلیو بی ٹی ایس کے تحت سرکاری گرانٹس ان ایڈ (جی آئی اے) ریاستی وقف بورڈز کوسی ڈبلیو سی کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے تاکہ وقف املاک کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ اور ڈیجیٹائز کرنے اور وقف بورڈ کے نظم و نسق کو بڑھانے کے لیے افرادی قوت کی تعیناتی کی جا سکے۔
• ایس ڈبلیو ایس وی وائی کے تحت وقف املاک پر تجارتی اعتبار سے قابل عمل پروجیکٹوں کو تیار کرنے کے لیے وقف بورڈز/ وقف اداروں کو بلا سود قرضوں کی مزید تقسیم کے لیےجی آئی اے سی ڈبلیو سی کے تحت فراہم کیا جاتا ہے۔
•کیو ڈبلیو بی ٹی ایس اور ایس ڈبلیو ایس وی وائی کے تحت بالترتیب 23.87 کروڑ روپے اور 7.16 کروڑ روپے 2019-20 سے 2023-24 تک خرچ کیے گئے۔
ہندوستان میں وقف املاک کا جائزہ:
ڈبلیو اے ایم ایس آئی پورٹل پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 30 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور 32 بورڈز نے اطلاع دی ہے کہ 8.72 لاکھ جائیدادیں ہیں، جن کا رقبہ 38 لاکھ ایکڑ سے زیادہ ہے۔ 8.72 لاکھ جائیدادوں میں سے 4.02 لاکھ جائیدادیں صارف کے ذریعہ وقف ہیں۔ باقی وقف املاک کے لیے، 9279 کیسوں کے لیے اونر شپ رائٹس اسٹیبلشنگ دستاویزات (ڈیڈز) ڈبلیو اے ایم ایس آئی پورٹل پر اپ لوڈ کیے گئے ہیں اور صرف 1083 وقف ڈیڈز اپ لوڈ کیے گئے ہیں۔
|



(14 مارچ 2025 تک کے اعداد و شمار)
ذرائع: https://wamsi.nic.in/wamsi/dashBoardAction.do;jsessionid=40F3DA0F79ED801CE30802EB0F326394?method=totalRegisteredProp
ریاست کے لحاظ سے وقف املاک کی تعداد اور رقبے سے متعلق اعدادو شمار (ستمبر 2024 تک)
نمبر شمار
|
ریاستی وقف بورڈ
|
املاک کی مجموعی تعداد
|
مجموعی رقبہ ایکڑ میں
|
1
|
انڈمان اور نکوبار وقف بورڈ
|
151
|
178.09
|
2
|
آندھرا پردیش ریاستی وقف بورڈ
|
14685
|
78229.97
|
3
|
آسام بورڈ آف وقف
|
2654
|
6618.14
|
4
|
بہار اسٹیٹ (شیعہ) وقف بورڈ
|
1750
|
29009.52
|
5
|
بہار اسٹیٹ (سنی) وقف بورڈ
|
6866
|
169344.82
|
6
|
چنڈی گڑھ وقف بورڈ
|
34
|
23.26
|
7
|
چھتیس گڑھ اسٹیٹ وقف بورڈ
|
4230
|
12347.1
|
8
|
دادرا اور نگر حویلی وقف بورڈ
|
30
|
4.41
|
9
|
دہلی وقف بورڈ
|
1047
|
28.09
|
10
|
گجرات اسٹیٹ وقف بورڈ
|
39940
|
86438.95
|
11
|
ہریانہ وقف بورڈ
|
23267
|
36482.4
|
12
|
ہماچل پردیش وقف بورڈ
|
5343
|
8727.6
|
13
|
جموں و کشمیر اوقاف بورڈ
|
32533
|
350300.75
|
14
|
جھارکھنڈ اسٹیٹ (سنی ) وقف بورڈ
|
698
|
1084.76
|
15
|
کرناٹک اسٹیٹ بورڈ آف وقف
|
62830
|
596516.61
|
16
|
کیرالہ اسٹیٹ وقف بورڈ
|
53282
|
36167.21
|
17
|
لکشدیپ اسٹیٹ وقف بورڈ
|
896
|
143.81
|
18
|
مدھیہ پردیش وقف بورڈ
|
33472
|
679072.39
|
19
|
مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف وقف
|
36701
|
201105.17
|
20
|
منی پور اسٹیٹ وقف بورڈ
|
991
|
10077.44
|
21
|
میگھالیہ اسٹیٹ بورڈ آف وقف
|
58
|
889.07
|
22
|
اڈیشہ بورڈ آف وقف
|
10314
|
28714.65
|
23
|
پڈوچیری اسٹیٹ وقف بورڈ
|
693
|
352.67
|
24
|
پنجاب وقف بورڈ
|
75965
|
72867.89
|
25
|
راجستھان بورڈ آف مسلم وقف
|
30895
|
509725.57
|
26
|
تمل ناڈو وقف بورڈ
|
66092
|
655003.2
|
27
|
تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ
|
45682
|
143305.89
|
28
|
تری پورہ بورڈ آف وقف
|
2814
|
1015.73
|
29
|
یو پی شیعہ سینٹرل بورڈ آف وقف
|
15386
|
20483
|
30
|
یو پی سنی سینٹرل بورڈ آف وقف
|
217161
|
|
31
|
اتراکھنڈ وقف بورڈ
|
5388
|
21.8
|
32
|
ویسٹ بنگال بورڈ آف وقف
|
80480
|
82011.84
|
|
Total
|
872328
|
3816291.788
|
نتیجہ:
ہندوستان میں 1913 سے 2024 تک وقف قانون سازی کا ارتقاء معاشرے کے فائدے کے لیے وقف املاک کے تحفظ اور ان کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک موثر انتظامی نظام کے قیام کے عزم کو نمایاں کرتا ہے۔ ہر قانون سازی میں وقف، وقف کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے عصری چیلنجوں سے نمٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وقف ترمیمی بل- 2024 شفافیت، جوابدہی اور شمولیت کو بڑھانے میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
براہِ کرم پی ڈی ایف ملاحظہ کریں
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:9481
(Release ID: 2118496)
Visitor Counter : 507