تعاون کی وزارت
دنیا کی سب سے بڑی اناج ذخیرہ کرنے کی اسکیم کے لیے پائلٹ پروجیکٹ
Posted On:
02 APR 2025 3:32PM by PIB Delhi
حکومت نے ملک میں غیرمرکزی غذائی اجناس کے ذخیرہ کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے 31 مئی 2023 کو دنیا کے سب سے بڑے زرعی اجناس کے ذخیرہ کے منصوبے کو منظوری دی، جو کہ کوآپریٹیو شعبے میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت پرائمری زرعی قرض سے متعلق سوسائٹیز (پی اے سی ایس) کی سطح پر مختلف زرعی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہے۔ اس میں غیرمرکزی گوداموں، کسٹم ہائرنگ مراکز، پروسیسنگ یونٹس، چھٹنی اور درجہ بندی کی سہولیات، کولڈ اسٹوریج یونٹس، پیک ہاؤسز وغیرہ کا قیام شامل ہے، جو کہ حکومت ہند کی مختلف موجودہ اسکیموں کے اشتراک سے مکمل کیا جا رہا ہے، جیسے کہ زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ (اے آئی ایف)، زرعی مارکیٹنگ بنیادی ڈھانچہ اسکیم (اے ایم آئی)، زرعی میکنائزیشن کا ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم)، چھوٹے پیمانے پر کھانے کو ڈبّہ بند کرنے والی کمپنیوں کو با ضابطہ بنانے کی پردھان منتری اسکیم (پی ایم ایف ایم ای) وغیرہ۔
یہ منصوبہ نقل و حمل اور تقسیم کے مسائل کو مقامی سطح پر غلہ ذخیرہ کرنے کی سہولت فراہم کرکے حل کرتا ہے، جس سے طویل فاصلے تک نقل و حمل کے اخراجات اور نقصانات کم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پی اے سی ایس کو زرعی منڈیوں اور خریداری کے نظام سے جوڑ کر، کسانوں کو براہ راست ذخیرہ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے انہیں درمیانی افراد پر کم انحصار کرنا پڑے گا۔ اس طرح، یہ منصوبہ کسانوں کو بہتر قیمت دلانے، ٹرانسپورٹیشن لاگت کو کم کرنے اور دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
منصوبے کے پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ملک بھر میں 11 پی اے سی ایس میں 11 گودام تعمیر کیے گئے ہیں، جن کی کل ذخیرہ کرنے کی گنجائش 9,750 میٹرک ٹن ہے۔
حکومت نے 15 فروری 2023 کو ملک میں کوآپریٹو تحریک کو مستحکم کرنے اور اسے جڑوں تک پہنچانے کے منصوبے کی منظوری دی۔ اس منصوبے میں پانچ سال کے اندر ملک کے تمام پنچایتوں/دیہاتوں میں 2 لاکھ نئی کثیرالمقاصد پی اے سی ایس (ایم- پی اے سی ایس)، ڈیری، فشری کوآپریٹو سوسائٹیز کے قیام کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے حکومت ہند کی مختلف موجودہ اسکیموں جیسے ڈیری بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ (ڈی آئی ڈی ایف)، ڈیری ترقی کیلئے نیشنل پروگرام (این پی ڈی ڈی)، پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) وغیرہ کے تحت فنڈنگ کی جا رہی ہے، جس میں زرعی اور دیہی ترقّی کیلئے نیشنل بینک (نابارڈ)، نیشنل ڈیری ترقی بورڈ (این ڈی ڈی بی)، ماہی پروری کی ترقی کے نیشنل بورڈ (این ایف ڈی بی) اور ریاستی حکومتوں کا تعاون حاصل ہے۔
نیشنل کوآپریٹو ڈیٹا بیس کے مطابق، 27 جنوری 2025 تک ملک بھر میں 3,667 نئی پی اے سی ایس رجسٹر کی جا چکی ہیں، جن میں مہاراشٹر میں 148 نئی پی اے سی ایس شامل ہیں، جو کہ 15 فروری 2023 کو منصوبے کی منظوری کے بعد عمل میں آئی ہیں۔ اس کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔
حکومت ہند نے تمام فعال پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کی بھی منظوری دی ہے، جس کے لیے کل مالی تخمینہ2,516 کروڑ روپئے رکھا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت، تمام فعال پی اے سی ایس کو ایک ای آر پی (انٹرپرائز ریسورس پلاننگ) پر مبنی مشترکہ قومی سافٹ ویئر سے جوڑا جا رہا ہے اور انہیں نابارڈ کے ذریعے اسٹیٹ کوآپریٹو بینکس اور ڈسٹرکٹ سینٹرل کوآپریٹو بینکس سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے لیے قومی سطح کا مشترکہ سافٹ ویئر نابارڈ نے تیار کیا ہے اور 27 جنوری 2025 تک 50,455 پی اے سی ایس کو ای آر پی سافٹ ویئر پر لایا جا چکا ہے۔ اب تک، 30 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 67,930 پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن کے لیے تجاویز منظور کی جا چکی ہیں، جس کے لیے 27 جنوری 2025 تک حکومت ہند کی طرف سے متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 741.34 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں اور 60,382 پی اے سی ایس کو ہارڈ ویئر فراہم کر دیا گیا ہے۔
یہ بات امدادباہمی کے وزیر جناب امت شاہ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہی۔
************
Annexure
S. No.
|
State/UT
|
Newly registered PACS
|
1.
|
Andaman And Nicobar Islands
|
1
|
2.
|
Andhra Pradesh
|
0
|
3.
|
Arunachal Pradesh
|
12
|
4.
|
Assam
|
59
|
5.
|
Bihar
|
25
|
6.
|
Chhattisgarh
|
0
|
7.
|
Goa
|
12
|
8.
|
Gujarat
|
291
|
9.
|
Haryana
|
2
|
10.
|
Himachal Pradesh
|
57
|
11.
|
Jammu And Kashmir
|
84
|
12.
|
Jharkhand
|
44
|
13.
|
Karnataka
|
128
|
14.
|
Ladakh
|
0
|
15.
|
Lakshadweep
|
0
|
16.
|
Madhya Pradesh
|
16
|
17.
|
Maharashtra
|
148
|
18.
|
Manipur
|
68
|
19.
|
Meghalaya
|
193
|
20.
|
Mizoram
|
25
|
21.
|
Nagaland
|
12
|
22.
|
Odisha
|
1,535
|
23.
|
Puducherry
|
2
|
24.
|
Punjab
|
0
|
25.
|
Rajasthan
|
760
|
26.
|
Sikkim
|
23
|
27.
|
Tamil Nadu
|
21
|
28.
|
Telangana
|
0
|
29.
|
Dadra and Nagar Haveli & Daman and Diu
|
4
|
30.
|
Tripura
|
38
|
31.
|
Uttar Pradesh
|
94
|
32.
|
Uttarakhand
|
0
|
33.
|
West Bengal
|
13
|
|
Total
|
3,667
|
***
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 9364)
(Release ID: 2118028)
Visitor Counter : 9